117

‏میلاد مصطفیٰ ﷺ کا چراغاں اور یتیم کے آنسو

تحریر: محمد سعید احمد
@SaeedAmd1 ‏
ایک سچا واقعہ بس نام بدل دئے ہیں۔
تین روز قبل میں نے کچھ رنگ برنگی لائیٹیں خریدی اور گھر لیجا کر میلاد کی خوشی میں لگا دیں۔ اگلے دن آفس میں کام کر رہا تھا کہ میری بستی کے سات آٹھ معززین آفس میں تشریف لائے۔ حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگے بیٹا ہم دراصل آپ سے ایک ضروری بات کرنے آئے تھے میں نے کہا جناب ضرور بتائیں میں آپ کیلئے کیا کرسکتا ہوں۔ ان میں سے ہماری بستی کے سب سے بڑے اور محترم حاجی صاحب کہنے لگے
آپ نے جو گھر میں میلاد کے حوالے سے لائیٹیں لگا رکھی ہیں انکو اتار دیں۔ یہ سراسر بدعت اور خرافات ہیں۔اور ہم اپنی بستی میں ایسی خرافات اور بدعات کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ایسا کسی کتاب و سنت میں نہیں ہے کہ لائیٹیں لگائی جائیں۔ بس آپ انکو اتار دیں۔
میں نے بہت انکساری سے جواب دیا
جناب ضرور شام کو گھر پہنچ کر میں اتار دوں گا۔ مگر مجھے بھی آپ سے ایک سلسلے میں بات کرنی تھی مگر وقت نہیں مل پا رہا تھا اچھا ہوا آپ آگئے۔
یہ معززین کا وفد جو اب کافی خوش محسوس ہورہے تھے بولے جی بیٹا بتاؤ کیا معاملہ ہے؟
میں نے کہا: یونس بھٹی صاحب جو پچھلے سال فوت ہوگئے تھے،ان کے مکان اور دکان پر انکے بھائی یوسف بھٹی اوران کے کزن رشید احمد صاحب نے قبضہ کررکھا ہے اور یونس بھٹی مرحوم کے دو چھوٹے بیٹے، دو جوان بیٹیاں اور ایک ان کی بیوہ در بدر پھر رہے ہیں اور اپنے مال و اسباب کیلئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ آج شام کو سب بستی والے اسی طرح ملکر یوسف صاحب اور رشید صاحب کے گھر چلیں اور ان کو یتیموں کا مال کھانے سے روکیں اور یتیم بچوں بچیوں کا حق واپس دلوانے کیلئے کوشش کریں۔
معززین علاقہ جن میں سے دو صاحب رشید احمد صاحب کے بھائی اور بڑے حاجی صاحب جو یوسف صاحب کے ماموں صاحب تھے کے رنگ فق ہوگئے۔ کہنے لگے
بیٹا۔! یہ ان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے، ان کے گھر کے مسائل ہیں ہمیں ان باتوں میں نہیں پڑنا چاہیئے، اور ہم کونسا خدائی ٹھیکیدار ہیں جو یتیموں کا حق دلواتے پھریں۔ ان کو چاہیئے پولیس کے پاس جائیں اور یہ حکومت کا کام ہے اور ساتھ ہی رخصت لیکر چلتے بنے۔ میں اس شام گھر میں میلاد کی لائیٹیں جلتی بجھتی دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہم کس قدر منافق لوگ ہیں جو میلاد کی لائٹوں پر تو چیخ کر بدعت، بدعت اور دوزخی دوزخی کا شور کرتے ہیں اور یتیموں، بیواؤں کے مال لوٹنے کو بدعت اور دوزخی کا فتویٰ نہیں دیتے۔ ہمیں میلاد کی لائیٹیں تو تکلیف دیتی ہیں مگر ہمیں یتیموں، بیواؤں کے آنسو تکلیف نہیں دیتے اور یتیموں کے ملجا و ماویٰ ﷺ کی سنتوں میں سے یتیم کی داد رسی کرنے کی سنت دکھائی نہیں دیتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم ذلت اور پستی کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم ہر مسلمان کو جو ہمارے عقیدے کے مطابق نہیں کرتا اس کو دوزخ کی سند دے دیتے ہیں مگر معاشرتی نا انصافیوں اور ظلم پر ہم خاموش رہتے ہیں اور یہ تو کمزور ترین ایمان کی علامت ہے مگر اپنے عقیدے سے تھوڑا سا مختلف عقیدہ ہمارے ایمان کی طاقت کو اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ ہم چیخ اٹھتے ہیں۔ رات سوتے ہوئے بس یہی دعا کررہا تھا کہ اللہ پاک ہمیں ہدایت کا نور عطافرمائے اور ہمارے قلوب کو اس سے منور کردے تاکہ ہم باہمی امن و آشتی سے زندگی گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں