Saturday, November 29, 2025
ہومبریکنگ نیوزقومی سلامتی کا ڈھانچہ از سر نو ترتیب ، 1976 کے بعد سب سے بڑی تبدیلی

قومی سلامتی کا ڈھانچہ از سر نو ترتیب ، 1976 کے بعد سب سے بڑی تبدیلی

اسلام آباد(سب نیوز )قومی سلامتی کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دے دیا گیا ہے، ملک کی ہائر ڈیفنس آرگنائزیشن میں 1976 کے بعد سے کی جانے والی یہ سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ڈان اخبار میں شائع تجزیاتی رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ ازسرِ نو تشکیل آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم اور آرمی، ایئر فورس اور نیوی سے متعلق قوانین میں بعد میں کی گئی تبدیلیوں کے ذریعے متعارف کرائی گئی، جن کے حامی اسے جدیدیت قرار دیتے ہیں، جب کہ ناقدین اسے مرکزیت کی طرف خطرناک جھکا کہتے ہیں۔اس نئے نقشے کے مرکز میں ایک ہی عہدہ ہے اور وہ ہے آرمی چیف کا عہدہ، جو جلد ہی چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوگا۔

یہ دوہرا عہدہ مسلح افواج میں ملٹی ڈومین انضمام، تنظیمِ نو اور مشترکہ صلاحیت پیدا کرنے کے حوالے سے بے مثال اختیارات رکھتا ہے، قانون میں ترمیم کے مبہم الفاظ یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ سی ڈی ایف کا کردار کون طے کرے گا، خواہ وہ مشترکہ فورس کے انضمام سے متعلق ہو یا ساختی اصلاحات کے حوالے سے ہو، اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے پارلیمانی منظوری کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔قانون سازی کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی ختم کردیا گیا ہے،

یہ وہ سہ رکنی (ٹرائی سروسز) عہدہ تھا، جو 1971 کی جنگ کے تلخ تجربات کے بعد بنایا گیا تھا، جب نیوی کو جنگ کے آغاز کا ریڈیو کی خبروں سے پتا چلا تھا اور پاکستانی بحری جہاز خیبر بھارتی میزائل کے حملے میں ڈوب گیا تھا۔اس عہدے کا خاتمہ 27 نومبر سے مثر ہوگا، جو کم از کم جنگی حالات کے دوران تینوں افواج کی مشترکہ نمائندگی کے تقریبا 5 دہائیوں پر مبنی تسلسل کے خاتمے کے مترادف ہے۔حکومت اور فوج نے نئی کمانڈ ساخت کو عملی ضرورت کے طور پر پیش کیا ہے، جدید جنگیں ڈیجیٹل رفتار سے چلتی ہیں، سائبر، خلا، ڈرونز اور اطلاعاتی کارروائیاں روایتی سروسز کی سرحدوں کو نہیں مانتیں، لیکن پاکستان دہائیوں سے ایچ ڈی او کے ساتھ رہ رہا تھا، جسے ماہرین تحقیقی دور کا باقیہ اور ساختی طور پر کھوکھلا قرار دیتے تھے، اس لحاظ سے اصلاحات ناگزیر تھیں۔لیکن اصلاحات کیسے کی جاتی ہیں

، یہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ یہ کہ کیوں کی جاتی ہیں۔امریکا کے گولڈ واٹرنکولز ایکٹ یا بھارت کے سی ڈی ایس ماڈل کی طرح اختیارات کو مشترکہ کمانڈ میں تقسیم کرنے یا ایک غیر جانبدار کوآرڈینیٹنگ چیف کو طاقت دینے کے بجائے، اس اصلاح نے جوائنٹ نس کا تمام بوجھ آرمی چیف کے دفتر میں مرکوز کر دیا ہے۔ایک سابق جنرل نے کہا کہ یہ بوجھ مشترکہ سروسز کے درمیان نہیں کیا جارہا، بلکہ ان کے اوپر قائم کیا جارہا ہے۔پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل عباس خٹک نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ تاریخی تجربہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ زمینی، سمندری اور فضائی افواج کا آزادانہ اسٹیٹس انتہائی مثر ثابت ہوا ہے، یہ ماڈل مغربی افواج میں برسوں کی تحقیق و مباحثے کے بعد اختیار کیا گیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔