petrol price 22

پٹرولیم مصنوعات ، ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ،ایل پی جی بم بھی گرا دیا گیا ، بجلی بھی مہنگی ہونیکاامکان،مہنگائی کا طوفان آگیا

اسلام آباد ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا، پٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پٹرول 4 روپے ،ہائی سپیڈ ڈیزل 2 روپے ، لائٹ ڈیزل8روپے 82 پیسے ، مٹی کا تیل 7روپے 2پیسے فی لیٹرمہنگا کر دیا گیا ،ایل پی جی کی قیمت میں فی کلو قیمت میں 29 روپے 10 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ، 11.8کلو کا گھریلو سلنڈر 343روپے مہنگا ،بجلی بھی 1 روپیہ 95پیسے فی یونٹ مہنگی ہونیکا امکان ہے ، صارفین پر 25 ارب کا بوجھ پڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تسلسل کوبرقرار رکھا، ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں چار روپے فی لٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 127 روپے 30 پیسے ہو گئی ہے۔ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، ڈیزل کی قیمت 122 روپے 4 پیسے ہو گئی ہے۔ ادھر لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد قیمت 99 روپے 51 پیسے قیمت ہو گئی ہے۔مزید برآں مٹی کے تیل کی قیمت 7 روپے 2 پیسے بڑھا دی گئی جس کے بعد نئی قیمت 99 روپے 31 پیسے ہو گئی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام پر ایل پی جی بم گراتے ہوئے فی کلو قیمت میں 29 روپے 10 پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کا 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 343 روپے مہنگا ہوگیا ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق اکتوبر 2021 کیلئے ہوگا ،نئی قیمت 203 روپے 69 پیسے فی کلو مقرر کردی گئی ہے۔اوگرا کے نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر کیلئے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 174 روپے 58 پیسے مقرر تھی ،گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2403 روپے مقرر کردی گئی ہے جبکہ ستمبر کیلئے ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 2060 روپے 15 پیسے مقرر تھی۔قبل ازیں دو روز پہلے حکومت نے مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگاتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت میں 20 روپے فی کلوگرام کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد ایل پی جی175روپے فی کلو سے بڑھ کر 195روپے فی کلو ہوگئی تھی۔ادھر روپے کے مقابلے میں ڈالرکی اونچی اڑان ، تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔جمعرات کو انٹربینک میں ڈالر کا بھائو ملکی تاریخ میں مہنگی ترین سطح پر بند ہوا ہے۔ ستمبر کے آخری کاروباری روز انٹربینک میں ڈالر 18 پیسے مہنگا ہوکر 170 روپے 66 پیسے پر بند ہوا ہے۔ انٹر بینک میں ڈالرکی یہ بلند ترین اختتامی قیمت ہے، ستمبر میں ڈالرکی قدر 4 روپے27 پیسے بڑھی ہے جب کہ جولائی سے ستمبر کے دوران ڈالر کی قدر میں 13 روپے 11 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھا ئو ایک روپیہ بڑھ کر 173 روپے 50 پیسے ہو گیا ہے ۔ علاوہ ازیں بجلی صارفین پر بھی مہنگائی کا بم گرنے کی تیاری مکمل ہے، اور نیپرا میں بجلی ایک ماہ کیلئے بجلی 2 روپیہ 7 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل ہوگئی، نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر سماعت کی ۔ نیپرا نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بجلی مہنگی کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ بعد میں جاری کرے گا۔سی پی پی اے کی جانب سے درخواست اگست کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی، جس میں موقف پیش کیا گیا کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے، گزشتہ ماہ ڈیزل سے 22 روپے 62 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی گئی، فرنس آئل سے 18 روپے 24 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔ سی پی پی اے نے بجلی ایک ماہ کیلئے 2 روپے 7 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا کی جانب سے بجلی ایک روپیہ 95 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے، منظوری کی صورت میں صارفین پر 25 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں