124

‏ غلط فہمی

تحریر: حمیرا الیاس
@humma_g
“بس کیا بتاؤں ہم دونوں کے درمیان محبت کے علاوہ کوئی تعلق نہ تھا، سمجھ نہیں آئی اسے کیوں لگنے لگا کہ میں اس سے زیادہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوں، اور پھر رشتہ کچا دھاگا ثابت ہوا.”
“سب ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ ایک دن میں ان کی اپنی والدہ سے گفتگو سنی، سمجھ سے باہر تھا کہ انہیں مجھ سے اتنی پرخاش کیوں ہوئی، میں بھی خوب سنائیں جا کر، اور لڑکروالدین کے گھر آ گئی، بعد میں پتا لگا کہ ان تک باتیں غلط رنگ دے کر پہنچانے والی میری دور کی کزن تھی جس سے میری خوشگوار زندگی برداشت نہیں ہورہی تھی. ”
” مجھے انہوں نے جاب سے نکال دیا، کیونکہ سپر وائزر کے مطابق میری تین آبزرویشن میں اس نے مجھے فون پر بات کرتے پایا، اس دن میرے والد کی طبیعت بہت خراب تھی اور انہیں ہسپتال لے کر گئے تھے، اور سپروائزر کو لگا کہ میں ٹائم پاس کررہا ہوں. بس چھوٹی سی غلط فہمی نے میری پانچ سالہ محنت پر پانی پھیردیا۔ ”
انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا، اور اس کے ذہنی قرطاس پرمعاملات کا عکس ہر دوسرے انسان سے مختلف انداز میں بنتاہے۔ ہمارے عمومی رویے صرف ہمیں ہی نہیں ہمارے اردگرد لوگوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ایک ہی معاملہ کسی ایک کے لئے اگر بہت دردناک ہو تو دوسرے کے لئے ایک نارمل روپ لئے ہوسکتا۔ کیونکہ ایک ہی چیز کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز سب کا جداگانہ ہے اور یہی جداگانہ طرز فکر ایک ہی معاملہ کے مختلف پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے معاون ہوتا۔ س حد تک تو معاملات ٹھیک ہوتے لیکن جب معاملہ اس سے آگے بڑھے جس میں خود کو درست اور اگلے بندے کوغلط ثابت کرنے کی مکمل کوشش کی جانے لگے اور انا کی دیواریں اونچی کی جانے لگیں تب زندگی کا دم گھٹنے لگتا اور رشتے غلط فہمی کا شکار ہو کر محبتیں معدوم ہونے لگ جاتیں۔
معاشرتی روابط میں اک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں کچھ فرق آنا فطری بات ہے لیکن یہ تب غیر فطری ہونے لگتا جب اس فرق کو ہم وجہ اختلاف بنا لیتے، ایک بہتر رویہ یہ کہ اختلافات کو فوری ڈسکس کر کے ان کو ختم کر لیا جائے، اور آئندہ کے لئے پرانی بات کو ادھر ہی دفن کردیا جائے، لیکن ہمیں بوجھ اٹھانے کی عادت ہے اسی لئے ہم ان اختلافات کو غلط فہمی کی صورت اپنے ساتھ ساتھ اٹھائے ہھرتے رہتے. اور سب سے دردناک پہلو یہ کہ اس غلط فہمی کی بناء پر ہم دوسروں کو زندہ رہنے کی سپیس بھی نہیں دینا چاہتے.
وجوہات
آپس میں غلط فہمی کے پیدا ہونے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم ہے دوسروں پر حد سے زیادہ اعتبار کرنا ہے۔
جب ہم کسی دوسرے کو اپنی جگہ پر کھڑا کرکے ہماری ہی زندگی کے سب اختیارات ونپ دیں تو کہیں نہ کہیں ہم اپنی جذباتی وابستگیوں میں بھی دخل اندازی کی کھلی چھٹی دیتے جبکہ معاشرتی رویوں کے ہم آہنگ رہنے کے لئے ہمیں حد بندیاں کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے حدود اگر اسفنجی ہوں یا بہت سخت تو ہر دو صورت میں رشتے غلط فہمی کی باریک ڈور پر چلتے رہتے۔ تو اس پہلی وجہ پر قابو پانے کے لئے سب سے اہم ہے ہر رشتے کو اس کی خاص جگہ اور مقام دینا، اور کسی بھی ایک انسان پر اتنا اندھا اعتبار نہیں کرنا کہ آپ اپنی عقل سمجھ بوجھ کو پسِ پشت ڈالنے لگ جائیں۔
اس کی دوسری بہت بڑی وجہ حسد ہے. اگر کسی سے آپ کی خوشی برداشت نہیں ہو پارہی تو وہ ایسے انداز میں معاملات آپ کے سامنے رکھتا چلا جائے کہ آپ کو وہ سب سچ لگنے لگے جو بار بار آپ کو سچ بنا کر بتایا جا رہا ہو اس کے لئے بھی حل یہی کہ اپنے اندر کی تمام حسیات کو ہروقت متحرک رکھئے تاکہ اردگرد جو بھی ہو رہا ہو اسے بہتر انداز میں پرکھنے کی صلاحیت موجود رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خود پر مکمل اعتماد رکھئے تاکہ کوئی آپ کو کسی دوسرے کے بارے کچھ بھی کہے آپ اپنے انداز میں اسے جانچ لو۔
تیسری بہت بڑی وجہ، جو بالعموم خواتین میں پائی جاتی، عدم تحفظ کا احساس، جب ایسا محسوس ہو کہ ہماری اہمیت کم ہو جائے گی، یا ہمیں معاملات سے الگ کر دیا جائے گا تو اس وقت سب سے آسان یہ لگتا کہ جس سے دوسرا شخص قریب ترین ہو رہا اسے دور کر دیا جائے تاکہ ہم ہی اہم رہیں، یا ہماری ہی بات کو اہمیت دی جائے۔ اور اس قسم کے رویہ کی سب سے بڑی وجہ خوداعتمادی کی کمی ہے۔ اگر ہمیں خود پر اعتماد ہو تو کسی کے لئے ہماری بات غیر اہم ہونا ثانوی ہوجاتا ۔
اس غلط فہمی کو پالنے کے لئے سب سے بڑا فیکٹر ہماری فیصلہ لینے کی صلاحیت بھی ہے۔ ہم بروقت درست فیصلہ نہیں کر پاتے اسی لئے دوسروں کے زیر اثر دماغ کی آزادانہ سوچ کو ختم کردیتے اور یوں اس درخت پر برگ و بار آنے لگتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بچوں کی تربیت کے دوران ان کی قوت فیصلہ کو بڑھانے پر توجہ دیں اور انہیں کشمکش ختم کرنے کی تربیت دیں تاکہ وہ بہتر اندازمیں اختلافات کو ختم کر کے خوش کن زندگی کی طرف بڑھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں