Saturday, November 29, 2025
ہومپاکستانآئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کا احتساب شروع کر دیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے پر عملدرآمد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا۔
ایف بی آر نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دیں۔اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں۔ جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔
شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنی دیا گیا ہو۔ایف بی آر نے کہا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد قواعد کو جامع اور ہم آہنگ بنانا ہے جس سے سرکاری و نیم سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی معلومات کے تبادلے کا نظام مزید واضح اور شفاف ہوسکے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔