158

اسلام آباد کے سب سے بڑی سرکاری اسپتال پمز میں بڑا مالی سیکنڈل سامنے آ گیا

اسلام آباد ،وفاقی دارلحکومت کے سب سے بڑی سرکاری اسپتال پمز میں بڑا مالی سیکنڈل سامنے آ گیا، پانچ میڈیکل آفیسرز کی طرف سے ہائوس رینٹ کی مد میں خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا لگا دیا گیا، اسپتال انتظامیہ نے ہائوس رینٹ وصولنے والے پانچ میڈیکل آفیسرزکو نوازنے پر آنکھیں بند کر لیں ، عوامی حلقوں نے اسپتال انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے ہونے والی اس بدعنوانی پروزیراعظم عمران خان اور معاون خصوصی صحت فیصل سلطان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
اس حوالے سے دستیاب دستاویز کے مطابق پمز اسپتال میںپانچ میڈیکل آفیسرز کی طرف سے مالی بدعنوانی کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے ، یہ میڈیکل آفیسرزہاسٹل میں رہائش پذیر ہونے اور الاٹمنٹ کے باوجود گزشتہ دو سال سے ہائوس رینٹ کی مد میں ماہانہ ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں ، ان افسران میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے مرکزی صدر ڈاکٹر فیض اللہ اچکزئی،نائب صدر ڈاکٹر طارق خان،جنرل سیکٹری ڈاکٹر شیر علی،ڈاکٹر عمران زیب اور ڈاکٹر عبدالحمید شامل ہیں ، ان میں سے تین میڈیکل آفیسرز اہلخانہ کے ساتھ ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں ۔ دستاویز کے مطابق ہاسٹل وارڈن و میڈکل آفیسر ڈاکٹر طارق خان ہائوس رینٹ الائونس کی مد میں ماہانہ 28ہزارجبکہ دیگر چاروں ڈاکٹرز ماہانہ 41ہزار 147روپے وصول کر رہے ہیں۔ ان میڈیکل آفیسرز نے ہاسٹل الاٹمنٹ کے موقع پر اپنا بیان حلفی بھی جمع کروایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ہائوس رینٹ الائونس نہیں لیں گے ۔ جبکہ دوسری طرف پمز میں بہت سے ایسے ڈاکٹرز بھی ہیں جنہیں اہل ہونے کے باوجود الاٹمنٹ سے محروم ہیں ، اسپتال انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی الاٹمنٹ کمیٹی نے بھی 25ڈاکٹر ز کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے مذکورہ میڈیکل آفیسرز سے چشم پوشی اختیار کر لی ،الٹا وزیر اعظم ہاوس کے احکامات کو پس پشت ڈال کر سکینڈل میں ملوث ڈاکٹر کوہاسٹل وارڈن بنا دیا گیا ہے۔دوسری طرف جب اس حوالے سے موقف کیلئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے مرکزی صدر ڈاکٹر فیض اللہ اچکزئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں