48

شہباز شریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ تھا ہی نہیں

اسلام آباد(آئی پی ایس ) مشیر داخلہ احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف کیخلاف برطانیہ میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، ان کیخلاف منی لانڈرنگ کا فیصلہ پاکستان کی عدالت سے آنا ہے۔تفصیلات کے مطابق مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عدالت نے شہباز شریف کیس کا 2 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کیا، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے فیصلہ 10 ستمبر کو جاری کیا، فیصلہ 2 اکاونٹس کو منجمد کرنے سے متعلق تھا، سلمان شہباز کے 2 اکاونٹس منجمد کرنے کا آرڈر تھا، اس پورے آرڈر میں شہباز شریف کا نام نہیں تھا، برطانوی عدالت نے بریت کا کوئی فیصلہ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ ستمبر 2019 کو ذوالفقار، سلیمان کے اکاونٹس منجمد کرنے کا فیصلہ آیا، شہباز شریف کیخلاف برطانیہ میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، تاثر دیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف سرخرو ہوگئے، شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کے 2 مقدمے پاکستان میں چل رہے ہیں، شہباز شریف کے سرخرو ہونے کی منطق پر حیران ہوں، نیشنل کرائم ایجنسی نے اس معاملے پر پاکستان سے کچھ نام شیئر کیے، کرائم ایجنسی شک کی بنیاد پر اکانٹ 12 ماہ کیلئے منجمد کرسکتی ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن )کے صدر وسابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے برطانوی عدالت نے بری ہونے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ میں اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کرتا ہوں اور فخر محسوس کر رہا ہوں۔ آج کے فیصلے نے مجھے اور نواز شریف کو بری نہیں کیا بلکہ پاکستان کو بھی کیا ہے۔ سچ کی طاقت جھوٹ سے زیادہ ہے۔واضح رہے کہ شہبازشریف،سلیمان شہباز کے بینک اکاؤنٹس دسمبر2019 میں عدالتی حکم پر منجمد کیے گئے تھے۔ شہباز اور سلیمان کے بینک اکاؤنٹس کو اعلیٰ درجے کی تحقیقات سے مشروط کیا گیا تھا ان اکاؤنٹس کو پاکستان کی برطانوی حکومت سے کرپشن کا پیسہ واپس لانے کی درخواست کے بعد منجمد کیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شریف کے منجمد بینک اکاؤنٹس کی تحقیقاتی رپورٹ ویسٹ منسٹر کورٹ میں جمع کرائی۔رپورٹ کے مطابق شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ، کرپشن اور مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ 21 ماہ کی تحقیقات میں 20 سال کے مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔برطانوی ایجنسی نے حکومت پاکستان، نیب اورایسٹ ریکوری یونٹ کی درخواست پر تحقیقات شروع کی تھیں، تحقیقات کے دوران شہباز شریف اور شریف خاندان کے برطانیہ اورمتحدہ عرب امارات میں اکاؤنٹس کی چھان بین کی گئی۔عدالت نے شہباز شریف اور ان کے خاندان کو منی لانڈرنگ اورمجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات سے بری کردیا اور منجمد اکاونٹس بھی بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں