9

فطرت سے ہم آہنگی ، ” کرہ ارض پر زندگیوں کے ہم نصیب معاشرے” کی ابتدائی ضامن ہے، رپو رٹ

بیجنگ (ما نیٹر نگ ڈیسک)
جنکگو، جو پنکھے کی شکل والے سنہرے پتے سے موسم خزاں کو روشن بناتا ہے،چین کا ایک منفرد اور نایاب پودا ہے۔پانڈا جو اپنی خوبصورت شکل و صورت کی وجہ سے دنیا بھر کے عوام کا دل جیت لیتا ہے،بھی چین کا منفرد نایاب جانور ہے۔اسے چین میں نایاب حیاتیات کے تحفظ کا ایک نمایاں ثمر ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ پانڈا اب معدوم ہونے والے جانوروں کی فہرست سے نکل چکا ہے اور جنکگو درخت کی خوبصورتی بھی چین میں شاہراہوں کے اطراف میں چارسو دکھتی ہے۔یہ چین میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی محض ایک مثال ہے۔ اس میں بلاشبہ سرکاری سطح پر سرپرستی اور لازمی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کا بھی اہم کردار ہے۔انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی چین کی ایک عمدہ روایت ہے جو عوام کے “ثقافتی جین” میں زندہ ہے۔حالیہ دنوں چین کے شہر کھون منگ میں منعقدہ حیاتیاتی تنوع کنونشن کے فریقوں کی 15 ویں کانفرنس میں” کرہ ارض پر زندگیوں کے ہم نصیب معاشرے” کی تعمیر کی تجاویز پیش کی گئیں جو سرکاری سطح پر کی جانے والی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ساتھ ساتھ چینی عوام کے دل و دماغ میں تعلیم،ذرائع ابلاغ نیز سیاحت کے شعبے سے بھی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا شعور اجاگر کیا گیا ہے اور اسے عوامی سطح پر ” کرہ ارض پر زندگیوں کے ہم نصیب معاشرے” کا ابتدائی ضامن قرار دیا گیا ہے۔
تعلیمی شعبے کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو کنڈرگارٹن میں بچوں کو ایک کھیل سکھایا جاتا ہے ،یعنی موسم خزاں میں گرے پتوں کو جمع کر کے تصاویر بنائی جاتی ہیں۔یوں پتے جمع کرتے وقت بچوں کو فطرت کے مشاہدے کا موقع ملتا ہے اور فطرت سے محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جامعات میں بھی طلباء حیاتیاتی تحفظ کے لیے کوششیں کرتے آ رہے ہیں۔ پیکنگ یونیورسٹی ،جو چین کی اعلیٰ ترین جامعات میں شامل ہے،میں طالب علموں کی ایسی تنظیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو کیمپس میں نباتات اور حیوانات سے متعلق معلومات کو عام کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔شائد انہی کوششوں کی مدد سے پیکنگ یونیورسٹی کے کیمپس میں حیاتیاتی نظام کا بہتر تحفظ کیا گیا ہے اور حالیہ دنوں کیمپس کو “حیاتیاتی تنوع کنونشن” کے فریقوں کی پندرہویں کانفرنس کے تحت ایک سیمینار میں “حیاتیاتی تنوع کے مثالی کیسز ” کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے میدان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی بڑی کوششیں ہو رہی ہیں۔سرکاری میڈیا کی جانب سے چائنا میڈیا گروپ نے حالیہ برسوں حیاتیاتی تحفظ سے متعلق “مشترکہ گھر” اور “نیشنل پارکس ” جیسے کئی دستاویزی پروگرام پیش کیے ہیں۔سوشل میڈیا پر عوام کو فطرت سے متعلق معلومات سے روشناس کروانے کے لیے مختلف اکاؤنٹس ، مضامین انتہائی مقبول ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی معروف شخصیات بھی فطرت سے وابستہ معلومات کو شیئر کرنے میں مصروف ہیں۔سوشل میڈیا سمیت روایتی ذرائع ابلاغ میں پانڈا،ہاتھیوں،نادر نباتات جیسے موضوعات پر خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں، یوں سرکاری میڈیا اور عوامی ذرائع کی مشترکہ کوششوں سے حیاتیاتی تحفظ سے متعلق لوگوں کے شعور کو بلند کیا گیا ہے۔
تعلیم اور میڈیا کے علاوہ،سیاحت کے شعبے میں بھی حیاتیاتی تنوع کا تحفظ لوگوں کی دلچسپی کا ایک اہم نکتہ بن چکا ہے۔ کووڈ-۱۹ کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔لیکن جہاں چیلنجز ہیں ،وہیں مواقع بھی مل سکتے ہیں۔کئی سیاحتی ادارے اسی چیلنج کے سامنے ایک نئے راستے کی تلاش میں کامیاب ہوئے ہیں اور سیاحوں کو فطرت سے آگاہ کرنے کی خدمات فراہم کی جانے لگی ہیں ۔وبائی صورتحال کے پیش نظر اس وقت لوگ دوردراز علاقوں کی سیاحت کے بجائے قریبی علاقوں میں سیر کو ترجیح دینے لگے ہیں اور اپنے آس پاس فطری ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے مواقع بھی حاصل کرتے ہیں۔پارکس کی انتظامیہ بھی ایسی لازمی معلومات فراہم کرتی ہے ۔آج کل کئی باغات میں پرندوں،پھولوں یا پودوں کی خوبصورت تصاویر کی نمائش کی جاتی ہے جس سے لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ فطرت سے متعلق معلومات بھی حاصل ہو تی ہیں۔
حال ہی میں چین نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا پہلا وائٹ پیپر جاری کیا،جس سے ظاہر ہوتا کہ چین نہ صرف اپنے ملک میں ،بلکہ عالمی سطح پر بھی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد فراہم کررہا ہے۔دی بیلٹ اینڈ روڈ کی سرسبز ترقی سے لے کر حیاتیاتی تحفظ کے بگ ڈیٹا پلیٹ فارم کی تعمیر تک،کاربن پیک اور کاربن نیوٹرل کے وژن سے لے کر ترقی پذیر ممالک میں کم کاربن ترقی کی مدد تک،چین ” کرہ ارض پر زندگیوں کے ہم نصیب معاشرے”کی تعمیر میں اپنا عملی کردار ادا کرتا آرہا ہے۔فطرت اور انسانیت کی ہم آہنگ بقائے باہمی سے لے کر “سرسبز پہاڑ سونے کے پہاڑ ،شفاف دریا چاندی کے دریا ہیں”کے تصور تک،چین اپنے قدیم روایتی فلسفے سے لے کر جدید ترقیاتی تصور تک ، دنیا کے لیے اپنی دانشمندی فراہم کرتا آر ہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی منصوبہ بندی کے سربراہ اجیم سٹینر نے نو تاریخ کو چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے وقت نشاندہی کی کہ چین میں حیاتیاتی تحفظ کا ایک مقبول ہوتا رجحان اطمینان بخش ہے ۔یہ واقعی بہت اہم ہے کہ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کے حامل ملک میں تمام لوگ حیاتیاتی تحفظ پر توجہ دیتے ہیں ۔چینی لوگوں کے دلوں میں اس شعور کی جڑیں قدرے گہری ہیں کہ فطرت اور انسانیت کا ایک اٹوٹ تعلق ہے ،یہ حیاتیاتی تحفظ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں