52

ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا مستقبل؟

تحریر: ضیغم ایاز

@zaghamayaz

اس وقت پاکستان کا ڈالر کے ساتھ شرح تبادلہ یعنی حقیقی موثر کرنسی کے تبادلے کا ریٹ 95 کے لگ بھگ ہے۔ اس کا واضح سا مطلب ہے کہ اگر سٹے بازوں کی گیم الٹ جائے تو روپے کا حقیقی ریٹ 165 روپے فی ڈالر تک ہونا چاہئے۔ یہاں تک کی بات تو زبان زد عام ہے جوکرنسی ایکسچینج کا کام کرنے والے بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ کچھ کسر سعودی ڈیل نے نکالی ہے باقی آئی ایم ایف کی ڈیل نے نکال دینی ہے۔
لیکن جو کُچھ روپے کے ساتھ چل رہا ہے اسکے دو رُخ ہیں۔ ایک داخلی رُخ ، جس کا زکر اوپر ہوچکا ، اور دوسرا خارجی رُخ جو ایک سرپرائز کی صورت میں سامنے آنا ہے۔ اس دوسرے رُخ کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
آپ نے پڑھا سُنا ہوگا کہ افغانستان کے انخلاء کے ساتھ ہی ڈالر تمام کرنسیوں کے مقابل اچانک اُٹھنا شروع ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ عالمی منڈیوں میں تیس سال کے بلند افراط زر کے پیچھے چُھپی پڑی ہے۔ موجودہ عالمی افراط زر سپلائی چین پر بوجھ کی وجہ سے ہے۔ مال کے کانٹینرز کویڈ ایس او پیز کی وجہ سے خالی ہونے میں مہینہ دو مہینہ لے رہے ہیں جس کی وجہ سے پورٹس جو 4 فیصد تک اضافی بوجھ لے سکتے ہیں ان پر 18 فیصد تک اضافی بوجھ پڑچکا ہے اس طرح چونکہ کانٹینرز اگلے پھیرے کے لئے کافی دیر سے فارغ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک طرف فریٹ کے ریٹس آسمانوں کو چھونے لگے ہیں تو دوسری جانب سپلائی کی رفتار ڈیمانڈ کی رفتار سے گری پڑی ہے۔ اس پورے ماحول نے عالمی افراط زر پیدا کر رکھا ہے۔ کویڈ کے بعد کی صورتحال میں چونکہ امریکہ نے کویڈ کے دنوں میں گرے ہوے سٹاک کو بھرنے کے لئے امپورٹ کے بڑے آڈر دینے تھے اس لئے اس نے ڈالر کی قیمت بڑھادی۔ اس وقت ڈالر اپنی حقیقی موثر قیمت سے 17 فیصد بلند ہے۔ یعنی امریکہ کا ریٹ اس وقت 117.23 ہے، جو ظاہر ہے کہ امپورٹ کو سستا رکھنے ( یعنی افراط زر کے کُچھ اثرات کو ختم کرنے ) کے لئے ہے۔ امریکہ کے جونہی امپورٹ کے ٹارگٹس پورے ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اسے واپس جگہ پر لائے گا بلکہ کرنسی میں موجود ایڈجسمنٹ کے اثرات کو بھی زائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس طرح ڈالر باقی کرنسیوں کے مقابلے میں کم ہوگا تو ڈالر کے ریٹ میں 20 روپے تک گراوٹ آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں