17

سکولز بند کرنے کا حکومتی فیصلہ،پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز ڈٹ گئیں

اسلام آباد،نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولزکے مرکزی صدر چودھری عبیداللہ نے حکومت کی جانب سے چھ ستمبر سے گیارہ ستمبر تک تعلیمی اداروں کی بندش کے حالیہ فیصلے کو یکسر مسترد کردیاہے اور کہاہے کہ سرکاری اعدادو شمارکے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 65فیصد شہریوں کی ویکسینیشن کا دعوی کیا گیاہے اگر ایسا ہے تو پھر تعلیمی اداروں کی بندش کا جواز باقی نہیں رہتا، فیصلہ سے لگتاہے یا حکومتی اعداد وشمار غلط ہیں یا پھر حکومت تعلیمی اداروں کی تباہی کے ایجنڈے پر گامزن ہے،بڑی مشکل سے بچوں کو تعلیمی ماحول میں ایڈجسٹ کرتے ہیں ساتھ ہی بندش کے نادرشاہی احکامات آجاتے ہیں، ملک میں تعلیم کے ساتھ کھلواڑ بند اور ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے۔
ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز این سی او سی کی جانب سے چھ ستمبر سے گیارہ ستمبر تک ملک بھر کے نجی وسرکاری تعلیمی ادارے مزید بند رکھنے کے اعلان کے ردعمل میں ایسوسی ایشن کے رہنمائوں پیٹرن اِن چیف چوہدری جاوید اقبال، کوچیئرمین ملک عمران، سینئر نائب صدر زاہد بشیر ڈار، جنرل سیکرٹری عطرت نقوی، نصیب اکرام وڑائچ، ڈاکٹر کامران نواب و دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چودھری عبیداللہ کا کہنا تھاکہ ملک میں کورونا کی آڑ میں تعلیمی سلسلہ منقطع اور تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے،گزشتہ دوسال سے ملک میں تعلیمی تسلسل قائم نہ رہنے کی وجہ سے بچوں کاتعلیم سے دل ہی اچاٹ ہوچکاہے جس سے آنے والے وقت میں ملک کوناقابل تلافی نقصان کا خدشہ پہلے ہی پیدا ہوچکاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے دعوی کیا ہے کہ اسلام آباد کی65فیصد آبادی نے کورونا سے بچاو کی ویکسینیشن کرالی ہے اگر یہ دعوی سچ ہے تو پھر تعلیمی ادارے بند کرنے کا کیا جواز ہے؟۔ ان کا کہنا تھاکہ بظاہر ایسا لگتاہے کہ حکومتی دعوے بے بنیاد ہیں اور کورونا سے بچاو کی ویکسین کے اہداف پورے نہیں ہوے ہیں جس کی وجہ اب پھر تعلیمی اداروں کو تختہ مشق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی اداروں کی بندش کے کسی بھی فیصلے سے گریز کرے اور ملک میں اس شعبہ کو مزید تباہی کی جانب دھکیلنے سے باز رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں