25

سعودی عرب موخر ادائیگیوں پرپاکستان کو تیل دینے کیلئے تیار

اسلام آباو،وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پڑنے والے بوجھ میں ریلیف کے لئے تیل کی درآمد پر موخر ادائیگیوں کی سہولت دینے کے لئے معاہدہ تقریبا طے پاگیا ہے،اس کا اعلان چند روز میں متوقع ہے، گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لئے اس پر ڈیوٹیز عائد کی جارہی ہیں، روشن ڈیجیٹل اکائونٹ ایک انقلابی قدم ہے، جس میں پروفیشنل پاکستانی تارکین وطن بیرون ملک میں رہ کر پاکستان میں اپنا اکائونٹ کھلوا سکتے ہیں، وہ یہاں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، وزیراعظم کے ہائوسنگ پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں انجینئر خرم دستگیر کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ ایک انقلابی تصور ہے۔تارکین وطن یہاں آئے بغیر الیکٹرانک اکائونٹ کھول سکتے ہیں اور سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، اپنا گھر پروگرام میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے حکومت پاکستان کی سکیموں میں مختلف شرائط ہیں۔ اس اکائونٹ سے اپنے گھر والوں کو پیسے بھجوا سکتے ہیں، ان کے ٹیلی فون بلز بھی ادا کر سکتے ہیں۔ورکرز معاونت کے لئے پیسے بھیجتے ہیں یہ ترسیلات زر 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے پیشہ ور افراد کو سہولت دی گئی ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ گروتھ اکانومی ظاہر ہو رہی ہے۔ برآمدات 35 اور امپورٹ 60 فیصد بڑھی ہیں۔ ساڑھے 400 ملین ڈالر کی ویکسین اس میں شامل ہے۔اشیا خوردونوش بھی درآمد ہوئیں۔ گندم کی امدادی قیمت بڑھائی گئی، اس سے پیداوار بھی نہیں بڑھی۔ ہم زرعی ملک ہیں اس میں درآمدات پر شرمندگی ہونی چاہیے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شرمندگی تین سال والوں کو ہونی چاہیے یا 30 سال حکومت کرنے والوں کو۔ انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس پر سبسڈی دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری طرف سے کاشتکاروں کو گندم کی بروقت امدادی قیمت سے 27 ملین ٹن کی گندم کی پیداوار ہوئی جبکہ آئندہ سال اس کا ہدف 30 ملین ٹن ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ روکنے کے لئے اس پر ڈیوٹیز عائد کر رہے ہیں، ہماری معیشت بڑھوتری کی طرف جارہی ہے۔شاہدہ اختر علی کے سوال کے جواب میں شوکت ترین نے بتایا کہ اس فنڈ نظام کو بہت بہتر کیا گیا ہے ابھی بھی بہتری کی ضرورت ہے، اس کو خودکار بنانے کا عمل جاری ہے، جو تاجر اپنے آپ کو رجسٹرڈ نہیں کرتے ان پر ٹیکس عائد کریں گے، یہ ای فنڈ ہوگا۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا۔ ایف بی آر والے اگر خود گوشوارے جمع نہیں کراتے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے حکومت آتے ہی ہمیں پانچ ارب ڈالر کیش رکھوائے۔ سعودی عرب تیل کی قیمتیں بڑھنے پر بوجھ کے ازالے کے لئے موخر ادائیگیوں کی سہولت پر غور کر رہا ہے اس حوالے سے معاہدہ تقریبا طے پاگیا ہے۔ اس کا اعلان چند روز میں متوقع ہے۔انہوں نے مسلم لیگ (ن)کے علی گوہر کی جانب سے وزرا خزانہ کی تبدیلی اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ وزیر خزانہ تنخواہ بھی نہیں لے رہا اور گاڑی بھی اپنی استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہاں وزیر خزانہ سینیٹر ہونے کے باوجود وطن واپس نہیں آیا یہ وزیر خزانہ کہیں نہیں جارہا۔شمس النسا کے سوال کے جواب میں شوکت ترین نے بتایا کہ ٹیکس فارم آسان ترین ہے، اس کو قومی زبان میں بھی جاری کردیں گے۔یاد رہے کہ رواں سال جون کے مہینے میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کے اشاروں کے بعد ریاض نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی کی سہولت بحال کر دی تھی۔درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ایک سال کی مخر ادائیگی پر 1.5 ارب ڈالر کا تیل فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اعلان حماد اظہر اور اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ریونیو وقار مسعود کی جانب سے کیا گیا تھا۔سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت پہلی بار نہیں دی جا رہی اور ماضی میں بھی یہ سہولت پاکستان کو چند مرتبہ فراہم کی گئی۔ تاہم 1.5 ارب ڈالر مالیت کے تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعلقات میں گرم جوشی کے واپس آنے کی عکاسی کرتی ہے۔ جن میں کچھ عرصہ قبل کچھ رنجش پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سعودی عرب نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں دی جانے والی تین ارب ڈالر کی مخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی معطل کر دی تھی۔یاد رہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے دس ارب ڈالر تک مصنوعات کو باہر کی دنیا سے منگواتا ہے اور آر ایل این جی کی درآمد سے توانائی کے شعبے کی درآمدات 14 سے 15 ارب ڈالر پہنچ جاتی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے سعودی عرب سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے ادھار تیل کی سہولت دوبارہ دستیاب ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ادھار پرتیل حاصل ہونے سے پاکستان کو زرِمبادلہ کے ذخائربرقرار رکھنے میں مدد تو ملے گی لیکن قرض بڑھے گا اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔گذشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں گراوٹ کے باعث موخرادائیگیوں پر تیل کی فراہمی کے معاہدے پر عمل روک دیا تھا۔ سالانہ تین ارب ڈالر کے ادھار تیل کا معاہدے کے تحت سال 2020-2019 کے مالی سال میں پاکستان نے صرف پونے دو ارب ڈالر کی سہولت حاصل کی تھی۔سعودی عرب نے 2018 کے آخر میں پاکستان کو چھ ارب 20 کروڑ ڈالر کا مالی پیکیج دیا تھا جس میں تین ارب ڈالر کی نقد امداد اور تین ارب 20 کروڑ ڈالرز کی سالانہ تیل و گیس کی موخرادائیگیوں کی سہولت شامل تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں