9

ہم دنیا کو تمام انسانوں کا مشترکہ گھر بنائیں گے، چینی صدر

ا نسان اور فطرت کو ہم آہنگی سے رہنا چاہیے ،اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے دنیا کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے،ترقی پذیر ممالک کو زیادہ امداد اور حمایت کی ضرورت ہے،
“چین کے صدر شی جن پھنگ کا حیاتیاتی تنوع پر کنونشن” کے رکن ممالک کے اجلاس سے خطاب
بیجنگ(ما نیٹر نگ ڈیسک ) چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ ا نسان اور فطرت کو ہم آہنگی سے رہنا چاہیے ،ہم دنیا کو تمام انسانوں کا مشترکہ گھر بنائیں گے،اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے دنیا کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے،ترقی پذیر ممالک کو زیادہ امداد اور حمایت کی ضرورت ہے۔ منگل کو چین کے صدر شی جن پھنگ نے حیاتیاتی تنوع پر کنونشن کے رکن ممالک کی 15 ویں سربراہی کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور ایک کلیدی تقریر کی۔انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع نے کرہ ارض کو زندگی سے بھر دیا ہے اور انسان کی ترقی کی بنیاد بھی فراہم کی ہے۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سیکرہ ارض کے تحفظ میں مدد ملتی ہے اور بنی نوع انسان کی پائیدار ترقی کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔ حیاتیاتی تہذیب انسان کی تہذیب کی ترقی کا تاریخی رجحان ہے ۔ ہم ایک ساتھ مل کر حیاتیاتی تہذیب کے تصور کو برقرار رکھیں گے اور دنیا کو تمام انسانوں کا مشترکہ گھر بنائیں گے۔ چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ انسان اور فطرت کو ہم آہنگی سے رہنا چاہیے۔ جب انسان دوستانہ انداز میں فطرت کی حفاظت کرتا ہے ، فطرت کے انعامات فراخ ہوتے ہیں ،جب انسان فطرت کو بے رحمی سے لوٹتے ہیں تو قدرت کی سزائیں بھی بے رحمانہ ہوتی ہیں۔ ہمیں فطرت کا وسیع احترام کرنا چاہیے ، فطرت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ، فطرت کی حفاظت کرنی چاہیے ، اور زمین پر ایک ایسا گھر بنانا چاہیے جس میں انسان اور فطرت ہم آہنگی کے ساتھ رہیں۔سر سبز پہاڑ سونے کے پہاڑ اور شفاف دریا چاندی کے دریا ہیں۔ ایک اچھا ماحول نہ صرف قدرتی دولت ہے ، بلکہ معاشی دولت بھی ہے ، جو معاشی اور سماجی ترقی کی صلاحیت اور استحکام سے متعلق ہے۔ ہمیں سبز ترقیاتی ماڈل کی تشکیل کو تیز کرنا چاہیے ، معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کی یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے اور کرہ ارض کو ایک ایسا گھر بنانا چاہیے جس میں معیشت اور ماحول ہم آہنگی سے ترقی کر سکیں۔چینی صدر نے مزید کہا کہ کووڈ- نے دنیا کی ترقی پر منفی اثرڈالا ہے ۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے دنیا کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس وقت دو اہم ترین امور معیشت کی بحالی اور تحفظ ماحول ہیں لہذا ترقی پذیر ممالک کو زیادہ امداد اور حمایت کی ضرورت ہے ۔ ہم متحد ہو کر ترقی کے ثمرات اور اچھے حیاتیاتی ماحول کو منصفانہ طور پر مختلف ممالک کے عوام تک پہنچانے کی کوشش کریں گے اور دنیا کو ایسا گھر بنائیں گے جہاں تمام ممالک مشترکہ ترقی کر سکیں گے ۔ہم چیلنجوں اور امیدوں سے بھرپور دور میں موجود ہیں۔اپنے مشترکہ مستقبل کے لیے ، ہمیں اعلی معیار کی انسانی ترقی کا ایک نیا سفر شروع کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے۔ سب سے پہلے ، انسان اور فطرت کے مابین ہم آہنگ تہذیب کی تعمیر کی جائے ، دوسرا ، عالمی پائیدار ترقی میں مدد کے لیے ماحول دوست تبدیلی لائیں۔ تیسرا ، عوام کی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے سماجی انصاف کو فروغ دیں۔ چوتھا ، بین الاقوامی قانون پر مبنی ایک منصفانہ اور معقول بین الاقوامی گورننس کا نظام قائم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں