Quaid E Azam University Islamabad 22

قائد اعظم یونیورسٹی کو فلیگ شپ ادارہ قرار دیا جائے، کورکمیٹی اجلاس

اسلام آباد ،قائداعظم یونیورسٹی ایلومنائی ایسوسی ایشن نے 600 ملین روپے سالانہ خسارے پر قابو پانے اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے معاملات میں بیرونی مداخلت کے خاتمہ کے لیے خصوصی بیل آوٹ پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ ایلومنائی ایسوسی ایشن کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں مادر علمی کو درپیش مسائل زیر بحث لائے گئے ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جامعہ قائد اعظم قومی اثاثہ اور اعلی درجہ کا وفاقی ادارہ ہے ، اس عظیم ادارے کی وراثت اور ساکھ کے تحفظ کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کی جائیں۔ اجلاس میں کہا گیا انتظامیہ مالی خسارے کے باعث اہل اساتذہ اور عملے کی خدمات حاصل کرنے ، موجودہ سہولیات کو بہتر بنانے اور یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، روز مرہ کے ضروری اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔ اجلاس میں ہاسٹل کے رہائشیوں کو سہولیات کی کمی اور ہاسٹل کے آس پاس کی توسیع کی وجہ سے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ مطالبہ کیا کہ جامعہ کو ایک فلیگ شپ ادارہ قرار دیا جائے اور ساتھ ہی خصوصی بیل آوٹ پیکیج کے اعلان کے ساتھ اس کی مالی رکاوٹوں پر قابو پایا جائے تاکہ عالمی رینکنگ میں پہلی 300 کی لسٹ میں شامل ہوا جا سکے۔ ایلومنائی ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ فار غ التحصیل طلبا بھی مطلوبہ فنڈنگ اور معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ یہ اعلی تعلیمی ادارہ ملک کے لیے مزید اعزازات حاصل کرسکے اور ملک کی بڑھتی ہوئی انسانی وسائل کی ضروریات کو پورا کرسکے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 600 ملین روپے سے زائد کے سالانہ خسارے پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر خصوصی گرانٹ کا اعلان کیا جائے کیونکہ فنڈز کی کمی ادارے پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کو اپی درجہ بندی برقرار رکھنے کے لیے بیل آوٹ کی اشد ضرورت ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی دنیا میں 378 ویں پوزیشن پر ہے اور ایشیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں اس کا شمار ہے۔ اجلاس میں منیجر اسکالرشپ کی تجویز پر نیا داخلہ لینے والے طلبا کے لیے وظائف بڑھانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی ڈونر کانفرنسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اپنے قیام کے وقت 1709 ایکڑ ، 4 کنال اور 12 مرلہ زمین یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی تھی جسکی تمام تر ادائیگی بھی گئی ۔ اجلاس میں اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود تا حال جامعہ کی مکمل حد بندی نہیں کی گئی۔ 1709 ایکڑ کی مکمل ادائیگی کے باوجود ، 298 ایکڑ پر غیر قانونی قبضے اور 152 ایکڑ جامعہ کے قبضہ میں نہ ہونے کی وجہ سے قائد اعظم یونیورسٹی کو اب بھی 450 ایکڑ مختص اراضی کی کمی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی پاکستان میں سب سے معیار ی درسگاہ ہونے کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں یہ امر بھی زیر بحث لایا گیا کہ جہاں زمین کا ایک بڑا حصہ ایک بااثر افراد کے قبضہ میں ہے وہیں کئی ایکڑ رقبہ غیرقانونی آباد کاروں کے قبضے میں ہے۔ تعلیمی بلاکس کے آس پاس کی یہ بستیاں یونیورسٹی کے لیے منشیات کی فروخت اور امن و امان کے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، وفاقی وزیر تعلیم اور چیئرمین وزیراعظم ٹاسک فورس فورس سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں