165

پاکستان اور ازبکستان کا امن

تحریر:سدرہ
@Sidra_VOIk
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ تاشقند (15 اور 16 جولائی) کے دوران پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں کے رہنماﺅں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی بات کی کیونکہ افغان طالبان اور کابل حکومت کے مابین داخلی کشمکش شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ افغانستان کی صورتحال پر ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوا کہ وسطی ایشیا کی ریاستوں‘ جیسے ازبکستان اور تاجکستان‘ کے خدشات پاکستان کے خیالات سے مختلف نہیں ہیں۔ یہ ریاستیں اور پاکستان‘ افغانستان میں پ±رامن داخلی سیاسی تصفیہ چاہتے ہیں۔پاکستان کی طرح ازبکستان اور تاجکستان بھی اپنے علاقوں میں افغانستان کے داخلی تنازع کے منفی اثرات پر پریشان ہیں۔ پہلے ہی کچھ افغان مہاجرین تاجکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ اگر افغانستان میں موجودہ تنازع بڑھتا ہے تو اندیشہ ہے کہ چار پڑوسی ریاستوں تاجکستان، ازبکستان، ایران اور پاکستان میں بھی افغان مہاجرین بڑی تعداد میں داخل ہوں گے۔ کچھ افغان مہاجرین ترکمانستان بھی جا سکتے ہیں‘ لیکن اندیشہ یہ ہے کہ زیادہ تر مہاجرین پاکستان اور ایران میں داخل ہوں گے۔ ماضی میں بھی یہی ہوا تھا۔ پاکستان کو گزشتہ چالیس برسوں کے اپنے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے افغان مہاجرین سے نمٹنے کی ضرورت ہوگی۔ انہیں کچھ خاص علاقوں‘ مہاجر کیمپوں تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے‘ بجائے اس کے کہ انہیں پاکستان بھر میں کہیں بھی جانے کی اجازت دے دی جائے، جیسا کہ ماضی میں کیا گیا تھا؛ تاہم اس پالیسی پر عمل درآمد پاکستان کیلئے مشکل ہوگا۔ کچھ افغان مہاجرین کے رشتے دار پاکستانی شہری کی حیثیت سے ملک کے مختلف علاقوں میں رہ رہے ہیں‘ کچھ دوست اور رشتے دار یہاں بطور پناہ گزین مقیم ہیں۔ نئے مہاجرین پاکستان میں اپنے تعلق داروں کے پاس جانا چاہیں گے‘ لہٰذا نئے افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد کے قریب پناہ گزین کیمپوں میں محدود رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔چونکہ کابل حکومت کو افغان طالبان کے چیلنج سے نمٹنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لہٰذا اندیشہ ہے کہ وہ اپنی ان پریشانیوں کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کردے گی۔ پہلے ہی کابل حکومت نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ پاکستان‘ افغان حکومت کے خلاف فوجی مہم میں افغان طالبان کی مدد کررہا ہے۔ الزام تراشی کا یہ کھیل شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ کابل حکومت کے سکیورٹی مسائل میں اضافہ ہونے کے خدشات ہیں۔ بھارت ان افغان دعووں کو بین الاقوامی سطح پر پھیلائے گا کیونکہ اس سے بھارت کو کابل حکومت کی حمایت حاصل کرنے اور پاکستان کو دباو¿ میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں