34

وزیرخزانہ شوکت ترین کا آف شورکمپنیوں کے حوالے سے بیان سامنے آگیا

اسلام آباد ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی اجازت سے سرمایہ کاری کیلئے کمپنیاں ضرور کھلی تھیں لیکن دوہزار چودہ،پندرہ کے درمیان بند ہوگئیں، ان کمپنیوں کا کوئی اکائونٹ کھلا نہ ہی کوئی ٹرانزیکشن کی گئی،کمپنیاں اس وقت کھلیں جب طارق ملک بن لادن کیلئے کام کرتے تھے۔
شوکت ترین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمپنیاں تب کھلیں جب فواد ملک، یو اے ای کی طارق بن لادن کمپنی کیلئے کام کرتے تھے، انہوں نے سلک بینک میں سرمایہ کاری کے لیے باقاعدہ اجازت لی تھی۔شوکت ترین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کا کوئی بینک اکائونٹ نہیں کھلا اور نہ ہی کوئی ٹرانزیکشن ہوئی، بعد میں جب خیال بدل گیا تو پھر کمپنیاں 2014 اور 2015 کے درمیان بند ہوگئی تھیں۔ان کا مزید کہناتھا کہ طارق بن لادن بڑے سعودی انویسٹر ہیں اور طارق فواد ملک یو اے ای کی طارق بن لادن کی کمپنی میں کام کرتے تھے۔اس حوالے سے براڈ شیٹ کیس کے اہم کردار طارق فواد ملک کا کہنا ہے کہ 2014 میں وہ مشرق وسطی کی ایک کمپنی سے منسلک تھے جو شوکت ترین کے بینک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی، اس سرمایہ کاری کی اجازت کے لیے ان کی کمپنی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مذاکرات کیے تھے۔ واضح رہے کہ طارق فواد ملک ان سوالات کا جواب دے رہے تھے کہ ایک ریکارڈ کے مطابق وہ چار آف شور کمپنیوں، ٹرائی پرنا، ہمرہ، مونین اور سی فیکس کا انتظام سنبھالتے ہیں، جو مبینہ طور پر شوکت ترین اور ان کے تین اہلِ خانہ کے نام پر ہیں، یہ کمپنیاں سی شیلز ، آئل آف مین میں 2014 میں رجسٹرڈ ہوئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں