74

سڑکوں پر مارچ

تحریر: محمد خرم
‎@KhurramCaptain
اسلام سے قبل عورت نہ اتنی مضبوط تھی اور نہ ہی اتنی طاقتور کہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھا سکتی لوگ اپنی لخت جگر کو بھی زندہ سپردِ خاک کر دیتے کلیساؤں اور مندروں میں بھی عورت اپنی ساری زندگی ضائع کردیتی اسلام ایک واحد دین ہے جس نے عورت کو سب سے زیادہ عزت دی حتیٰ کہ وراثت میں بھی عورت کو حصہ دار بنایا اس سے بڑھ کر عورت کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہو سکتا کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگوں عورتوں کے معاملے میں اللّہ سے ڈرو
آج عورت کو جو حقوق اور آزادی حاصل ہے یہ صرف اسلام ہی کی بدولت ہے مسلم معاشرے میں آج ایک باپ’ بھائی’ بیٹا’ اور شوہر عورت کے محافظ ہیں کچھ عرصہ قبل سڑکوں پر عورت مارچ کیا گیا راقم الحروف نے اسی سے متعلق ایک آزاد نظم لکھی۔
کبھی سوچا ہے تو نے اے بنت حوا
کتنی اذیت میں تھی زندگی تیری
جوۓ میں تو ہار جاتی تھی
کتنی سستی تھی قیمت تیری
پیدا ہونے پر پدر شفقت تیرے
گاڑھ دیتے تجھے زندہ زیر زمیں
ستم اس پر یہ ہی کافی نہ تھا کہ
مجازی خدا کے مرنے پر دفن ہوتی اسکے ساتھ تو
رب کعبہ نے سن لی تری دہائی
تیری سوئی ہوئی قسمت جگائی
کسی مذہب نے نہیں کی ایسی عطا
کہ جنت تیرے قدموں تلے بنائی
آج اگر تو ماں ہے تو جنت
بہن ہے تو تقدس
بیوی ہے تو عزت
بیٹی ہے تو نعمت
نہ آنا تم شیطانی وسوسے میں
اچھی لگتی ہو صرف تم پردے میں
آزادی کی تو بات نہ کر
مغربی تہذیب کا پرچار نہ کر
حالات تو خراب نہ کر
ہوش سے کام لے گندی تو بات نہ کر
پتہ نہیں کس آزادی کی بات کرتی ہو
سڑکوں پر کیوں تم مارچ کرتی ہو
تمام حقوق میسر ہیں تجھے وطن عزیز میں
پلے کارڈ پر کیوں گندی تحریر کرتی ہو
آج وطن عزیز میں عورت بلکل آزاد ہے وہ زندگی کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے وہ شرعی تقاضوں کو پورا کرے اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک مثال بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں