Wednesday, June 10, 2026
spot_img
spot_imgspot_img

یاجوج ماجوج؟

‏‎ تحریر: فرزین تارڑ
@FarzeenTarar
یاجوج ماجوج کا ذکر اکثر سننے کوملتا ہے لیکن اکثر لوگ ان کی حقیقت سے بے خبر ہیں کہ آخر یاجوج ماجوج کیا ہےِ؟ اور یہ کیسے حملہ آور ہوں گے؟
یاجوج ماجوج کون ہیں ؟
یاجوج ماجوج ایک قوم ہے جس کا ذکر الہامی کتابوں میں بھی موجود ہے کہ اس مخلوق کو حضرت ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کرکے انسانی دنیا کے دوسری جانب قید کردیا تھا لیکن قیامت سے پہلے یاجوج ماجوج اس دیوار سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جہاں سے گزریں گے انسانی بستیوں کو تباہ و برباد کردیں گے۔
پھر وہ حملہ کرتے کرتے ایک جھیل پرپہنچے گی جس کا ذکر کتابوں میں موجود ہے کہ وہ اس جھیل کا سارا پانی پی جائے گی اوراس کے پیچھے آنے والے گروہ کو اس میں ایک بھی پانی کا قطرہ نہیں ملے گا اور ایسا محسوس ہوگا جیسے یہاں کبھی کوئی جھیل ہی نہیں تھی۔ اس جھیل کا نام ہے طبریہ ہے اور یہ بحرہ طبریہ کے پاس موجود ہے۔ جھیل طبریہ اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ہے۔ یہ اسرائیل میں سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے جو 21 کلومیٹر لمبی ، 13 کلومیٹر چوڑی اور 43 میٹر گہری ہے ۔ یہ وہی جھیل ہے جسے آج اسرائیل اپنے لئے معتبر سمجھ رہا ہے وہی یاجوج ماجوج کی منزل ہوگی جس کا ذکر قرآن مجید نے چودہ سو برس پہلے فرمادیا تھا یاجوج ماجوج دراصل کون ہیں اور یہ کہاں رہتے ہیں ،مولانا حافظ الرحمن نے اپنی کتاب قصص القرآن میں اس کا ذکر کیا ہے اور قرآن مجید کی سورہ کہف میں اس کا ذکر موجود ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے ”یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان پہاڑوں سے پہلے کچھ لوگ ملے جن کے بارے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھتے“ مفسرین و محقیقن نے لکھا ہے کہ حضرت ذوالقرنین سفرکرتے وہاں جا پہنچے جو آرمینیا اور آذر بائیجان کے نزدیک واقع ہے۔ وہاں دو پہاڑوں کے درمیان سے ایک قوم نکلتی تھی جو کھیت تباہ کر دیتی ترکوں کو بے دردی سے قتل کرڈالتی اور انہیں غلام بنا کر لے جاتی تھی ۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت ذوالقرنین سے درخواست کیکہ ہم آپ کو کچھ رقم جمع کردیں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی رکاوٹ بنادیں۔ یہ یاجوج ماجوج تھے۔
قران مجید میں رشاد باری تعالی ہے ” انہوں نے کہا ، اے ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کو کچھ مال کی پیشکش کرسکتے ہیں، جس کے بدلے آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی دیوار بنا دیں؟“اس پر حضرت ذوالقرنین نے جواب دیا ” اللہ نے مجھے جو اقتدار عطا فرمایا ہے، وہی (میرے لیے) بہتر ہے۔ لہذا تم لوگ میری مدد کرو، تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا “پھر حضرت ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے دونوں پہاڑوں کے درمیان کھڑے کیے اور لوگوں سے کہا ان کو جلاو جب وہ سرخ ہوگئے تو اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا گیا تاکہ لوہے کے ٹکڑے مضبوطی سے آپس میں جڑجائیں اور چکناہٹ کے سبب کوئی اس پر چڑھ نہ سکےچنانچہ یہ دیوارایسی بن گئی کہ یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے تھے اورنہ اس میں کوئی سوراخ بنا سکتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی لمبائی پچاس میل، اونچائی 290 فٹ اورچوڑائی 10 فٹ ہے۔
محقیقین کے مطابق قرآن مجید کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ذو القرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان سفر کیا ۔ اس پہاڑی سلسلے میں ایک جگہ بہت ہی بلند ترین پہاڑ ہیں جن کے درمیان وہ واحد راستہ ہے جہاں سے آیا جایا جاسکتا ہے مگر یہ راستہ مکمل برف سے ڈھکا ہوا ہے اس کے اندر لوہا اور دھات موجود ہے۔
تاریخ کے مطابق یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے ” یافث “ کی اولاد میں سے ہیں جو خانہ بدوش اور وحشی قبائل پر مشتمل تھی۔ ان کی تعداد بہت تیزی کے ساتھ بڑھی ۔ یہ حضرت ذو القرنین کے زمانے تک مختلف قبائل ، قوموں اور آبادیوں میں پھیل چکے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ تب سے اب تک یاجوج ماجوج اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح دیوارکو گراکر باقی دنیا سے جاملیں یہ روزدیوا کو توڑتے ہیں ، جب تھوڑا ساحصہ رہ جاتا ہے اور سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا سردار واپسی کا حکم دیتا ہے کہ باقی کا کام کل کریں گے مگر اگلے روز دیوار کہیں زیادہ مضبوط ہوچکی ہوتی ہے۔
جب یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا تو وہ تمام دن دیوار میں سوراخ کریں گے اور ہر روز کی طرح ان کا سردار شام کو واپسی کا حکم دے گا اور کہے گا باقی کام کل کریں گے ان شاء اللہ اس سے پہلے کبھی انہوں نے یہ الفاظ استعمال نہ کیے ۔ ان الفاظ کی برکت سے دوسرے روز دیوار کو ویسا ہی پائیں گے جیسا چھوڑ کرگئے تھے۔ انتہائی پرجوش ہوکر دیوار گرا دیں گے اور زمین پر پھیلتے چلے جائیں گے۔ جہاں سے گزرے گے تباہی پھیلائیں گے ۔ مخلوق خدا کو اپنے شروفساد کا نشانہ بنائیں گے ۔ان کا پھیلا گروہ جب بھاگتا ہوا جھیل ” طبریہ ” سے گزرے گا تو صحیح مسلم کے مطابق وہ سارا پانی پی جائیں گے۔ جب آخری گروہ وہاں پہنچے گا تو کہے گا کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔
بحرطبریہ اسرائیل میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے اس کا ذکرتوریت وانجیل میں بھی آیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بڑا حصہ اسی جھیل کے ساحل پر گزارا ۔ یہاں سے قتل وغارت کرتے ہوئے یاجوج ماجوج بیت المقدس تک پہنچیں گے اور اعلان کریں گے کہ زمین پرہمارا قبضہ ہوچکا ہے اب ہم آسمانوں پر بھی قبضہ کریں گے اور آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے جو خون آلود واپس آئیں گے۔ کوئی ان کا مقابلہ نہ کرپائے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو لیکر کوہ طور پرپناہ لیں گے اورعام لوگ محفوظ مقامات پربند ہوکر اپنی جانیں بچائیں گے۔
دجال کو قتل کون کرے گا ؟
مولانا حافظ الرحمن نے اپنی کتاب قصص القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور تمام مسلمان مل کر اللہ سے دعا کریں گے یہ ان سے جان چھڑا دیں پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایسا کیڑا پیدا کرے گا جو ان کی موت کا باعث بنے گا۔ پوری زمین ان کی لاشوں سے بھر جائے گی ۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی جو زمین کو ان تمام لاشوں سے پاک کردے گی۔
اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر دجال کو قتل کرچکے ہوں گے ان کے نکلنے کی ایک علامت بحریہ طبریہ کے پانی کا تیزی سے کم ہونا بیان کیا جاتا ہے جس کا حدیث مبارکہ میں بھی ذکر ہے ۔ اور یہی وہ وقت ہو گا جب قیامت قریب ہوگی ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔