بیجنگ : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے چین کے دورے پر آئے ہوئے شام کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ اسد حسن الشیبانی کے ساتھ بیجنگ میں ملاقات کی۔پیر کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین اور شام دونوں ترقی پذیر ممالک ہیں اور دونوں کے مابین مشترکہ مفادات موجود ہیں۔
چین نے ہمیشہ اس اصول کو برقرار رکھا ہے کہ تمام ممالک، بڑے ہوں یا چھوٹے ، برابر ہیں ۔ چین ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور گلوبل ساوتھ کے جائز حقوق اور مفادات کا پختہ طور پر تحفظ کرتا ہے ۔ چین تمام شامی عوام کے ساتھ دوستانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور شامی عوام کی مرضی کے مطابق ان کے انتخاب کا احترام کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین ون چائنا پالیسی پر عمل کرنے پر شام کے عزم کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ شام “تائیوان کی علیحدگی ” کی مخالفت اور چینی قوم کی وحدت کی مضبوطی سے حمایت کرے گا اور مشترکہ طور پر دوطرفہ تعلقات کی سیاسی بنیادوں کی حفاظت کرے گا۔
ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ شام نے عہد کیا ہے کہ وہ چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی ادارے کو شامی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ چین اس وعدے کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ شام اسے نافذ کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے گا، اور اس طرح چین اور شام کے تعلقات کی ترقی کا راستہ ہموار ہو گا ۔وانگ ای نے کہا کہ اگلے سال چین اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ ہے۔ دونوں فریقوں کو بتدریج تمام سطحوں اور تمام شعبوں میں تبادلہ دوبارہ شروع کرنا چاہیے ۔ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں شام کی شرکت کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ چین شام کی اقتصادی تعمیر نو میں فعال طور پر حصہ لینے اور شام کی سماجی ترقی اور معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
