israruddin israr 31

شینا قاعدہ، عبدلخالق تاج کا بڑا کارنامہ

تحریر : اسرارالدین اسرار
ایک طرف نفسا نفسی اور بے چینی کا دور دورہ ہے، دوسری طرف مٹھی بھر لوگ علم و ادب اور تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ عبدالخالق تاج کے پاس زندگی گزارنے کے لئے درکار ہر سہولت موجود ہے۔ وہ چاہیں تو گھر میں بیٹھ کر عیش و عشرت اور آرام کی زندگی گزار لیں ۔ لیکن ان کے اندر تخلیق کا ایک طوفان اکثر بپا ہوتا دیکھا گیا ہے جو ان کو کچھ نہ کچھ کرتے رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عبدلخالق تاج کے اندرقدرت نے بے پناہ تخیلقی صلاحیتیں رکھی ہیں ۔ وہ شاعر، لکھاری، کالم نگار، گلوکار اور ادیب ہونے کے علاوہ ایک مزاح نگار اور لطیفہ گو بھی ہیں۔ حس مزاح ان کا قابل رشک ہے۔ ان کی گفتگو میں جتنی چاشنی ہے اسی طرح ان کی شاعری اور نثر بھی دل کو بھاتی ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ جاو تو وقت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وہ خوشیاں بکھیرتے اور محبتِن سمیٹنے کے ماہر ہیں۔ کمال یہ ہے کہ محفل جتنی بھی سنجیدہ ہو حتی کہ تعزیتی ریفرنس ہی کیوں نہ ہو عبدلخالق تاج اس میں مزاح کا پہلو نکالتے اور لوگوں کو مسکرانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ دنیاکے این و آن سے بے نیاز ہیں، زمانے کے فرسودہ خیالات اور روایات کے بڑے نقاد ہیں۔ وہ زمانے سے باغی بھی ہیں لیکن انسان دوستی ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ جہاں تنقید کے تیر برسانے ہوں وہاں وہ لطیفہ گوئی اور طنز و مزاح کو اپناتے ہیں۔ جہاں علم و ادب کے فروغ کا معاملہ ہو وہاں وہ ایک سنجیدہ ادیب اور لکھاری کا روپ دھارتے ہیں۔ اہل علاقہ گو کہ فرقوں ، قبیلوں، برادریوں ، زبانوں اور علاقوں میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں. بظاہر اہل علاقہ مشترکات کی تلاش میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں لیکن عبدلخالق تاج سب کے سانجھے ہیں۔ ان کی ادبی اور نجی محافل میں ہر رنگ ، نسل، ذات پات اور ہر طبقہ فکر کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ گلگت شہر میں کء لوگوں کی رہنے کی ایک وجہ عبدلخالق تاج اور اس قبیل کے لوگ ہیں جو ہر ایک کو دل سے لگاتے اور اجنبیت کا احساس ہونے نہیں دیتے ہیں۔ اس شہر پریشان میں عبدلخالق تاج جیسی شخصیت کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ عبدلخالق تاج کا ادبی کام بہت پھیلا ہوا ہے لیکن امسال انہوں نے کورونا کی مشکل کے باوجود شینا قاعدہ کا تیسرا ایڈیشن چھپوایا ہے۔ قوم کے نام ان کے اس انمول تحفہ سے کء لوگ کورونا کے دکھ بھول گئے ہیں۔ شینا قاعدہ کے خوبصورت سرورق پر عبدلخالق تاج کی دیسی ٹوپی کے ساتھ ایک خوبصورت تصویر ہے۔ اس کو پلٹ کر دیکھ لو تو اندر سے شینا کی خوشبو خوش آمدید کہتی ہے۔ پہلے صفحہ پر مصنف ، ڈیزائنر، تیکنکی معاون اور سال اشاعت کی تفصیل ہے۔ دوسرے صفحہ پر مصنف کا لکھا ہوا خوبصورت ابتدائیہ ہے۔ اس کے بعد حروف تہجی کی ترتیب سے شروع ہونے والے مختلف اشیا، انسانی اعضا اورجانوروں کے نام ترتیب وار بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد شینا حروف تہجی، شینا مخصوص حروف، شینا مرکب حروف، ترتیب وار شینا حروف تہجی اور پھر مرکب حروف بڑی خوبصورتی سے بیان کئے گئے ہیں۔ اگلے صفحات میں حروف علت کی پانچ طرح کی مشقیں دی گء ہیں۔ پھر شینا میں دنوں کے نام، موسموں کے نام اور شینا گنتی سو تک دی گء ہے۔ گویا شینا بولنے یا سمجھنے والوں کے علاوہ ایسے افراد جن کی زبان شینا نہیں ہے وہ بھی شینا سیکھنے کے لئے اس قاعدہ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ لکھائی بہت ہی سادہ اور مختصر ہے جبکہ اس سے تصاویر کی مدد سے مزید دلکش اور آسان فہم بنادی گء ہے۔ چونتیس صحفات پر مشتمل یہ کتاب خوبصورت جلد اور معیاری کاغذ کے استعمال سے پڑھنے والوں کو ایک تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ ایک دفعہ پڑھ کر بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے جو کہ بہترین اور مفید کتاب کی بڑی نشانی ہے۔ شینا جو کہ گلگت بلتستان ، لداخ ، کشمیر، کوہستان اور دیگر کء علاقوں میں بولی جانے والی چالیس لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کی صدیوں پرانی مادری زبان ہے۔ شینا میری بھی مادری زبان ہے۔ اس کو لکھنے میں ہمیشہ ہمیں دقت کا سامنا رہا ہے۔ عبدلخالق تاج کے شینا قاعدہ نے ہماری یہ مشکل آسان کردی ہے۔ شینا قاعدہ جب سے میرے ہاتھ آیا ہے میں اور میرے بچے مل کر روزانہ وہ پڑھتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔ عبدلخالق تاج کا لکھا گیا شینا قاعدہ کا پہلا ایڈیشن اگست ٩٨٩١، دوسرق مارچ ٧١٠٢ اور تیسرا ستمبر ١٢٠٢ میں شائع کیا گیا ہے۔ تیسرے ایڈیشن میں جو سائنسی اور ٹیکنکی نوعیت کی بنیادی ترامیم کی گء ہیں ان سے کتاب کی اہمیت دوبالا ہوگء ہے۔ اس کتاب کے لئے تیکنکی و تحقیقی معاونت عبدلصبور نے فراہم کی ہے جبکہ سرورق ایثار علی نے تیار کیا ہے۔ شینا گو کہ ایک قدیم زبان ہے لیکن اس سے متعلق باقی دنیا نے انیسویں صدی میں جانکاری حاصل کر لی تھی۔ جب انگریز افسران گلگلت بلتستان آنے لگے تو انہوں نے یہاں کی زبان میں دلچسپی لی اور اس سے متعلق تحقیق شروع کی۔ ڈاکٹر ایم ایس ناموس، پروفیسر عثمان ، پروفیسر امین ضیا ، عبدالخالق تاج، استاد شکیل احمد، ڈاکٹر کارلا ریڈ لف کی شینا زبان کی ترویج کے لئے گرانقدر خدمات ہیں۔ شینا زبان کی لکھائی پڑھائی کی بنیاد انہی ماہرین نے رکھ لی جو کہ وقت کے ساتھ جدید تحقیق اور سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ جس میں موجودہ وقت میں کء نوجوان شعرا، ادیب، ڈرامہ نگار اور لکھاری اپنا بھر پور حصہ ڈال رہے ہیں۔ ماضی میں شینا حروف تہجی اور مشترکہ نظام لکھائی ترتیب دینے میں ان لکھاریوں میں اصولی اور علمی اختلاف رہا ہے۔ لیکن گلگت بلتستان کی پچھلی صوبائی حکومت کی طرف سے معروف شاعر اور سکریٹری ظفر وقار تاج کی سربراہی میں مقامی زبانوں میں نصاب کی تیاری کے لئے قائم کی گء کیمٹی نے اس مسلہ کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جس کے نتیجے میں ایک اتفاق راِئے پیدا ہوگی ہے۔ جس کے تحت عبدلخالق تاج نے شینا قاعدہ کے تیسرے ایڈیشن میں بنیادی ترمیم کر کے اس کو چھپوایا ہے۔ اس نظام تحریر کو اپنانے کے بعد شینا میں لکھنے والوں کی مشکلات میں یقینا کمی آئے گی۔ موجودہ نظام تحریر کو کمپیوٹر اور موبائل میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا کیبورڑ اور انڈرائڈ اپلیکیشن بھی دستیاب ہے۔ گذشتہ دنوں مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی شینا قاعدہ کے تیسرے ایڈیشن کی تقریب رونمائی میں وی سی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی عطا اللہ شاہ، رجسٹرار کے آئی یو عبدالحمید لون، ڈین فیکلٹی آف سائنسسز کے آئی یو ڈاکٹر خلیل احمد، ڈائریکٹر کوالٹی کے آئی یو میر تعظیم ، معروف دانشور شیر باز علی برچہ ، معروف شاعر و لکھاری جمشید خان دکھی کے علاوہ علاقہ کے دیگر نامور شعرا اور لکھاریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عطا اللہ شاہ نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی زبان سے محبت کرنی چاہئے۔ مادری زبان میں جو پڑھائی ہوتی ہے وہی اصل پڑھائی ہوتی ہے۔ اس موقع پر عبدلخالق تاج نے کہا کہ میں نے شینا زبان کو نظام لکھائی دینے کی ایک بھر پور کوشش کی ہے اور میں کھلے دل سے اس کام کے حوالے سے اہل علم اور اہل زبان کو تنقید کی دعوت دیتا ہوں ۔ جو بھی لکھاری اس کام میں بہتری کے لئے آگے آئے گا میں ان کی مدد کرنے کو تیار ہوں۔شینا قاعدہ کو لسانیات کی جدید اور سائنسی تیکنک کی بنیاد پر ترتیب دے کر اس کا تیسرا ایڈیشن منظر عام پر لانا عبدلخالق تاج کا نہ صرف ایک بڑا کارنامہ ہے بلکہ شینا بولنے والوں پر ایک احسان بھی ہے جس سے شینا میں پڑھنے لکھنے اور تحقیق و تخلیق اور لٹریچر پیدا کرنے کے عمل کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ہم عبدلخالق تاج کو اس اہم کام کو سرانجام دینے پر مبارکباد دیتے اور شینا بولنے والوں کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ نء نسل کو چاہئیے کہ وہ شینا کی ترویج کے لئے عبدلخالق تاج اور دیگر ماہرین کی مدد سے رکھی گء بنیاد پر سائنسی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھائیں۔ زبان کی ترویج ہی علم ، ادب ، ثقافت اور قومی ورثہ کو فروغ دینے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ شینا دنیا کی ان زبانوں میں شمار ہوتی تھی جو معدومیت کی طرف محو سفر تھی لیکن مذکورہ ماہرین کی محنتوں سے اب یہ ایک ترقی پذیر زبان تصور ہوتی ہے۔ آنے والے وقتوں میں حکومت گلگت بلتستان سے یہ توقع ہے کہ شینا اور دیگر مقامی زبانوں کو گلگت بلتستان پرائمری لیول کے تعلیمی نصاب میں شامل کرے اور اس کی ترویج اور فروغ کے لئے ایک ادارہ بنائے تاکہ یہ زبان نہ صرف محفوظ ہو بلکہ پھلیپھولے اور ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں شامل ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں