Erum Chaudhary 53

وجود زن سے۔۔۔۔۔

تحریر:ارم چوہدری
‎@IrumWarraich4
مرد ایک خوب صورت مکان تو بنا لیتا ہے لیکن وہ مکان پرسکون اور خوشگوار گھر عورت کی بیش بہا قربانیوں سے جنت کا پیش خیمہ بنتا ہے
عورت اپنے کچی مٹی سے بنے وجود کو مرد کے مطابق ڈھال کر اس کی پسند کے سانچے میں ڈھل کر اپنی ذات کی نہ صرف نفی کرتی ہے بلکہ ویسی ہی بننے کی کوشش میں مصروف عمل رہتی ہے جیسے اس کے شوہر کو پسند ہو۔
کیا خوب کہا شاعر نے
“وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”
اگر یہ کہا جائے کہ گھر محض عورت بناتی ہے تو سرا سر غلط ہو گا کیونکہ امتحان مرد کے ظرف کا بھی بہت سخت اور کڑا ہوتا ہے مختلف رشتوں میں بٹا ہوا مرد ایک طرف بیٹا ہے تو دوسری طرف بھائی ، شوہر اور باپ بھی ہے مرد کے ظرف کی کسوٹی بہت سخت ہوتی ہے ۔ کیسے کہاں کس رشتے میں توازن کو برقرار رکھنا ہے کتنا جھکنا کتنا نرم رہنا ہے یہ سب صفات اللہ تعالیٰ نے مرد کو عطا کی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اورمومن مرد اور مومن عورتیں اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صابر مرد اور صابر عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں اور خدا کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں،اللہ نے ان کے لئے مغفرت اور اجرعظیم تیار کر رکھا ہے۔ (سورۃ الاحزاب)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قران کریم میں جابجا مردوں اور عورتوں کاذکر کیا ہے اور عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں۔ بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی زیادہ عورتوں کو تکریم دی گئی ہے اور عورت کو مرد کے مقابل زیادہ فضیلیت عطا کی گئی ہے
زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ٹوٹتی عورت ہے تو مرد بھی ریزہ ریزہ ہوتا ہے ہاں کہیں پر عورت کی قربانیوں کو تسلیم کرکے اسے باوقار کیا جاتا ہے تو کہیں مرد کی اعلی ظرفی کی مثال دی جاتی ہے۔ مرد بظاہر جھکتا نہیں لیکن بہت ساری جگہوں پر چپ چاپ انا کا گلا گھونٹ کے سمجھوتہ کر کے رشتوں کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ زندگی کی دھوپ چھاؤں میں کبھی ہنسی تو کبھی غم کا تسلسل چلتا رہتا اور یہی زندگی کا حسن ہے۔ کہیں عورت کمزور پڑنے لگتی ہے تو کبھی مرد کو عورت کے سہارے کی ضرورت پیش آتی ہے
مرد زمانے بھر کی سختیاں جھیل کے رزق کا انتظام کرتا ہے بیوی اور بچوں کو ضروریات زندگی مہیا کرتا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر مرد ساری تھکن بھول جاتا ہے موسموں کی شدتیں اچھے برے لوگوں کے رویے سہ کر اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو ولی مقرر کیا ہے اور یہ سب اسکے فرائض میں شامل ہے
مگر آج کا مرد نہ جانے کیوں حاکم بن کر عورت پر اپنی حاکمیت جتاتا ہے اور مرد کا یہ حاکمانہ رویہ عورت کو بہت کمزور کردیتا ہے عورت محفوظ ضرورہوتی ہے مگر مطمئن نہیں اس کے اندر کبھی نہ ختم ہونے والا ڈر گھر کر جاتا ہے جو اس کی شخصیت کو تباہ کر دیتا ہنستی مسکراتی زندگی سے بھرپور لڑکی بیوی بن کر خاموش اور صابر ہو جاتی ہے۔ مرد اور عورت کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں ہارتی ہمیشہ عورت ہی ہے کہیں والدین کی بے بسی پر تو کبھی اولاد کی خاطر اور اس کی ہار میں کئی مردہ رشتوں کے جنازے اٹھتے ہیں جن کی آہ و بکا عورت کا وجود اور روح کرتے ہیں۔
تو یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ عورت مرد کی نسبت کمزور ہےاس کی خاموش ہنسی بہت سارے درد اپنے اندر سموئے رکھے اپنوں کی محبت میں خود کو قربان کر کے بخوشی جیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں