راولپنڈی (آئی پی ایس )بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف اور ایئر چیف سے ملاقاتیں کیں جس میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق بھی ہوا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر شیخ محمد بن عیسی بن سلمان آل خلیفہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان و بحرین کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماوں نے پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی سطح پر تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا، بحرینی کمانڈر نے اپنے دورے کے دوران علیحدہ علیحدہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقاتیں کیں۔نیول ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے خطے میں مشترکہ بحری سلامتی کے فروغ کے لیے پاک بحریہ کے تعمیری کردار کو سراہا اور علاقائی بحری استحکام کا اہم ضامن قرار دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کے دوران ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان ایئر فورس کی جدیدکاری کی کوششوں، صلاحیتوں میں اضافے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مقامی سطح پر دفاعی پیداوار اور جدید تربیتی اصلاحات سے آگاہ کیا۔ فریقین نے ڈرونز، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، جدید سینسرز، ڈیجیٹل جدت، فضائی دفاع کو درپیش نئے چیلنجز اور مربوط دفاعی نظاموں سمیت ابھرتی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجیز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بحرینی کمانڈر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، آپریشنل تیاری اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پاک افواج کی جدیدکاری اور مقامی دفاعی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی اور تربیت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں مزید تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور بحرین کے درمیان مضبوط اور دیرینہ دفاعی شراکت داری کا مظہر ہے، اس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

