28

کٹھ پتلی اور ڈمی حکومت کی وجہ سے جی بی کا نظام مکمل مفلوج ہوچکا، امجد حسین ایڈووکیٹ

گلگت ،قائد حزب اختلاف و صوبائی صدر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی معاملے پر نظر نہیں آ رہی ، 9 ماہ گزرنے کے باجود حکومت نے کسی بھی شعبے پر کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ،حکومت کٹھ پتلی اور ڈمی ہے جس باعث گلگت بلتستان کا نظام مکمل مفلوج ہوا ہے ۔حکومت نے گلگت بلتستان کے تمام وسائل پر قانون سازی کا اختیار این جی اوز کو دیا ہے حکومت اس وقت عملا این جی اوز اور ادارے چلا رہے ہیں کسی بھی مسلے کے اوپر حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی ہے
دوسری طرف اس وقت گلگت بلتستان کا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے جن کا گلگت بلتستان سے دور دور تک بھی تعلق نہیں خدشہ ہے کہ یہ لوگ گلگت بلتستان کے وسائل پر بھی قبضہ کرینگے حکومت مہز گریڈ ون کے ملازمین پر انتقامی کاروائیاں کررہی ہے وزیر اعلی اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہی جبکہ گلگت بلتستان میں حکومتی رٹ مکمل ختم ہے بیوروکریسی خود اس نظام سے پریشان ہے انہوں نے مزید کہا کہ وفاق میں ان کا نظام آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مقامی این جی اوز چلا اس نظام کو دیکھ رہے ہیں ان کی حکومت کے آنے کے بعد گلگت بلتستان میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے منظور شدہ نوکریاں مشتہر نہیں ہو رہی ہیں کنٹریکٹ اور کنٹیجنٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے حکومت کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے بلخصوص سینکڑوں کنٹریکٹ ڈاکٹروں کو گزشتہ ایک سال سے کنٹریکٹ نہ نہیں مل رہا ہے جس باعث ڈاکٹرز ہسپتالوں سے مستفی ہو رہے ہیں کسی بھی شعبے پر حکومت کا اِن پٹ نظر نہیں آ رہا ہے قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ محرالحرام کے دوران حکومت نے کسی قسم کوئی سنجیدگی نہیں دیکھائی جسے گلگت بلتستان میں مزید امن و امان کوفروغ ملے ۔کرونا کے دوران حکومت کی غیر سنجیدگی کا اندازہ ہوا کہ یہ حکومت ڈمی ہے اس دوران تمام صورتحال کو سھنبالنے میں گلگت بلتستان کے مختلف اداروں نے کام کیا آج بھی وہی صورتحال برقرار ہے تبدیلی سرکار کے 9 ماہ گزر گئے لوگ مسائل کی وجہ سے پریشان ہیں دن بہ دن لوگوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے حکومت اگر اسی طرح چلے گی تو گلگت بلتستان کا نظام مفلوج ہونے میں دیر نہیں لگے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں