22

بلوچستان سیاسی بحران ، ترجمان بی اے پی کا جام کمال پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام

اسلام آباد، وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے ملاقات کی ، وزیر اعلی بلوچستان نے وزیر اعظم کو صوبے کی سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی جام کمال نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو بلوچستان کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیااور ناراض رہنمائوں سے ہونے والے رابطوں سے متعلق تفصیلات بیان کیں ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان کی ترقی اور سسٹم کی بہتری پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے،تحریک عدم اعتماد سے متعلق جام کمال خان نے کہا کہ میرے خلاف لائی جانے والے تحریک عدم اعتماد انشااللہ بری طرح ناکام ہوگی، مخالفین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا،وزیراعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ اگلے آنے والے تین چار دنوں میں ووٹنگ ہوگی، ووٹنگ ہونا اچھی بات ہے، اس سے معاملہ واضح ہوجائے گا،جام کمال خان نے کہا کہ ووٹنگ کب ہوگی اس کی تاریخ نہیں بتا سکتا یہ گورنر کی صوابدید پر مبنی ہے، استعفے کی بات ہی نہیں وہ ہم کیوں دیں گے۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے ظہور بلیدی کی قائم مقام صدر تعیناتی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔وزیراعلی بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ تحریری طور پراستعفی نہیں دیا، بلوچستان عوامی پارٹی کا مرکزی صدر ہوں، بلوچستان عوامی پارٹی میں قائم مقام صدر کی کوئی گنجائش نہیں، ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے کیتھران صاحب سے معلوم کیا جائے۔اس سے قبل وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے چیف الیکشن کمشنر پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں کہا کہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کا اختیار نہیں صدر کی موجودگی میں قائم مقام صدر منتخب کریں، تحریری طور پر پارٹی صدارت سے استعفی نہیں دیا، وہ پارٹی کے امور تاحال چلا رہے ہیں، جنرل سیکریٹری کے لکھے گئے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ بی اے پی کے ترجمان عبدالرحمان کھیتران نے جام کمال پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا دیا۔ترجمان بی اے پی عبدالرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ جام کمال نے مجھے میرے بیٹے کے ذریعے آفر بھیجی، میرے بیٹے کو من پسند وزارت اور دیگر کی آفر کی گئی، پانی سر سے گزر چکا، ہر حال میں جام کمال کو جانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں