تحریر: محمد محسن اقبال
برسوں سے پاکستان اس دن کا منتظر تھا جب ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ پاکستانی سرزمین پر کھیلا جائے گا۔ یہ خواہش محض کھیل تک محدود نہ تھی، بلکہ اس امید کی علامت تھی کہ شاید اس میچ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کچھ کمی آسکے۔ خطے کے حالات بھی پاکستان کے حق میں بدل رہے تھے، اور ماضی کی کرکٹ ڈپلومیسی کی بازگشت آج بھی اجتماعی یادداشت میں باقی تھی۔ دنیا بھر کی ٹیمیں پاکستان کے امن، استحکام اور مہمان نوازی کو تسلیم کرتے ہوئے بلا جھجھک پاکستان آ رہی تھیں۔
مگر اس کے برعکس بھارت مسلسل ہچکچاہٹ کا شکار رہا—اور اپنے اس مؤقف پر جما رہا کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان نہیں بھیجے گا، حالانکہ زمینی حقائق اس بیانیے کی تائید نہیں کرتے تھے۔
لیکن پھر مئی کے اوائل میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔
بھارت، جو کرکٹ کیلئے آنے کو تیار نہ تھا، اچانک پاکستان میں یوں نمودار ہوا کہ نہ کوئی میچ تھا، نہ کوئی میدان—بلکہ آگ اور بارود سے کھیلا جانے والا ایک ہنگامی اور غیر اعلانیہ مقابلہ۔ وہ رات کے اندھیرے میں آیا، نہ دعوت، نہ اطلاع، اور نہ ہی ہمسائیگی کے بنیادی آداب کو ملحوظ رکھا۔
پاکستان چند لمحوں کیلئے حیران ضرور ہوا، جیسے بھارت وہی میچ کھیلنے آگیا ہو جس سے وہ برسوں بھاگتا رہا تھا—لیکن نہایت خطرناک صورت میں۔ تاہم پاکستان نے ذمہ دار ہمسائے کی طرح معاملے کو تحمل، ہوش اور حکمت سے نمٹایا۔ اگر بھارت پانچ روزہ مقابلہ لڑنے پر بضد تھا تو پاکستان نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ اس کا جواب ایک ایسی ٹیم کی طرح دے گا جو اپنے باؤلرز، فیلڈرز اور اجتماعی نظم و ضبط پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ چنانچہ 9 مئی کی درمیانی رات ایک مختصر مگر فیصلہ کن جھڑپ کا آغاز ہوا—ایسی جھڑپ جسے شور نہیں، بلکہ انجام کی وضاحت نے تاریخ میں محفوظ کیا۔
بھارت جس غرور کے ساتھ اس میدان میں اترا تھا، وہ چند ’اوورز‘ بھی نہ کھیل سکا۔ چھ گھنٹوں کے اندر پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کی جارحیت کو یوں بے نقاب کیا جیسے تیز رفتار یارکرز غیر مستحکم وکٹیں اڑا دیں۔ اس کے بعد آنے والی ’باؤنسرز‘ نے بھارتی صفوں کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ جب بھارتی قیادت نے پاکستان کی درست حکمت عملی، تیاریوں اور عزم کو دیکھا تو انہوں نے خود ہی مقابلہ ختم کرنے کی ضد پکڑ لی۔ اس ’میچ‘ کا اسکور بورڈ بھارت کے حق میں نہ تھا، اور اس مہم جوئی کا بوجھ اس کی اپنی غلط فہمیوں کے نیچے دب کر رہ گیا۔
معاملہ یہیں ختم ہو سکتا تھا، مگر عالمی سیاست میں کچھ بھی آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ اس جھڑپ کے فوراً بعد امریکی صدر کے وہ بیانات سامنے آئے جنہوں نے بھارت کی سیاسی قیادت کو سخت جھنجھوڑ دیا۔ نہایت بے تکلفی اور طنزیہ انداز میں وہ بار بار پوچھتے اور بدل بدل کر بتاتے رہے کہ بھارت کے کتنے طیارے مار گرائے گئے—کبھی پانچ، کبھی چھ، اور کبھی سات۔ یہ بدلتے ہوئے اعداد دنیا بھر کے لئے تفریح کا باعث بن گئے۔
مگر بھارت کے وزیراعظم کیلئے یہ سوال مستقل شرمندگی کا سبب بن گیا۔ انتخابی مہم کے دوران جہاں بھی گئے، عوام طنزیہ انداز میں یہی پوچھتے:‘‘طیارے کتنے تھے؟’’یہ منظر بھارتی فلم ”شعلے” کے مشہور مکالمے کی یاد دلاتا تھا، جب گبر سنگھ پوچھتا ہے:‘‘کتنے آدمی تھے؟’’یوں لگتا تھا جیسے زندگی نے سیاست کو فلمی طنز کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔
مئی کے بعد بھی امریکی صدر کے انکشافات جاری رہے، ہر نیا بیان نئی خجالت کا سامان بنتا رہا۔ اور جب بھی طیاروں کا ذکر آتا، ایک اور تازہ واقعہ ذہن میں تازہ ہو جاتا—جو حال ہی میں دنیا کے سامنے پیش آیا تھا۔
دبئی ایئر شو میں، جہاں دنیا بھر کے طیارے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کر رہے تھے، ایک بھارتی جنگی طیارہ سبکی کا باعث بن گیا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ طیارے سے تیل رس رہا ہے اور بھارتی ٹیکنیشنز پلاسٹک کے شاپنگ بیگز اور ڈبوں میں تیل جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں—گویا کسی ورکشاپ میں کھڑی بوسیدہ مشین ہو۔ جدید ائرفورس کی بجائے یہ منظر بھارتی عسکری نظام کی بدانتظامی اور ناقص نگہداشت کا عکاس تھا۔
ابھی یہ ہزیمت تازہ ہی تھی کہ ایک اور سانحہ پیش آگیا۔ بھارتی تیجس جنگی طیارہ شو کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جس میں ونگ کمانڈر وکرم سنگھ ہلاک ہوگئے۔ یہ مسلسل حادثات اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کرتے گئے کہ بھارتی طیارے—چاہے نمائش میں ہوں یا عملی کارروائی میں—صلاحیت کی بجائے ناکامی کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ اور مئی کی جھڑپ کے بعد تو یہ سلسلہ اور بھی تیزی سے بڑھنے لگا۔
بھارت کی بلا اشتعال دراندازی کے بعد پاکستان نے اپنے فضائی حدود بھارتی مسافر طیاروں کیلئے معطل کر دیں۔ یہ فیصلہ حکمت اور خود مختارانہ اختیار کے عین مطابق تھا۔ اس کے بعد سے بھارتی ائیرلائنز کو طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اخراجات اور نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں مسافر پروازیں بھی بھارت کی غلط حکمت عملی کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
مئی کا مہینہ یوں جنگی طیاروں سے لے کر مسافر جہازوں تک بھارت کیلئے نقصانات، رکاوٹوں اور رسوائیوں کی علامت بن گیا۔
لیکن سبق واضح ہیں۔ پاکستان خطے میں امن، وقار اور استحکام چاہتا ہے۔ اس نے کرکٹ میں تحمل، سفارت کاری میں بردباری، اور دفاع میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر امن یک طرفہ نہیں ہوتا۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ اس کے اقدامات نہ صرف فوری فضا کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ دنیا ترقی اور تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے—ایسے میں مہم جوئی کسی کے مفاد میں نہیں، بالخصوص ایسے ملک کے جو بار بار اپنی ہی غلطیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
خطہ سکون چاہتا ہے، تماشا نہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام ترقی کے مستحق ہیں، تباہی کے نہیں۔ بھارت کیلئے یہی بہتر ہے کہ وہ اشتعال کی بجائے امن کو ترجیح دے، اور کسی ایسی غلطی سے بچے جو سرحدوں یا فضا کو ایک اور خطرناک میدان میں تبدیل کر دے۔
