12

معروف خواتین صحافیوں ، اینکرز، شعرا و ادیبا نے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کر دیا

اسلام آباد،پاکستان کی معروف خواتین صحافیوں ، اینکرز، شعرا و ادیبا نے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو میڈیا کنٹرول اتھارٹی قرار دیتے ہوے اسے مسترد کر دیا ہے، مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں آزادی صحافت سلب اور میڈیا ورکرز کے معاشی قتل کے بعد اب حکومت (پی ایم ڈی اے )کے قیام سے ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے جہاں آنکھ ، کان اور زبان بند کر دی جائے۔ اگر فواد چودھری ورکرز صحافیوں سے عملی ہمدردی کرنا چاہتے ہیں تو اخباری مالکان نے معاشی بحران کے نام پر جن ورکرز کو نکالا تھا انہیں بحال کرانے اور ان ورکرز کے خون پسینے کی محنت والی تنخواہوں سے کاٹی گئی رقوم بقایا جات کی صورت میں واپس دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے پارلیمنٹ ہاس کے سامنے 12 ستمبر کو آزادء صحافت دھرنا کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ فی میل جرنلسٹس پریس فریڈم ویبینار سے خطاب کرتے ہوے کیا۔ مقررین میں پاکستان کی نامور شاعرہ، مصنفہ و کالم نگار کشور ناہید ، ناصرہ زبیری، سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے فوزیہ شاہد،سینئر صحافی و اینکر عاصمہ شیرازی ،امبر شمسی ، منیزے جہانگیر،غریدہ فاروقی ، نادیہ مرزا ،نادیہ نقی،عائشہ بخش،ثنا ہاشمی،تنزیلہ مظہر،ابصا کومل، شکیلہ جلیل،فوزیہ کلثوم رانا،فرزانہ علی،عفت حسن رضوی،نادیہ راجہ،سحرش کھوکھر،عائشہ ناز،سیماب ستی،افشاں قریشی،عائشہ خالد،جویریہ صدیق،مونا خان،آمنہ علی الپیال،فرح ناز،فائزہ شاہ کاظمی،شازیہ نیئر ،ثوبیہ مشرف،شمیم اشرف،انیلا محمود،عمرانہ کوملروبینہ شاہین، قرات العین حیدر، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی نائب صدر مائرہ عمران، پی آر اے کی واک آٹ کمیٹی کی چیرمین نیر علی شامل تھیں علاوہ ازیں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، سابق سیکرٹری جنرل مظہر عباس، آر آئی یو جے کے جنرل سیکرٹری طارق ورک ، صدر عامر سجاد سید ، سابق صدور علی رضا علوی، مبارک زیب خان ، صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم، سیکرٹری انور رضا ، سابق صدر طارق چودھری اور چیرمین ایکشن کمیٹی افضل بٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔اتوار کو راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ملک گیر خواتین صحافیوں کا ویبینار منعقد کرایا۔ جس میں40 کے قریب خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔اس موقعے پر صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ ہتھکنڈے ہمارے آزمائے ہوئے ہیں۔ ہم پہلے بھی نہیں جھکے تھے اب بھی نہیں جھکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ حکومتی اجلاس میں وزرا کی جانب سے سینئیر صحافیوں کی تذلیل سے یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب بڑے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ حکومت ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتی ہے جہاں آنکھ کان زبان بند کر دی جائے۔آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ احتجاج ہو گا اور ہم آزادی کی آخری حد تک جائیں گے۔ یو ٹیوبرز کے ذریعے سینئیر صحافیوں کی تذلیل کرائی گئی، ان کے خلاف ٹرینڈز بنوائے گئے۔انہوں نے مزید کہا حکومتیں آتی جاتی رہیں گی لیکن صحافتی تنظیمیں ہمیشہ رہیں گی۔ویبینار میں کشور ناہید نے کہا کہ میڈیا پر پابندیوں کا آغاز جنرل ایوب کے دور سے ہوا جنرل ضیا کے دور میں پابندیاں عروج پہ تھیں ہر قسم کی سینسر شپ تھی لیکن موجود حکومت نے انتہا کر دی ہے۔صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ حکومت اب پی ایم ڈی اے کے ڈرافٹ سے مکر رہی ہے اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ صحافیوں کو اس پر بریفنگ دی جائے گی۔ وزیر اطلاعات کہتے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سر پہ ہر وقت قومی سلامتی کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، قومی سلامتی کے نام پر پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اپنی اجارہ داری رکھے گی یہ ڈکٹیٹرشپ کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ورکنگ صحافی اور وی لاگرز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔’سابق سیکرٹری راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس علی رضا علوی نے مسودے کے اہم نکات بتائے۔انہوں نے کہا کہ مسودے کے مطابق اتھارٹی ایک چئیرمین جب کہ 11 اراکین پر مشتمل ہو گی۔ اتھارٹی کے حکم کو کسی نچلی عدالت یا ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور متعلقہ فورم سپریم صرف کورٹ ہو گی۔علی رضا علوی نے مزید بتایا کہ حکومت پرنٹ ، الیکٹرونک، ڈیجیٹل میڈیا اور فلم کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ مسودے کے مطابق تمام افراد اپنے یو ٹیوب اور انسٹا گرام کے لیے بھی پہلے اتھارٹی سے لائسنس حاصل کریں گے جس میں شرائط درج ہوں گی۔ شرائط پر عمل نہیں ہو گا تو لائسنس کینسل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام کے بعد پیمرا اور میڈیا آرڈیننس بھی ختم اور غیر فعال ہو جائیں گے۔ ڈیجیٹل میڈیا کا سب مواد اتھارٹی کے تابع ہو گا ورنہ وہ غیر قانونی تصور ہو گا۔اس موقعے پر صحافی مظہر عباس نے اضافہ کیا کہ کتابوں کی اشاعت پر بھی اس اتھارٹی کا اختیار ہو گا۔علی رضا علوی کے مطابق مسودہ وزارت قانون بھجوا دیا گیا ہے۔صحافی نادیہ مرزا نے کہا کتنی بھی کوششیں کر لی جائیں لیکن صحافت کی حرمت کو قائم رکھنے کے لییمتحد ہونا ضروری ہیسینئر صحافی ناصرہ زبیری نے کہا کہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بل کی ضرورت کیا ہے اور اس کی سمت کیا ہو گی بہت چیزیں تو پہلے ہی ان کے ہاتھ میں ہے سوشل میڈیا پر تو آزادی ہے پرنٹ میڈیا نے بہت جد و جہد کی ہے ہمیں بتایا دیا جائے کہ کون کون سے نو گو ایریاز ہیں ہم صحافتی اقدار سے اچھی واقف ہیں کچھ ایسے صحافی ایسے ہیں جو حکومت کو پسند نہیں کیونکہ وہ معاشرتی معاملات کی بات کرتے ہیں ہمیں اپنے ملک،مذہب اور سرحدوں سے پیار ہے لیکن خبر دینے کی آزادی ہونی چاہیے ،سینئر صحافی منیزے جہانگیر نے کہا کہ آج کی صحافت اینکرز ازم بن چکی ہے سابق فاٹا کے صحافیوں کو کیوں وہاں سینکالا گیا ہے آنے والے دور میں اچھی صحافت کا ہونا بہت ضروری ہیہم زبان بندی کر کے چائنہ اور سعودی عرب کی طرح سے نہیں بیٹھ سکتے صحافی عائشہ بخش نے کہا کہ سوال پر ہی پابندی لگائی جا رہی ہے حکومت چاہتی ہے کہ صحافت ایسے ہونی چاہیے جیسے ہم چاہتے ہیں پہلے قوانین موجود ہیں اس پر عمل تو کیا جائے اب ہمارا سوال کرنا ہی جرم بن جائے گا صحافیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لالچ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ صحافی کو سوال کرنے کی اجازت دی جائے،اگر حکومت نے ہی صحافیوں کے کام خود کرنے ہیں تو صحافی کیا کریں گیتنزیلہ مظہر نے کہا کہ صحافیوں کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے باقی جو ہیں ان کا استحصال کیا جا رہا ہے ہم تنگ دستی برداشت کر لیں گے لیکن صحافت کو بچائیں گے آزادی اظہار ہم سب کا حق ہے ہم سب نے ملکر اس حق کوبچانا ہے سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جیفوزیہ شاہد نے کہا کہ ہم نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے ہمیں اپنی صحافت کی آزادی کے جنگ لڑنی ہے سینئر صحافی مظہر عباس نے پی ایف یو جے کے سابق قائدین کی جد و جہد کے بارے میں ویبینار کے شرکا کو تفصیل سے آگاہ کیا انہوں نے آزادی صحافت کے لیے کیا قربانیاں دیں اور حکومت کی طرف سے انہیں کیا نوٹسز ملتے رہیسیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی صحافت پابند سلاسل رہی ہے اور پی ایف یو جے نے جد و جہد کا راستہ اختیار کیا اور ان قوتوں کا مقابلہ کیا جو صحافت کو دبانا چاہتے تھے صحافیوں کا معاشی قتل ہوتا رہا ہے یہ جنگ ہم نہیں لڑنا چاہتے تھے لیکن یہ ان قوتوں نے شروع کی ہے جو آزادی صحافت نہیں چاہتے صحافی اپنا حق لینے کے لیے میدان عمل میں رہیں گے صحافیوں کو دبانے کے لیے قوانین بنتے رہے ہیں جن کے خلاف ہم جنگ لڑتے رہے ہیں ملک میں غیر اعلانیہ سینسر شپ ہے ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے پریس پر پابندیاں ہمیں قابل قبول نہیں ہے آمروں نے جو قوانین بنائے تھے وہ ان کے جانے کے بعد ہی چلے گئے تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے ڈنڈا چلانے کی کوشش کی جارہی ہے ملک میں گزشتہ تین سالوں میں ہزاروں صحافی بے روزگار ہوئے،تنخواہوں میں کٹوتیاں کی گئیں پریس کو زنجیریں پہنائی گئی زنجیروں کو توڑیں گے ہم صحافیوں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ہم اس تحریک کو کامیاب کروائیں گے انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کی لیڈر شپ منتخب ہوتی فواد چوہدری کٹھ پتلی ہے پیچھے ڈوریاں ہلانے والے اور ہیں ہمیں پتہ ہے جد و جہد کے راستے کھٹن ہوتے ہیں ان کے علاہ دیگر صحافیوں نے بھی اظہار خیال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں