Friday, March 1, 2024
ہومکالم وبلاگزسردار سیاب خالد کی یاد میں

سردار سیاب خالد کی یاد میں

تحریر:سردار علی شاہنواز خان

سردار سیاب خالد صاحب کے انتقال کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالے انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ ِنا لِلہِ وِنا ِلیہِ راجِعونان کی رحلت سے قوم ایک نہایت ہی بالغ نظر سیاست دان اور قانون دان سے مرحوم ہوگئی ہے۔ وہ ہمارے ان بزرگوں کی آخری نشانی تھے۔ جو اس خطے کی تاریخ اور سیاست کیچشم دید گواہ تھے بلکہ خود ایک چلتی پھرتی تاریخ تھے۔ انہوں نے ایک روایتی پونچھی گھرانے میں آنکھ کھولی لیکن محنت، ایمانداری اور مسلسل سیاسی جدوجہد کے ذریعے اعلی تعلیم بھی حاصل کی اور سیاست میں ممتاز مقام بھی حاصل کیا۔ قانون ساز اسمبلی کے سپیکر رہے۔وزیرقانون کے علاوہ کشمیر کونسل کے رکن بھی رہے لیکن مرتے دم تک دامن پر کرپشن اور بدعنوانی کا کوئی داغ نہ تھا۔ حالانکہ ان عہدوں پر فائر کئی ایک شخصیات کی نسلیں بھی دولت کی ریل پیل دیکھ رہی ہیں۔مرحوم سیاب خالد نے خداداد جرات و استقامت اور عزم و استقلال کے ساتھ عوامی حقوق اور جمہوریت کی بحالی اور کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔

وہ آزادکشمیر اور بالخصوص ضلع پونچھ کی سیاسی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہیں۔ اور ارباب سیاست ان کی جدوجہد سے ہمیشہ راہ نمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ہر فورم پر انہوں نے آزادکشمیر کے لوگوں کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی۔ہماری پہلی ملاقات برطانیہ کے ہاس آف کامنز میں منعقد ہونے والی ایک کشمیر کانفرنس میں ہوئی جہاں میں نارویجن پارلیمنٹ کے سپیکر کے ہمرا شریک تھا۔ کانفرنس میں سردار سیاب خالد صاحب نے بطور سپیکر آزادکشمیر قانون ساز اسبلی بڑی خوبصورت اور مدلل گفتگو کی جسکے بعد نارویجن پارلیمنٹ کے سپیکر نے انہیں اسلو پارلیمنٹ کے دورے کی بھ دی۔ مرحوم و محترم سیاب خالد صاحب سے میرا تعلق یہاں ہی سے استوار ہوا۔ وہ کانفرنس میں سے میری شالمیت اور میری گفتگو پر بہت خوش ہوئے ہمارے ریجن سے انکے علاوہ صرف میں ہی کانفرنس میں شریک تھا۔ کانفرنس میں کھانے کے وقفے کے دوران خود میرے پاس تشریف لائے اور ایک شفیق بزرگ کی طرح گلے لگا کر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے علاقے کا مسقبل بن سکتے ہو، مزید محنت کرو۔رفتہ رفتہ ان کے ساتھ تعلق گہرا ہوتاگیا۔ میرے والد سابق چیرمین مرحوم سردر شاہنواز خان کا سردار سیاب خالد کے ساتھ پرانی دوستی تھی۔ چنانچہ اپنے بچوں کی طرح میرا خیال کرتے۔ فون پر بھی اکثر سیاسی مشورہ کرتے۔ بہت شفقت کرتے اور اکثر اصرار کرتے کہ میں واپس آجا ئو ں تاکہ وہ مجھے حلقہ میں متعارف کرا سکیں ۔

سیاست میں حصہ لینے کی تلقین کرتے۔ کہتے تھے کہ ناروے کی سیاست میں حاصل کردہ تجربے کو اپنے لوگوں کے لیے استعمال کرو۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے ہر ممکن کردار ادا کروں گا۔ افسوس! ان کی زندگی میں یہ وعدہ پورا نہ کرسکا۔ مرحوم سردار سیاب خالد کو کو قدرت نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ بیک وقت ایک بلند پایہ قانون دان،دیوقامت سیاست دان، منجھے ہوئے پارلیمنٹیرین اور عوام دوست راہنما تھے۔ ان ہی خوبیوں کی بدولت انہوں نے سردار محمد ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم خان جیسے قد آور سیاست دانوں کی موجودگی میں بھرپور سیاسی کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے آپ کو ان بزرگوں سے بھی منوایا۔افسوس! آج آزاد جموں وکشمیر کی سیاست کا ایک روشن باب تمام ہوگیا ہے۔ایک ایسا انسان آنکھوں سے اوجھل ہوگیا جو بغیر کسی سفارش اور پیسہ کے محض اپنی محنت سے اعلی ترین منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

وہ حکومت سے نکلتے تو سیدھے راولاکوٹ کچہری پہنچ جاتے۔ عدالتوں میں پیش ہوتے تاکہ روزی روٹی کا سلسلہ چلتارہے۔ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ایسے لوگ اب۔آج سردار سیاب خالد ہم میں نہیں رہے لیکن ان کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ سردار سیاب خالد کی سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔

مضمون نگار کشمیری سینکڈے نیوین کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔