60

کرونا وبا اور طلبہ

تحریر: فیصل رفیع
@FaisalRafiSays
کرونا وائرس چین کے شہر ووہان سے نکلنے والا ایک وائرس ہے۔ جو جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس چمگادڑ سے شروع ہوا اور پینگولین نامی جانور کے ذریعے مختلف جگہوں اور دیگر جانداروں میں منتقل ہو گیا۔ متاثرہ جانوروں اور انسانوں کے میل ملاپ کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل ہو گیا۔ چین میں 17 نومبر 2019 کو اس کا پہلا مریض منظرِ عام پر آیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مرض نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
کرونا وائرس کے پھیلتے ہی پوری دنیا میں کہرام مچ گیا۔ تمام تر معمولاتِ زندگی منجمد ہو گئے اور دنیا ایک دشت کا منظر پیش کرنے لگی۔ تمام تر اجتماعات اور کاروباری سرگرمیوں کے مراکز بند کردیئے گئے۔ کیونکہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے میں بڑا جلدباز ہے۔ دنیا کے نامی گرامی لوگ بھی تمام تر احتیاط کے باوجود اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ جن میں برطانیہ کا وزیراعظم بورس جانسن اور وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو سامنے آیا۔
کرونا وائرس کے پھیلتے ہی حکومتِ پاکستان نے واضح حفاظتی حکمت عملی کے تحت تمام تر اجتماعات پر پابندی لگا دی۔ کاروباری مراکز، دفاتر، تعلیمی ادارے پبلک ٹرانسپورٹ اور حتیٰ کہ دفاتر بھی بند کر دیئے گئے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کا لازمی جزو ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے ملک میں تمام تر تعلیمی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو گئیں۔ جس کے منفی اثرات نے طلبہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پاکستان میں پہلے ہی تعلیم کا فقدان تھا، تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے تعلیمی میدان میں واضح نقصانات ہونا شروع ہو گئے۔
تعلیمی نقصانات اور کمی کو پورا کرنے کے لئے محکمہ تعلیم نے تعلیمی اداروں کو آن لائن تعلیم جاری رکھنے کی ہدایات جاری کردیں۔ لیکن جس ملک کی تقریباً چالیس فیصد آبادی کے پاس انٹرنیٹ کی قابلِ بھروسہ رسائی نہ ہو وہاں پر انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیمی ضروریات کس طرح پایہ تکمیل کو پہنچ سکتی ہیں۔ نتیجۃ طلبہ کا رجحان تعلیم سے زیادہ دیگر سرگرمیوں میں بڑھنے لگا اور پاکستان میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار مزید گرنے لگ گیا۔ آن لائن سٹڈی کی وجہ سے امتحانات بھی آن لائن لئے گئے۔ جن میں طلبہ نے انٹرنیٹ اور ایک دوسرے کی مدد کے ذریعے خوب چاندی کی۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کی حکومتی پالیسیاں طلبہ کے مستقبل کے لئے انتہائی مہلک ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ہمارا معاشرہ پہلے ہی کتابوں سے بہت دور تھا اور مطالعے کا رجحان بالکل ہی نہ ہونے کے برابر تھا۔ تعلیمی اداروں کی بندش اور آن لائن کلاسز کی وجہ سے یہ بحران شدت اختیار کرچکا ہے۔ ایسے طلبہ جن کو زیادہ سے زیادہ وقت اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو دینے کی ضرورت تھی وہ اہنا وقت سوشل میڈیا، سنوکر کلب اور دیگر جگہوں پر ضائع کرنے لگ گئے۔ طلبہ کے دلوں میں تعلیم اور کتاب کی محبت مٹنا شروع ہو گئی اور ان کا ذہن منتشر ہو گیا۔
کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان دیہی علاقوں کے طلبہ کا ہوا۔ دیہی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے طلبہ کی ایک خطیر تعداد حصولِ علم ترک کرکے حصولِ معاش میں مصروف ہو گئی۔ ایسے طلبہ جو بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے تھے، ہاسٹل بند ہو جانے کی وجہ سے انہیں بھی واپس اپنے دیہاتوں کا رخ کرنا پڑا۔ دیہات میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی محدود ہو گئیں۔ اور دیہات کے طلبہ تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے رہ گئے۔
اگر ہمیں اپنے ملک کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں پورے ملک کے تمام طلبہ کو یکساں طور پر سہولیات دینا ہوں گی۔ خاص طور پر دیہات کے طلبہ کو جن کا تعلیم کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہوتا۔
کرونا وبا کے دوران جہاں دیگر کاروبارِ زندگی متاثر ہوئے وہیں پر تعلیم کا بھی خاطر خواہ نقصان ہوا۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے سنجیدہ مواقع پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ملک کے تمام طبقات کو سامنے رکھنا چاہئے۔
اللہ پاک پاکستان کو ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں