amir jan haqqani 73

قاضی حمیداللہ خان ؒ کا فیض گلگت بلتستان میں

تحریر: امیرجان حقانی
راقم الحروف کی درس نظامی سے فراغت 2010 کی ہے۔ جب درس نظامی کا آغاز ہو ا تھا تو گلگت بلتستان بالخصوص ضلع دیامر و کوہستان کے دورہ حدیث کے طلبہ اور نئے فضلاء سے ایک نام بڑی کثرت سے سننے کو ملتا تھا۔اس نام کے ساتھ ہی علم و حکمت اورفن و فلسفہ کی چند کتابوں کے نام بھی سننے کو ملتے تھے۔ یہ کتب بہر حال درس نظامی کے 8 سالہ نصاب کا حصہ نہیں تھیں ۔وہ نام نامی شیخ الحدیث مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کا تھا۔ عموما یہ طلبہ ”قاضی صاحب، قاضی صاحب” سے اپنے استاد محترم کو یاد کیا کرتے تھے۔ اور جن بڑی خارجی کتب(یعنی درس نظامی کے نصاب سے الگ کتب) کا تذکرہ کرتے ان میں اقیلدس، مطول،صدرا، قاضی، حمداللہ، خلاصہ شرح خیالی قابل ذکر ہیں۔ جن طلبہ نے قاضی صاحب مرحوم سے یہ کتابیں پڑھی تھی وہ بڑے فخریہ انداز میں بتایا کرتے تھے۔ بعض دفعہ تو ان طلبہ میں ان خارجی کتب کی تحصیل پر کچھ علمی تفاخر بھی آجاتا ۔سچ کہوں تو مجھے بھی فنون کی کچھ کتب قاضی صاحب ؒ سے پڑھنے کا شوق چڑھا تھا مگر پھر شہادۃ العالمیہ سے فراغت کے بعد فوری طورپر پروفیشنل زندگی کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے حضرت قاضی صاحب نوراللہ مرقدہ اور دیگر کباراہل علم سے شرف تلمذ حاصل نہ ہوسکا جس کا قلق ہمیشہ رہے گا۔
قاضی حمیداللہ خان ؒ صوبہ خیبر پختونخوا کے مشہور گاؤں چاسدہ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی ابتدائی تعلیم چارسدہ میں حاصل کی۔ درس نظامی کی اکثر کتب اٹھ سال میں جامعہ دارالعلو م حقانیہ اکوڑہ خٹک میں اہل علم و فن سے پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ دو سال معقولی علوم کی تحصیل کے لیے سوات گئے اور علوم عقلیہ میں مہارت حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف کی تکمیل جامعہ اشرفیہ لاہورسے کی جہاں انہیں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا ادریس کاندھلوی ؒ اور مولانا رسول خان جیسے کبار اہل علم سے استفادہ کا موقع ملا۔ 1966 میں، مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا اور زندگی کی تمام بہاریں گوجرانوالہ میں علوم نبوت کی تدریس میں گزاری۔ مدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ کے مہتمم بھی رہے ۔ 2002 میں بھاری اکثریت سے قومی اسمبلی کا ممبر بنے۔ مخلوط میراتھن ریس کے حوالے سے پوری دنیا کی میڈیا کا توجہ کا مرکز بنے۔ قاضی مرحوم نے مشرف کے دور میں اپنی کمال فراست سے میرا تھن ریس کی مخالفت کی اور آخری حد تک گئے اور لہولہان ہوئے۔
پاکستان کی طرح گلگت بلتستان میں بھی قاضی حمیداللہ خان نوراللہ مرقدہ کا فیض برابر جاری رہا۔ بلاشبہ گلگت بلتستان و کوہستان کے سینکڑوں علماء نے قاضی حمیداللہ خان ؒ سے علوم و فنون کی مدول کتب پڑھی ہیں۔اور پھر انہیں حضرات نے گلگت بلتستان میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اور بڑے بڑے مدارس و جامعات کا قیام عمل میں لایا ہے۔
2009 میں گلگت بلتستان کےصوبائی الیکشن میں قاضی صاحب مرحوم گلگت تشریف لائے اور جمیعت علماء اسلام گلگت بلتستان کے صوبائی اسمبلی کے لیے نامزد امیداروں کی بھرپور کمپیئن بھی کی۔ داریل تانگیر، چلاس اور گلگت کے دورے کیے اور بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا ۔ گلگت بلتستان کے علماء کرام اور مختلف سیاسی لیڈروں نے حضرت قاضی صاحب سے ملاقاتیں بھی کی۔بہت سارے لوگ قاضی صاحب ؒ کے بیانات اور علمی و سیاسی خیالات سے مستفید بھی ہوئے اور ان کی دلیرانہ اور بے خوفی پر عش عش بھی کرنے لگے۔
گلگت بلتستان میں حضرت قاضی ؒ کے سینکڑوں تلامذہ موجود ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ قاضی حمیداللہ خانؒ کے درجات بلند فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے دنیا بھر کی طرح گلگت بلتستان کو بھی منور کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں