10

شہباز شریف ، فضل الرحمان کا ملک میں فی الفور شفاف انتخابات کا مطالبہ

لاہور،جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہباز شریف نے ملک میں فی الفور شفاف الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج ملاقات میں ملکی صورتحال اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے اتحاد کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بدترین صورتحال ہے اور کمر توڑ مہنگائی کے ساتھ ساتھ آئے دن بجلی اور گیس کے بلوں کے بم گرائے جاتے ہیں، آٹے اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور اس وقت ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر نہیں مل رہے لیکن حکومت مکمل طور پر غفلت کی نیند سو رہی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بدترین صورتحال دیکھتی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔مسلم لیگ(ن)کے صدر نے کہا کہ آج مولانا فضل الرحمن سے تبادلہ خیال میں مرکزی نکتہ یہی تھا کہ پی ڈی ایم کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ اس ملک میں فی الفور شفاف الیکشن کرائے جائیں اور پاکستان کو دوبارہ ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف لے جانے کا یہی راستہ ہے۔انہوں نے باور کرایا کہ دوبارہ الیکشن آسان کام نہیں بلکہ جان جوکھم کا کام ہے، ہمیں دن رات محنت کرنا ہو گی اور اجتماعی کاوشیں اور صلاحیتیں برائے کار لانی ہوں گی جس کے بعد ہم 2018 سے پہلے کی صورتحال پر آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کی بنیادی سیڑھی فی الفور اور شفاف الیکشن ہیں اور مولانا فضل الرحمن اور میں اس پر متفق ہیں اور یہی پی ڈی ایم اور عوام کا مطالبہ اور حق ہے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم اپنے اہداف، نصب العین اور مقاصد کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے اور 16 اکتوبر کو فیصل آباد میں تاریخی اجتماع ہو گا اور پھر 31 اکتوبر کو ڈیرہ غازی خان میں بڑا جلسہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام پر حکومت جو شہر بن کر مسلط ہے اس سے ہر قیمت پر گلو خلاصی ہر آدمی کی آرزو بن چکی ہے لہذا فوری الیکشن پاکستان کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارے تباہ ہوچکے ہیں اور ہر صوبائی دارالحکومت میں جو ملازمین برطرف کیے گئے ہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، ہر طبقہ اس وقت مشکل کی حالت میں ہے اور عام آدمی روزمرہ کی اشیا خریدنے کے قابل نہیں رہا ہے۔جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ نے کہا کہ ہم فوج جیسے ادارے کو طاقتور اور منظم دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کو ہم ریاست پاکستان اور اس کے دفاع کی ضرورت سمجھتے ہیں لیکن ہمارے اس ادارے کو مودی بھی اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا جتنا عمران خان نے پاکستان کے اس عظیم اور منظم ادارے کو نقصان پہنچایا ہے۔مولانا فضل الرحمن کے ممکنہ لانگ مارچ کا ساتھ دینے کے حوالے سے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ میں پہلے ہی اعلان کرچکا ہوں کہ ہمیں مہنگائی کے خلاف ہر صورت مارچ کرنا ہو گا اور اپنا سیاسی و قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اس حکومت کا محاسبہ کرنا ہو گا۔مسلم لیگ(ن)کے رہنما نے کہا کہ تاریخ پاک فوج کی قربانیوں کی شاہد ہے، مودی اس ادارے کے وقار کو نقصان پہنچانے کے لیے وہ کام نہیں کر سکا جو عمران خان نیازی نے کیا ہے، انہوں نے جس طرح سے ان نازک معاملات کو ہینڈل کیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔اس سے قبل سابق وزیراعلی پنجاب نے مولانا کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانہ دیا، ظہرانے میں مولانا کے کھانے میں مٹن بریانی، مٹن قورمہ، پالک گوشت، آلو مٹر شامل تھے، کھانے کی میز پر روغنی نان، روٹی، دیسی مرغی، مٹن، چکن، بار بی کیو، گرل فش، کشمیری دال چاول ،ریشمی کباب،یخنی پلائو بھی شامل تھے۔دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور امیر جمعیت علمائے اسلام(ف)مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ملاقات میں نیب آرڈیننس اور نیب چئیرمین کی تقرری کو چیلنج کرنے پر اتفاق کیا گیا، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے پنجاب کے مختلف شہروں میں جلسے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔پی ڈی ایم سربراہ نے مسلم لیگ ن کا حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خبروں پر تحفظات کااظہارکیا۔مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے الیکشن چوری کیا انکے ساتھ مذاکرات کیسے کر سکتے ہیں۔ حکومت کیساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ آپ نے ہمیں اعتماد میں بھی نہیں لیا۔مولانا فضل الرحمن نے انتباہ کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ ن اگر اب بھی لانگ مارچ نہیں کرے گی توپھر تحریک کو شدید دھچکا پہنچے گا۔مولانا نے تجویز دیتے ہوئے بتایا کہ لانگ مارچ سے قبل روڈ کارواں نکالا جائے تو حکومت پر دبا ئو بڑھے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کے ساتھ پارلیمنٹ میں چلنے پر منا لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں