46

الیکشن کمیشن سے ممبران اسمبلی کی نااہلی،جہانگیر ترین نے بڑا فیصلہ کر لیا

ترین گروپ کے سابقہ اراکین پنجاب اسمبلی نے الیکن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

لاہور میں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے ملاقات میں رہنما ترین گروپ فیصل حیات جبوانہ کا کہنا تھا کہ ترین گروپ کے زیادہ اراکین آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کرآئے تھے۔ترین گروپ کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ یکطرفہ تھا،سپریم کورٹ کی رائے مختلف تھی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 مئی کو وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار پرویز الہی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز کی حمایت میں ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے 20 اراکین، خواتین کی مخصوص نشستوں پر 3 اور اقلیتی نشستوں پر براجمان 2 اراکین کی رکنیت ختم کردی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر چوہان، محمد امین ذوالقرنین، نعمان لنگڑیال، محمد سلمان نعیم، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گِل، عظمی کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل حیات صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں