16

مایوسی کے سوداگر

تحریر: ضیغم ایاز
‎@zaghamayaz
انسان میں کچھ نہ کچھ علم پیدائشی ہوتا ہے جس میں سے کچھ کا اطلاق وہ پیدائشی طور پرہی کرنا جانتا ہے اور کچھ کا اطلاق رفتہ رفتہ ماحول کے اثرات کے تحت اس میں پھوٹتا چلا جاتا ہے۔ بچہ جس علم کا اطلاق سب سے پہلے کرنا شروع کرتا ہے وہ جذبات ہوتے ہیں۔ خوشی، غصہ، حیرت، اداسی، بیزاری، اطمینان اور میلان وغیرہ کے جذبات آپ بچے میں پیدائش کے کچھ ہی ہفتے اور مہینوں میں ظاہر ہوتے دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ والدین اس کے ساتھ انہی جذبات کے ذریعے تعلقات جوڑتے ہیں۔
انسان کے فیصلہ سازی کے پیچھے دو جذبات سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ایک مایوس اور دوسرا افسوس ۔ انسان انہی دو چیزوں سے باہر نکلنے یا انھی دو چیزوں سے ممکنہ اجتناب کرنے کے لئے فیصلہ سازی کی قوت کو بروئے کار لاتا ہے۔ لیکن فیصلہ سازی کی یہ قوت اسے امید اور کامیابی کی تحریک پر اکساتی ہے۔ آپ ہاتھی جیسے طاقتور جانور کو بھی ایک مرتبہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ وہ پاؤں میں پڑی زنجیر نہیں توڑسکتا تو پھر وہ کوشش ہی نہیں کرے گا۔ مایوسی ہمیشہ پہلے دل کو سخت کرتی ہے اور پھر انسان کو منفی راستوں کا مسافر بناتی ہے۔ خود کشی جیسا ناممکن کام بھی مایوسی ہی کی ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ مایوسی ہی عموما نشے کی سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ اگر مایوسی فرد سے نکل کر معاشرے پر چھانے لگے تو وہ معاشرہ رفتہ رفتہ جرائم کی آماج گاہ بنتا چلا جاتا ہے۔
ہمارا میڈیا بدقسمتی سے مایوسی کا ایسا سوداگر بن چکا ہے کہ لوگ بھی صرف مایوسی والے تجزیوں کو ہی پسند کرنے لگے ہیں۔ اپنی اور اپنی نسلوں کی اگر عافیت چاہئے تو خود کو اور اپنی اولادوں کو اس سے محفوظ رکھیں۔ ورنہ یہ برے طریقے سے آپ کے مزاج پر اثر انداز ہوگا۔ آپ تلخ رو ہوجائیں گے ۔
آپ سوشل میڈیا پر بھی دیکھتے ہونگے کہ کچھ لوگ ہمیشہ لاشیں، تشدد اور کرب ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی پوسٹس کا موضوع بناتے ہیں۔ اس چیز کو ٹرینڈ بننے سے روکیں۔ کبھی لائکس کی صورت میں ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ معاشرے کی خرابیوں پر توجہ دلانے کے بہت سارے مثبت طریقے بھی ہوتے ہیں انھیں سیکھیں۔ خرابیوں کے نتائج پر مثبت انداز سے توجہ دلائیں اور انذار کریں لیکن مصالہ اتنا تیز نہ رکھیں جو مایوسی پیدا کردے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں