واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکا نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا اچانک روک دیا جب کہ پناہ کے خواہشمندوں کی اسائلم درخواستوں پر فیصلے بھی معطل کر دیے۔
عالمی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو فوری طور پر مؤخر کردیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے اعلان کے ساتھ ہی یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اپنے فیصلے روکنے کا حکم جاری کردیا، جس کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کی اسکریننگ اور سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک کوئی فیصلہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
ادارے کے ڈائریکٹر جوزیف ایڈلو نے واضح کیا کہ مکمل تسلی کے بغیر کسی بھی شخص کی درخواست پر کارروائی نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسے افراد کی شہریت بھی منسوخ کی جائے گی جو اندرونی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ صورتحال اس واقعے کا نتیجہ ہے، جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرتے ہوئے ایک افغان نژاد شخص نے نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں ایک خاتون نیشنل گارڈ ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور افغان شہری 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے ذریعے امریکا آیا تھا۔ اس پوری صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکی اداروں نے امیگریشن سے متعلق سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
