29

سندھ کے تعلیمی نظام پر ایک نگاہ

تحریر : سمیرا راجپوت
‎@Sumz_Rajput
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف جو بچوں کی بہبود کے لیے کام کرتے ہیں ان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ میں پانچ سے بارہ سال کی عمر کے چار ملین کے قریب بچے تعلم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں اس حوالے سے صرف یونسف ہی نہیں بلکہ چلڈرن کمپلینٹ آفس کی جانب سے بھی رپورٹ جاری کی گئی کہ پاکستان کے تمام صوبوں کا جب موازنہ کیا گیا تو صوبہ سندھ میں ایسے بچوں کی شرح سب سے ذیادہ ہے جو اسکول نہیں جاتے ۔۔
مجھے حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے معلوم ہوا کہ سرکاری اسکولز میں طالبات کی شرح صرف 31 فیصد ہے جس کی بہت بڑی وجوہات اسکولزمیں بنیادی سہولیات کا نہ ہونا ہے اسکول میں چھوٹی چھوٹی باؤنڈریز بجلی کا ناقص انتظام کمرہ جماعت میں طالب علم کی جگہیں جانوروں کا باندھے جانا بڑے ہی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ تعلیمی سطح پرسندھ کے اسکولز میں لڑکیوں کی کم تعداد بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے گزشتہ روز ہی سندھ حکومت کا ڈیسک اسکینڈل بھی سامنے آیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے نام پر بٹورا ہوا پیسہ کہاں جا رہا ہے
تعلیم کسی بھی قوم کے لیے بہت اہم ہوتی ہے جو انسانوں میں شعور کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی سنوارتی ہے تعلیم کے حسن سے محروم صوبہ سندھ کتنا ہی بدنصیب ہے یہاں 30 سال حکومت کرنے کے باوجود بھی صوبائی حکومت بجائے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے سندھ میں دن بدن تعلیمی نظام بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے یہاں تک کہ نویں اور دسویں بورڈ کے امتحانات میں بھی سامنے کھلی کتابیں رکھ کر امتحانات لیے جاتے ہیں اس صورتحال میں رہتے ہوئے بچوں میں تعلیم کا رحجان کس طرح بڑھے گا ؟؟؟
سکھر آئی بی ٹیسٹ کے زیر اہتمام جو ٹیسٹ لیے گئے اس قدر اسٹوڈنٹس گھنٹوں گھنٹوں قطاروں میں لگ کر زلیل و خوار ہوئے جو خواتین با پردہ رہ کر کام کرنا چاہتی ہیں اور اپنی فیملیز کو سپورٹ کرنا چاہتی ہیں ان کے خواب اس قدر چکنا چور ہوئے کہ ٹیسٹ اوٹ اف سلیبس اس طرح سے دیا گیا سب حیران تھے جو مضمون سرکاری اور پرائیویٹ اسکولز میں پڑھایا ہی نہیں گیا اس سبجیکٹ کو ٹیسٹ کا حصہ بنا دیا گیا پورے ٹیسٹ میں آئی بی والوں کی 43 غلطیوں کی بھی نشاندہی کی گئی مگر افسوس اس بات کا ٹیسٹ مشکل ہونے کے باجود بھی جب گورنمنٹ ٹیچر بھرتی کیے جائیں گے تو انہیں الف بے بھی ٹھیک طرح سے نہیں آتی ہوگی چاہے سندھ میں سرکاری اساتذہ کو چیک کرلیں ۔۔آج کے پڑھے لکھے اور قابل نوجوانوں کے لیے سرکاری نوکری ایک خواب بن کر رہ گیا ہے نوکری صرف رشوت ،کالے دھندے اور ضمیر کے دام بکتی ہے ۔۔۔
خیر جو ہونا تھا ہوگیا مگر کب تک ؟؟؟ کب تک یہ سب ہوتا رہے گا آج جو نوجوانوں کے ساتھ یہ ہوا کل مستقبل کے اور نوجوانوں کے ساتھ یہ سب ہوگا ہمیں اگر تعلیمی نظام کو بہتر کرنا ہے صوبے کی حکومت کے خاتمے کے لیے آواز اٹھانی ہوگی ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں