77

دور حاضر اور سرمایہ اسلاف

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انسان کے ہر شعبہ زندگی پر محیط ہر معاملے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ قیامت تک کے انسانوں کیلئے ایک ایسا آئین اور دستور جو بنی نوع انسان کی ہر ایک ضرورت کو نہ صرف پورا کرتا ہے بلکہ اس پر عمل کرنے والے دائمی امن بھی پاتے ہیں۔
انبیاء علیھم السلام نے ہر دور میں اپنی اپنی امتوں کی اخلاقی، سماجی، معاشرتی اور روحانی تربیت کی اور ان کو اللہ کے احکامت کے مطابق زندگی گزارنے کے طریقے سکھائے۔ آقا کریم حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسدول ﷺ ہیں۔ سلسلہ نبوت کو ختم کردینے والے اور کائنات کو کامل اور جامع دستور دینے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات، رسول اکرم ﷺ کی حیات و تعلیمات اور قرآن مجید کے پیغام کوعوام الناس تک پہنچانے کا فریضہ آقا کریم ﷺ کے ظاہری وصال کے بعد اللہ کے نیک بندووں کی ذمہ داری بن گیا جن کو صالحین کہا جاتا ہے۔
جن میں اصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین، تابعین، تبع تابعین، محدثین، اولیائے اللہ، آئمین اور صوفیا شامل ہیں۔ جنہوں نے اسلام کے سایہ رحمت کو دنیا کے کونے میں نہ صرف پہنچایا بلکہ اس کی عملی تفسیر بن کر دکھایا۔ تاریخ شاہد ہے جب تک امت مسلمہ آئین محمدی ﷺ پر پوری طرح قائم رہی، قرآن مجید اور سنت کو تھامے رکھا مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی، بڑے بڑے علمی اور روحانی، سائنسی، فکری، نظریاتی، تحقیقی اور تخلیقی انقلاب برپا کئے اور دنیا پر اسلام کی حقانیت کو واضح کیا اور منوایا۔ اور جب جب امت خرافات میں پڑی غلام بنالی گئی۔
ہماری اسلامی درسگاہیں سائنس و ٹیکنالوجی کا تحقیقی مرکز تھیں۔ قرآن مجید کے اسرارو رموز پر تحقیقات ہوتیں اور ان سے علم و فن کی نئی نئی جہتیں کھولی جاتیں۔ کہیں جدید کا کیمیاء کا بانی مانی جانے والی شخصیات پیدا ہوتٓی ہیں اور کہیں زمین کے طول و عرض کی پیمائش بتانے والی شخصیات۔ کہیں طب کی دنیا میں سرجری کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو کہیں آنکھ اور نظر پر نئے نئے علوم سکھانے کے مراکز قائم ہورہے ہوتے ہیں۔ غرض اسلامی تعلیمات نے ہمارے اسلاف اور اکابرین کو ایسے ایسے علوم عطا کئے جن پر آج کی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی انحصار کرتی ہے۔
اور انہی اسلامی درسگاہوں سے جید علمائے دین بھی پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے دنیا کے طول و عرض میں علوم و ادہیان کے ایسے ایسے سمندرکھولے کہ آج تک دنیا ان علوم پر تحقیق کررہی ہے۔ انہی درس گاہوں سے جنگ کی تربیت لینے والے ہمارے بزرگان دنیا کے طول و عرض میں پھیل کر کفرو ظلم اور شیطانیت کا خاتمہ کرکے امن قائم کرتے ہیں۔ انہی درسگاہوں سے ایسے ایسے حکمران پیدا ہوتے ہیں جن کا نظام حکمرانی رہتی دنیا تک مثال ہے۔ انہی درسگاہوں سے ایسے ایسے قانون دان پیدا ہوتے ہیں جن کے اخذ کئے ہوئے قوانین آج کی دنیا کیلئے بقا کی ضمانت ہیں۔ انہی درسگاہوں سے ایسے ایسے معاشرتی، سماجی اور اخلاقی نظام پیدا ہوتے ہیں جو دنیا کو امن کی چادر میں لپیٹ لیتے ہیں۔
اسی دور میں جب ظلم و کفر اور شیطانیت اپنے آخری سانسوں میں ہوتی ہے تب شیطان اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے اور مسلمانوں کی صفوں میں برتری اور شخصیت پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کے درمیان دھڑے بندی شروع ہوتی ہے جسے ہم فرقہ بھی کہتے ہیں۔ عقائد پر اختلافات تو ہمارے اسلاف کی تحیقیقی زندگی کا حسن تھا مگر یہی اختلاف نفرت کا باعث بننے لگا۔ اور یہی اختلاف بین المسلمین بڑھتا جاتا ہے۔ کنویں کے مینڈک جنم لینے لگتے ہیں۔ ظرف کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ تحقیقی مراکز پر دشمن غالب آجاتے ہیں اور ان کو دریا برد کر دیا جاتا ہے۔ مسلمان اپنے نظریات کو بانٹنا شروع کردیتے ہیں۔ کفر کے فتوے لگنے لگتے ہیں۔ اتحاد امت پارہ پارہ ہوجاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے اس کے بعد مسلمان کبھی سنبھل نہیں پائے۔
مسلمان ایک جان کبھی نہ بن پائے۔ فرقہ بندی اور ذاتی مفادات نے ان کو پھر کبھی ایک نہ ہونے دیا۔ اور آج ہماری حالت یہ ہوگئی کہ ہمارا قانون، ہمارا آئین، ہمارا دستور، ہماری تہذیب، ہمارا تمدن، ہماری معاشیات، ہماری سماجیات، ہماری اخلاقیات، ہماری روایات، ہمارے ہیروز، ہمارے آئیڈیلز، ہمارے طرز حیات سب کچھ ہم نے گنوا دیا اور اغیار سے مستعار لیا ہوا نظام زندگی جو ہمیں غلام بنانے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے یہ ہماری زندگی کو گھیرے ہوئے ہے۔
دور حاضر کے نبض شناس حکیم الامت فرماتے ہیں
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے
وہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میں
کُچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا

تمدّن آفریں، خلاّقِ آئینِ جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا

سماں ’الفُقْرَ و فَخرْی‘ کا رہا شانِ امارت میں
“بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت رُوے زیبا را”

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ مُنعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

غرض مَیں کیا کہُوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں‌گیر و جہاں‌دار و جہاں‌بان و جہاں‌آرا

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا

مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

“غنیؔ! روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کُن
کہ نُورِ دیدہ اش روشن کُند چشمِ زلیخا را”
آج کا مسلم نوجوان ابلیسی رنگینیوں کا رسیا ہو چکا اور اپنے اسلاف کی میراث کا اہل نہ رہا۔ اور آج کے نوجوان نے علوم و تحقیق و جہد کی زندگی ترک کرکے اپنے لئے اغیار کی غلامی کی زندگی چن لی۔ اگر ہم صرف تعلیم کی ہی بات کریں تو اسلامی نوجوان تحقیق علوم میں کس قدر پیچھے چلا گیا ہے یہ درد بھری داستان ہے :
58 آزاد اور خود مختار اسلامی ممالک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا 20 فیصد (تقریبا سوا ارب ) ہے اس آبادی کا تقریبا 40 فیصد حصہ ان پڑھ ہے- تمام اسلامی ممالک میں موجود یونیورسٹییز کی تعداد تقریبا 350 ہے جن میں پنجاب یونیورسٹی لاہور (1882ء) انڈونیشیا ء یونیورسٹی (1950ء )جکارتہ ،تہران یونیورسٹی (دانش گاہ طہران 1851ء) جامعہ ملک سعود (ریاض نومبر 1957ء) اور جامعۃ الازھر (قاھرہ مصر 975ء ) وغیرہ شامل ہیں-ان یونیورسٹیوں سے سالانہ تقریباً ایک ہزار افراد پی ایچ ڈی کرتے ہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان اسلامی ممالک کی مجموعی افرادی قوت صرف 80 لاکھ کے قریب ہے جو ان شعبوں میں مصروف عمل عالمی آبادی کا تقریبا 4 فیصد ہے دنیا بھر میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد سائنسی کتب اور 20 لاکھ سے زائد سائنسی مقالات شائع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی ممالک سے شائع ہونے والی سائنس اور تحقیقی کتب اور مقالات کی سالانہ تعداد ایک ہزار سے زائد نہ ہوسکی یہ ان اسلامی ممالک کا مجموعی حال ہے جن کی آزاد مملکتیں کرۂ ارض کے تقریباتین کروڑ مربع کلومیٹر پر محیط ہیں-جو تیل کے پوری دنیا میں موجود ذخائر کے تین چوتھائی حصے کے مالک ہیں اور جنہیں اپنے لا محدود قدرتی وسائل سے استفادہ کی سہولت حاصل ہے ا س کے باوجود علوم جدیدہ میں مغرب سے مسابقت کے بجائے غفلت اور تساہل نے اسلامی ممالک کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لہو لعب میں مبتلا ہونے کی بجائے نوجوانان اسلام کا فرض ہے کہ دو قدم آگے بڑھیں اور ان استعماری بتوں کو توڑ دیں۔ ان سامراجی بتوں کو توڑ دیں۔ ان فرقہ پرستی کی بندشوں کو کاٹ دیں۔ ان فحاشی کے مقبروں سے نکل آئیں۔ عقائد و نظریات کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک نظریہ اسلام کو سینے سے لگائیں۔ ملت واحدہ ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے اور اس مفاداتی، فرقہ واریتی اور خرافاتی آلائشوں سے خود کو پاک کرکے ایک اللہ، ایک رسول ﷺ، ایک قرآن کو ایک ہوکر تھام لیں اور دنیا پر اپنی غیرت اسلامی سے راج کریں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں