Saturday, November 29, 2025
ہومبریکنگ نیوزمتنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

متنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد(آئی پی ایس) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت ہوئی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیلئے اسٹیٹ کونسل مقرر کردیا گیا۔

شکیل احمد ایڈووکیٹ نئے اسٹیٹ کونسل مقرر کیے گئے، اس قبل مقرر کردہ اسٹیٹ کونسل پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیجانب سے اعتراض کیا گیا تھا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکلاء کیجانب سے اسٹیٹ کونسل کی حمزہ شہباز کیساتھ تصاویر عدالت میں پیش کی گئیں تھی، ایمان مزاری اور ہادی علی کیجانب سے سیاسی وابستگی کی بنا کر اسٹیٹ کونسل کو ہٹانے کی استدعا کی تھی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، ہادی علی چٹھہ نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

اس دوران پراسیکیوٹر کیجانب سے بار بار ٹوکنے پر ہادی علی چٹھہ اور پراسکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ یہ عدالت پہلے ہی ہمیں سزا دینے کا فیصلہ کر چکی ہے، ہماری فرد جرم کیخلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے۔

ہادی علی چٹھہ کیجانب سے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، جج محمد افضل مجوکہ نے آج سماعت کا آڈر لکھوانا شروع کردیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کیجانب سے ہادی علی چٹھہ کے بیان پر توہین عدالت کا ذکر کیا گیا، ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کی استدعا پر جج افضل مجوکہ نے توہین عدالت کا جملہ آڈر سے نکلوا دیا۔

جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ جہاں میری ذات کا تعلق ہے تو میں سرنڈر کردوں گا، جہاں بات قانون کی ہوگی وہاں قانون پر عملدرآمد ہوگا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف کیس کی سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔