تحریر: محمد محسن اقبال
ایک زمانہ تھا جب زندگی اپنی پوری رفتار کے ساتھ مگر سکون اور وقار سے گزرتی تھی۔ جب خاندانوں کے لیے سب سے بڑی راحت یہ تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کے گرد بیٹھیں، ان کے تجربات سنیں اور ان کے کردار سے سیکھیں۔ اسی سادہ دور کے چند نمایاں چہروں میں میری تائی امّی کے نانا بھی شامل تھے جنہیں سب احترام کو ملخوظ خاطر لاتے ہوئے محبت سے” میاں جی” کہتے تھے۔ ان کی عمر تقریباً ایک سو آٹھ برس تھی، مگر بڑھاپے نے نہ ان کی سوچ کی چمک کو دھندلایا تھا اور نہ ان کے مزاج کی متانت کو۔ جب بھی وہ ہمارے گھر آتے تو یوں لگتا جیسے گھر میں کوئی خاموش سا تہوار اُتر آیا ہو۔ ہم بچے خودبخود ان کی چارپائی کے گرد فرش پر بیٹھ جاتے اور ان کی لب کشائی کا انتظار کرتے۔ ہم سوالوں کی بوچھاڑ کر دیتے—کچھ معقول، کچھ بالکل بچگانہ—لیکن وہ کبھی نہ تھکتے اور نہ جھنجھلاتے۔ ان کا صبر بے کنار تھا، محبت بے حساب۔
جب ہم ان سے طویل عمر اور اچھی صحت کا راز پوچھتے تو وہ مسکراتے، داڑھی سہلاتے اور چند اصول دہراتے جن پر وہ پوری زندگی کاربند رہے تھے: جتنا چل سکتے ہو چلو؛ کھانا تازہ اور سادہ کھاؤ؛ سالن میں زیادہ سبزیاں اور پھل کھاؤ؛ جلدی سوؤ اور جلدی جاگو؛ پانچوں نمازیں کبھی نہ چھوڑو؛ اور پھر ذرا فخر سے اضافہ کرتے کہ‘‘میں کبھی پنکھے کے نیچے ساری عمر نہیں سویا۔’’اس زمانے میں ہمیں یہ بات بھی عجیب لگتی تھی، لیکن ان کے لیے یہ ضبط و سادگی کی علامت تھی۔ وہ پرانے زمانے کے واقعات آنکھوں دیکھے گواہ کی طرح سناتے، سبق آموز حکایتیں بیان کرتے اور‘‘کامیابی کے راز’’بتاتے—قناعت، شکرگزاری، محنتِ راست اور اللہ پر کامل بھروسہ۔
ان دنوں تقریباً ہر گھرانہ ایسے ہی چلتا تھا۔ بزرگ صرف موجود نہیں تھے، گھرانے کی اخلاقی اور جذباتی اساس تھے۔ ان کی خدمت کو بوجھ نہیں، اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ لوگ اپنے ماں باپ اور دادا دادی کی خدمت میں خوشی محسوس کرتے، کھانے کے بعد ان کے پاس بیٹھتے، ان کی یادیں سنتے اور نصیحتوں پر غور کرتے۔ بچوں کو محبت سے بزرگوں کے پاس بٹھایا جاتا تاکہ وہ زندگی کا سلیقہ سیکھ سکیں۔ شاید اس کی وجہ جدید توجہ بٹانے والی چیزوں کا نہ ہونا تھا، یا ہر حال میں قناعت کا رویہ، یا پھر وہ باطنی پاکیزگی جو فطرت اور دین کے قریب رہنے سے ملتی ہے۔ مگر ایک بات طے ہے؛ گھر اس وقت ایک جیتا جاگتا ادارہ تھا، نہ کہ ایک ایسا ہوٹل جہاں ہر کوئی اپنے کمرے میں الگ پڑا رہے۔
پھر موبائل فون اور ڈیجیٹل آلات نے خاموش انقلاب برپا کر دیا۔ بظاہر یہ سہولت اور رابطہ لائے، مگر عملاً انہوں نے ہمارے رشتوں کا پورا نقشہ بدل دیا۔ آج یہ عام منظر ہے کہ ایک کمرے میں پورا خاندان بیٹھا ہے، مگر ہر شخص اپنے ہاتھ کی چھوٹی سی روشن اسکرین میں قید ہے۔ سب جسمانی طور پر ایک جگہ ہیں مگر جذباتی طور پر چار دنیاؤں میں بٹے ہوئے۔ گفتگو چند نوٹیفیکیشنز کے درمیان رُکی رُکی سی ہوتی ہے۔ ہنسی جو کبھی سب کے چہروں کو روشن کرتی تھی، اب اجنبیوں کی ویڈیوز کے لیے مخصوص ہوچکی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ‘‘موبائل فون دورِ جدید کی ضرورت ہے’’، اور یہ کسی حد تک درست ہے۔ مگر بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ ضرورت اب لت بن چکی ہے۔ چند گھنٹے بھی فون کے بغیر گزارنا ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ جب کسی سکیورٹی خدشے کے باعث ایک دو دن کے لیے موبائل سروس بند ہو جائے تو یوں لگتا ہے جیسے زندگی ہی رک گئی ہو۔ لوگ گھبراہٹ میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بے قراری بڑھ جاتی ہے، جیسے جسم کا کوئی اہم عضو چھین لیا گیا ہو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ زہر صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نرسری تک اُتر آیا ہے۔ آج یہ عام ہے کہ بچہ صرف تب کھاتا ہے جب اس کے سامنے موبائل پر کارٹون چل رہے ہوں۔ چند لمحوں کی خاموشی حاصل کرنے کے لیے مائیں بچے کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتی ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کچھ دیر گھر کے کام کر لیں گی۔ بچہ گھنٹوں تک ساکت بیٹھا رہتا ہے، نظریں منجمد، ذہن بے حس، جسم غیر متحرک۔ اور پھر جب وہی والدین بچے کو پکارتے ہیں تو وہ اکثر جواب نہیں دیتا—کیونکہ ان کے اپنے کان ہیڈفونز میں محبوس اور ذہن انہی ڈیجیٹل مناظر میں کھویا ہوا ہوتا ہے جو کبھی انہوں نے بچے کو دکھائے تھے۔
بحثیت قوم ہم اس چھوٹے سے آلے کے یرغمال نظر آتے ہیں۔ اس نے ہمارے بیڈرومز، ڈائننگ ٹیبلز، مساجد، کلاس رومز، حتیٰ کہ جنازوں تک میں جگہ بنا لی ہے۔ اگر یہ روش جاری رہی تو مستقبل صرف بے آرام نہیں، خوفناک اور تکلیف دہ ہوگا۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جو جسمانی طور پر موجود مگر جذباتی طور پر غیر حاضر ہو، دنیا سے تو جڑی ہو مگر اپنے خاندان سے کٹی ہوئی، ہر چیز کا علم رکھتی ہو مگر کسی بات کی دانائی سے محروم۔
اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی کے انکار میں نہیں—یہ نہ عملی ہے نہ مناسب۔ حل توازن کی بحالی اور کنٹرول کی واپسی میں ہے۔ خاندانوں کو چاہیے کہ گھروں میں‘‘فون فری اوقات’’اور‘‘فون فری مقامات’’متعین کریں—جیسے کھانے کے وقت، خاندانی نشستوں میں اور سونے سے ایک گھنٹہ پہلے۔ والدین کو سمجھنا ہوگا کہ بچے کا پہلا نمون? کردار اسکرین پر دکھایا جانے والا کوئی ہیرو نہیں بلکہ خود والدین ہیں۔ اگر والدین فون سے چمٹے رہیں گے تو اسکرین ٹائم کم کرنے کی ہر تلقین بے اثر رہے گی۔
اسکول اور مذہبی ادارے بچوں اور والدین دونوں کو اسکرین کے بے جا استعمال کے ذہنی و جسمانی نقصانات سے آگاہ کریں—توجہ کی کمزوری سے لے کر نیند کی خرابی اور رشتوں کے بکھراؤ تک۔ میڈیا اور کمیونٹی پروگراموں کو چاہیے کہ میان جی جیسے بزرگوں کی مثالیں اجاگر کریں، یہ یاد دہانی کہ صحت، طویل عمر اور سکون ہمیشہ سادگی، حرکت، میانہ روی، روحانیت اور انسانی تعلقات میں رہا ہے—نہ کہ نہ ختم ہونے والی سکرولنگ اور مجازی تالیاں بجانے والوں کی تعداد میں۔
اور فرد کی سطح پر ہر شخص کو ایک سخت سوال خود سے پوچھنا ہوگا؛ مالک کون ہے اور خادم کون؟ موبائل فون ہماری خدمت کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ ہمیں غلام بنانے کے لیے۔ ہمیں چھوٹے مگر مضبوط قدموں سے آغاز کرنا ہوگا۔ والدین اور بزرگوں سے بات کرتے وقت فون ایک طرف رکھ دیں۔ ان کے پاس صرف کسی‘‘مسڈ کال’’یا‘‘واٹس ایپ پیغام’’کے بہانے سے نہ جائیں—بلکہ حقیقی تعلق کے ساتھ ملیں۔ ان کی باتیں دوبارہ سنیں، چاہے وہ بارہا سنی ہوئی ہوں۔ ایک گھنٹہ بے مقصد اسکرولنگ کے بجائے چہل قدمی کریں، کوئی اچھی کتاب کا صفحہ پڑھیں یا کسی عزیز سے بامعنی گفتگو کریں۔
اگر ہم ایسا کر پائیں تو شاید ہم نہ صرف اپنی آئندہ نسلوں کو بچا لیں بلکہ اپنے ماضی کا کچھ قیمتی حصہ بھی واپس پا لیں۔ ہم شاید میان جی کی طرح ایک سو آٹھ برس نہ جی سکیں، مگر ضرور ایسی زندگی گزار سکتے ہیں جو محبت میں بھرپور، روح میں پرسکون اور ان اقدار سے جڑی ہو جنہوں نے کبھی ہمارے گھروں کو حقیقی کردار سازی کے مدرسے بنایا ہوا تھا۔
