15

کورونا سے2کروڑ 6 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے،رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد،وزارت منصوبہ بندی نے کورونا وائرس سے متعلق سروے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے دوران 2 کروڑ 73 لاکھ افراد معاشی طور پر متاثر ہوئے، کورونا کے باعث 2 کروڑ 6 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے،67 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی ہوئی، سمارٹ لاک ڈاون پالیسی کے بعد 1 کروڑ 84 لاکھ افراد کا روزگار بحال ہوا، روزگار کی فراہمی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، معاشی نمو میں اضافے اور روزگار کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں،اجلاس میں الیکشن ترمیمی بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک بھی منظور کر لی گئی، اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کے دوران واک آئوٹ کیا جبکہ گنتی کے دوران ایوان میں کورم پورا نکلا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کو سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران الیکشن ترمیمی بل مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظور کر لی گئی، انتخابی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی نے مشترکہ اجلاس میں بھیج دیا، قومی اسمبلی نے وزیرقانون کی تحریک منظور کر لی، قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کا دوسرا ترمیمی بل بھی مشترکہ اجلاس کو بھیج دیا۔ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے تحریک پیش کرنے کی مخالفت کی۔اجلاس کے دوران وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ کیا سمندر پار پاکستانیوں کا ملک پر کوئی حق نہیں ،۔29 ارب ڈالر ملک میں بھجوانے والوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا زیادتی ہوگی۔ ای وی ایم کے حوالے سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا، پہلی مرتبہ الیکٹرانکلی انتخابات کی بات ہورہی ہے، انتخابات کے کنڈکٹ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعہ ہوتا ہے، الیکشن کمیشن کا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے اعتراض نہیں بنتا۔ وزیرقانون الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کسی نے بھی ایک اعتراض نہیں اٹھایا، ای وی ایم یا کسی اور چیز پر اعتراض اٹھانا الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات اگرشفاف ہوئے تو اپوزیشن جماعتیں جیت جائیں گی، آج سے پارلیمنٹ سے الیکشن کی دھاندلی کی بنیاد رکھی جارہی ہے، اگرمعاملہ مشترکہ سیشن گیا توآج سے جھگڑا شروع ہوچکا ہے، ہم اس گناہ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہاس کے اندرووٹ کی عزت پامال ہورہی ہے۔ الیکشن ترمیمی ایکٹ 2017 متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ طے کیا گیا تھا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں سب کو نمائندگی دی جائے گی۔ ای وی ایم کودنیا میں رول بیک کیا گیا، ہمیں نہیں حکومتی جماعت کے لوگوں کوبھی اعتراض ہے۔قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ لیگی رہنما غلط بیانی کر رہے ہیں، الیکشن کے بعد ہر پارٹی دھاندلی کا الزام لگاتی ہے، چاہتے ہیں الیکشن میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، ای وی ایم کوئی نئی چیزنہیں ان کو ہارنے کا خوف ہے، دھاندلی کو روکنے کا ای وی ایم واحد طریقہ ہے، خواجہ آصف نے غلط بیانی کی اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ اس وقت حکومت اوراپوزیشن میں بہت بڑا خلا ہے، اپوزیشن کی طرف سے معاملے کوسلجھانے کی پوری کوشش کی گئی، مشینیوں کوپائلٹ پراجیکٹ کے لیے استعمال کیا گیا، مشینیوں کوناکام قراردیا گیا وہ رپورٹ آج تک اسمبلی میں پیش نہیں کی گئی۔ ہم چاہتے ہیں اتفاق رائے پیدا کیا جائے، حکومت معاملے کو بلڈوز کرنا چاہتی ہے، الیکٹرول ریفارمز، جلد بازی میں معاملے کومشترکہ سیشن نہیں بھیجنا چاہیے، اگرمعاملہ مشترکہ سیشن میں جائے گا توپھراعتماد کیسے بڑھے گا پھرکچھ نہیں ہوسکے گا۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ بل کے حوالے سے اپوزیشن کا موقف سامنے آگیا ہے، کچھ عرصے سے انتخابات کے حوالے سے ترمیمی بل زیرگردش رہا۔ درخواست کرتا ہوں سپیکرصاحب متنازع قانون سازی کوروکنے میں اپنا کردارادا کریں، متنازع قانون سازی، ملک میں ہنگاموں، افراتفری کی بنیاد رکھی جارہی ہے، الیکشن حکومت نے یا الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ انتخابی طریقہ کارپراتفاق رائے ضروری ہے، انتخابی اصلاحات کے حوالے سے مذاکرات جاری تھے، جب سپیکرکا چیمبرمشاورت کا کردارادا کررہا ہے تو پھرایسا کیوں کیا جارہا ہے، متنازع قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، سپیکرصاحب!آپ نے اپوزیشن کوتسلی دی تھی۔ علاوہ ازیں مردم شماری کے حوالے سے پیش رپورٹ کے مطابق ساتویں مردم شماری 31 اگست 2022 تک کرائے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مردم شماری کی حتمی منظوری مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے مشروط ہو گی۔رپورٹ کے مطابق ادارہ شماریات نے مردم شماری کے لیے 23 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی درخواست کر دی، وزارت خزانہ نے ابتدائی طور پر 5 ارب روپے مردم شماری کے لیے مختص کر دیے۔ بقیہ رقم مردم شماری کے آغاز پر فراہم کی جائے گی۔دوسری طرف وزارت منصوبہ بندی نے کورونا وائرس سے متعلق سروے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی۔رپورٹ کے مطابق کورونا کے دوران 2 کروڑ 73 لاکھ افراد معاشی طور پر متاثر ہوئے، کورونا کے باعث 2 کروڑ 6 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے،67 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی ہوئی، سمارٹ لاک ڈاون پالیسی کے بعد 1 کروڑ 84 لاکھ افراد کا روزگار بحال ہوا، روزگار کی فراہمی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، معاشی نمو میں اضافے اور روزگار کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں