6

حاکم اور محکوم

اللہ رب العزت نے مرد کو حاکمیت کا شرف عطا کیا ہے اور یہ بات قرآن پاک میں واضح الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے کہ مرد اور عورت کبھی برابر نہیں ہو سکتے، عورت مرد سے ایک درجہ کم ہے،مرد حاکم ہے اور عورت محکوم۔بحیثیت عورت ،میں عورت کے اس درجے کو تسلیم کرتی ہوں کیونکہ عورت کا محکوم ہونا ہر طرح سے فائدہ مند ہے،عورت جب بھی حاکم بننا چاہے گی یا بننا پڑے گا وہ دکھ اور تکلیف ہی اٹھائے گی۔اس کرہ ارض کا پہلا رشتہ ماں بچے یا بہن بھائی کا نہیں تھا بلکہ وہ میاں اور بیوی کا رشتہ تھا اس لیے اس رشتے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔حج الوداع کے موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو!!عورت کے بارے میں خدا سے ڈرو ۔اب جبکہ مرد کو حاکم بنا دیا گیا تو کیا اس سے سوال نہ کیا جائے گا کہ کیسا سلوک کیا محکوم سے؟کیا اس کانان و نفقہ پورا کیا ؟ کیا وہ عزت دی جس کی وہ حقدار تھی؟ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاکستانی معاشرے میں خاوند اپنی بیوی کو عزت دینا گناہ سمجھتا ہے۔اپنی انا کو تسکین دینے کی خاطر ،گالم گلوچ کرتا ہے ،مار پیٹ کرتا ہے ، بات بات پر جھڑک دیتا ہے، ذرا سی لاپرواہی اور کوتاہی پر بیوی کو ذلیل کرتا ہے، بدسلوکی کی انتہا کر کے پھر بھی اگر یہ چاہتا ہے کہ میری بیوی مجھے عزت اور محبت دے تو ایسا ممکن نہیں؟عورت کمزور ہونے کی وجہ سے یہ بدسلوکی برداشت تو کر جائے گی تمہیں حاکم مان کر عزت تو شاید دے دے لیکن محبت نہیں کرے گی!! مرد کو اللہ رب العزت نے اعلی ظرف اور بہت مضبوط اعصاب کا مالک بنایا ہے تو کیوں عورت کیلئے تمہارے ظرف اور دل تنگ پڑ جاتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے ”حاکم اور محکوم

اپنا تبصرہ بھیجیں