29

اقبال کا تصوراتی مرد مومن

‏‏تحریر: سمیرا وکیل
‎@Sumz_Rajput
جب میں نے اقبال کے بارے میں پڑھا تو اقبال کا تصوراتی مرد مومن میرے دل کو چھو گیا اس کو پڑھنے کے بعد مجھے بہت سی باتیں سمجھ آئی جو اس سے پہلے میرے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھی۔۔ جب ہم اسکول میں ہوتے تھے تو پڑھایا جاتا تھا کہ اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں پھر جب کالج میں آئے تو اقبال کی کئی شعر و شاعری پڑھی لیکن اسے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور ناہی دلچسپی ظاہرکی لیکن جب عمران خان نے اپنے جلسوں میں کئے گئے خطاب کے دوران کہا کہ آج کل کا نوجوان اقبال کو پڑھے کہ وہ کتنا بڑا شاعر مشرق ہے اور اگر زندگی گزارنی ہے تو اقبال کے شاہین بن کر زندگی گزارو۔۔
پھر میں نے اقبال کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اقبال صرف قومی شاعر ہی نہیں بلکہ علامہ اقبال ایک بڑے مفکر عظیم المرتبت شاعر تھے۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے امت مسلمہ کو ایک پیغام دیا اور اپنی نظموں کے ذریعہ انسانیت کی رہنمائی کی ان کی شاعری انسانی زندگی کو راہ راست پر لگانے کا ایک بہترین کارگروسیلہ ہے ۔۔ جب بھی اقبال کی شاعری پڑھیں تو اسے سمجھنے کی کوشش ضرور کریں تاکہ اس کا اثر ہمارے دلوں میں ہو سکے
اب ہم آتے ہیں اقبال کے تصوراتی مرد مومن کی جانب کہ اقبال کا تصوراتی مرد مومن کیا ہے؟
اس کی اساس خالصتاً اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے
انسان کامل یا مرد مومن کی زندگی جو آئین الٰہی کے مطابق ہوتی ہے ،فطرت کی عام زندگی میں شریک ہوتی ہے اور اشیاء حقیقت کا راز اس کی ذات پر منکشف ہو جاتا ہے پھر وہ اپنی منزل پر پہنچ کر انسان کامل کی غرض کی حدود سے نکل کر جوہر کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اس کی آنکھ اللہ کی تخلیق کردہ کائنات پر اس کا کلام اللہ کا کلام اور اس کی زندگی اللہ کی زندگی بن جاتی ہے یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانیت اور الہیت ایک ہو جاتی ہے اور اس کا نتیجہ انسان ربانی کی پیدائش ہے۔۔
“ہر لخطہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن ”
“گفتار میں کردار میں اللہ ہی ہر بان ”
“قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت ”
” یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان”
“یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن”
“قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن ”
“جس سے جگر میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم ”
“دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ ہے طوفان٫
اقبال کا مرد مومن حیات و کائنات کے قوانین کا اسیر نہیں بلکہ حیات و کائنات کو اسیر کرنے والا ہے۔
قرآن مجید نے انسانوں کو تسخیر کائنات کی تعلیم دی ہے ۔۔۔
شاہین کا شکار پرندے ہیں لیکن انسان کا شکار انسان کو نہیں ہونا چاہیے جب میں نے پڑھا تو معلوم ہوا کہ اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں کو اپنی صفات کا حامل دیکھنے کے خواہشمند تھے اس لیے انہیں شاہین کے بچوں کہہ کر مخاطب کرتے تھے شاہین کو اس طرح علامت بنا کر اس سے پہلے کبھی کسی شاعر نے پیش نہیں کیا تھا۔۔
اقبال کی باتوں میں انسان کی خودمختاری کا بھی بہت بار ذکر کیا گیا ہے۔۔
مرد مومن میں ایمان کی مضبوطی ، دینی جذبہ اور ذات الٰہی کی شکر گزاری ہوتی ہے میں اقبال کو قرآن کا شاعر کہتی ہوں یہ وہی خوبی ہے جس سے میں اقبال کی ذات سے بے حد متاثر ہوئی ۔۔
جس نے بھی اقبال کو پڑھا سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ہر کسی کا موقف انتہائی خوبصورت تھا میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی اپنے طور پر اقبال کے بارے میں پڑھیں اور سمجھیں انشاء اللہ ضرور آپکی ازدواجی زندگی میں اور معاشرے میں اپکو ایک بہترین مسلمان،اور انسان بنے میں مدد ملے گی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے گے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں