safa gold mall 32

صفا گولڈ مال کرپشن کیس :مالک رانا قیوم کو 7 سال قید اور ایک ارب جرمانہ

اسلام آباد، احتساب عدالت نے صفا گولڈ مال عمارت کرپشن کیس کا فیصلہ سنادیا ،سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی ڈی اے غلام مرتضی ملک کو 5 سال قید کی سزا ،شاپنگ سینٹر کی غیر قانونی منزلیں بنانے والے مالک رانا قیوم کو 7 سال قید اورایک ارب روپے جرمانہ عائد کردیا ۔سی ڈی اے افسران عمار ادریس، خلیل احمد، خادم حسین کو بھی قید کی سزا سنا دی گئی۔غلام مرتضی سمیت کیس میں ملوث تمام مجرموں کو احتساب عدالت اسلام آباد کے کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے نیب ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔ مجرمان پر عمارت کی غیرقانونی منزلیں بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم ثابت ہوا۔عدالت نے صفا گولڈ مال کے آخری 4 منزلوں کو ریاستی ملکیت قرار دے دیا۔عدالت نے کہا کہ ڈائریکٹر سی ڈی اے چار منزلوں کے کرائے کا تعین کرے اورمرکزی ملزم رانا عبد القیوم ان 4 منزلوں کا کرایہ جمع کرائیں جو وہ پہلے وصول کرتے رہے۔واضح رہے کہ 2018 میں سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں واقع صفا گولڈ مال کے دو فلور سیل کر دیے تھے، حکام کے مطابق دونوں فلور غیر قانونی طورپر تعمیر کیے گئے تھے ،فلور سیل کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی،درخواست گزار نے کہا تھا کہ نیب نے صفا گولڈ مال کے تین فلورز کو سیل کیا،چیئرمین نیب کے احکامات پر نیب نے صفا گولڈ مال کے تین منرل کو سیل کیا،صفا گولڈ مال کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس ابھی زیر سماعت ہے،احتساب عدالت کے فیصلے تک نیب کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا تھا کہ احتساب عدالت کے 2017 کے فیصلے کو تو آپ نے چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ احتساب عدالت کے 2017 کے فیصلے کو ہم نے چیلنج کیا ہے،احتساب عدالت کے جج نے فیصلے میں قانونی نقاط کو مدنظر نہیں رکھا، نیب نے اپنے نوٹس میں کہا بھی نہیں کہ کہ وہ مزید فلورز کیوں سیل کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں