43

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قائداعظم یونیورسٹی کی زمین کے معاملے پرفیکٹ شیٹ جاری کردی

اسلام آباد،قائداعظم یونیورسٹی ایلومنائی ایسوسی ایشن ، اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور یونیورسٹی ملازمین پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قاداعظم یونیورسٹی کی اراضی کے معاملے پر فیکٹ شیٹ جاری کردی۔
دستاویز کے مطابق 1709 ایکڑ ، 4 کنال اور 12 مرلے کا رقبہ سی ڈی اے نے 72 تا1967میں اسلام آباد یونیورسٹی(موجودہ قائد اعظم یونیورسٹی)کیلئے حاصل کیا تھا، لیکن مکمل ادائیگی کے باوجود مذکورہ اراضی کا خالی قبضہ اور زمینی حد بندی سی ڈی اے نے یونیورسٹی کو نہیں دی ، اس لیے یونیورسٹی کو متعدد غیر قانونی قابضین ورثے میں ملے ہیں جن میں نو دیہات بھی شامل ہیں جو یونیورسٹی کیمپس کے اندر تقریبا 298 ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں جبکہ باہر سے غیر قانونی تجاوزات بھی اس دوران قبضہ کرچکے ہیں جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق سروے آف پاکستان کی رپورٹ2017 کے مطابق یونیورسٹی کی زمین میں 152 ایکڑ کی کمی ہے، مگر یونیورسٹی کی مختص اراضی میں 298+152 یعنی 450 ایکڑز کی مجموعی کمی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے متعدد بار سی ڈی اے اور مقامی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ زمینی حد بندی ، یونیورسٹی کی زمین پر خالی قبضے کو ختم کرکے یونیورسٹی کو حوالگی ، تمام غیر قانونی قابضین/تجاوز کاروں کو خالی کروانے اور اس کی خالی زمین کی تکمیل۔مگر اس میں سی ڈی اے یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی نتیجہ خیز کارروائی نہیں ہوئی۔ رٹ پٹیشن نمبر 109/2017 کے فیصلے میں ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 21/10/2020 کو قائداعظم یونیورسٹی کی پوری زمین کی زمینی حد بندی ایک ماہ میں کرنے کی ہدایت کی تھی ، لیکن عدالت کے واضح احکامات کے باوجود سی ڈی اے کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔وزیر اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر ، موجودہ حکومت نے 5 جنوری 2019 کو ضلعی انتظامیہ/مقامی پولیس اور سی ڈی اے کے ذریعے تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا ، تاکہ QAU کی تجاوز شدہ زمین کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ جے اے سی اور یونیورسٹی حکام نے مذکورہ آپریشن کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی کا یہ دیرینہ مسئلہ موجودہ حکومت حل کرے گی۔ مذکورہ آپریشن میں یونیورسٹی کی زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے کچھ گھروں کے کچھ ڈھانچے/بانڈری دیواریں مسمار کر دی گئی ہیں جبکہ یونیورسٹی کی تقریبا 100+ ایکڑ زمین پر مقامی لوگوں کی کاشت کی گئی فصلیں پر ہل چلائے گئے ہیں۔ لیکن پھر آپریشن کو روک دیا گیا تاکہ وزارتی کمیٹی کے ذریعہ کوئی قابل عمل حل نکالا جا سکے ، اس وقت یونیورسٹی کی زمین پر قابض “کچی آبادی” کے تصفیے کے لیے۔ اب کئی سال گزر جانے کے بعد بھی یونیورسٹی کی زمین واپس لینے کے لیے اس سلسلے میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔جے اے سی نے متعلقہ حکام سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست کی اور متعلقہ حلقوں کو ہدایت کی کہ وہ مقبوضہ/تجاوز شدہ اراضی 298 ایکڑکو واپس حاصل کریں اور سی ڈی اے کو ہدایت کریں کہ وہ یونیورسٹی کی مختص اراضی میں 152 ایکٹر کی کمی کو پورا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں