واشنگٹن (شاہ خالد) وائٹ ہاؤس فائرنگ کا واقعہ سیاسی تنازعہ بن گیا، افغان ملزم رحمان اللہ لکنوال کو ٹرمپ دور میں سیاسی پناہ دی گئی جبکہ امریکی صدر نے واقعہ کی وجہ بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسی کو قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین امریکا آکر مشکلات پیدا کرتے ہیں انہوں نے پناہ گزینوں کے مقدمات کا وسیع پیمانے پر ازسر نو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملزم کو رواں سال سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ہی پناہ دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد ایف بی آئی نے مشتبہ افغان ملزم 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے واشنگٹن اسٹیٹ میں گھر کی تلاشی لی اور اس کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات تحویل میں لے لیے۔،
رپورٹ کے مطابق افغان ملزم سال 2021 میں امریکہ میں سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت آیا تھا اور اس سے قبل افغانستان میں سی آئی اے کی معاون یونٹ کا حصہ تھا۔
29سالہ رحمان اللہ لکنوال 8 ستمبر 2021 کو آپریشن ایلیز ویلکم کے تحت امریکہ میں داخل ہوا۔ یہ منصوبہ سابق ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل حکومت کے سقوط کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
گزشتہ روز ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اٹارنی جینین پیرو، جو دونوں ٹرمپ کے مقرر کردہ عہدیدار ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بائیڈن انتظامیہ نے لکنوال کے پس منظر کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق لکنوال نے دسمبر 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی، جسے 23 اپریل 2025 کو منظور کیا گیا یعنی ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے تین ماہ بعد۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ ملزم کے خلاف کسی مجرمانہ سابقہ ریکارڈ کا اندراج نہیں ہے اور اسے افغانستان میں امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کے باعث پہلے ہی اعلیٰ سطح کی جانچ پڑتال سے گزارا جا چکا تھا۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف نے تصدیق کی کہ ملزم قندھار میں سی آئی اے کی معاون افواج کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن نے کہا ہے کہ یہ شخص بائیڈن کی خطرناک پالیسیوں کی وجہ سے یہاں تک پہنچا، جنہوں نے ہزاروں افراد کو کسی جانچ پڑتال کے بغیر ہی امریکہ آنے دیا۔
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں مزید 500 فوجی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے لکنوال کو درندہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ کہا۔
علاوہ ازیں ٹرمپ انتظامیہ نے تمام افغانیوں کی جانب سے دی گئی امیگریشن اور سیاسی پناہ درخواستیں معطل کردی ہیں اور بائیڈن دور میں امریکہ آنے والے افغان شہریوں کی مکمل ازسرنو جانچ کا عندیہ دیا ہے، جس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی میں سی آئی اے کے ساتھ کام کیا۔
