54

چلیں بزدل ہی بن جاتے ہیں

تحریر۔عفت رئوف
ایک صحافی کی زندگی خبر کی متلاشی ہوتی ہے دنیا بھر میں اس کا کردار خبر کی تلاش سے شروع ہو کر،جائے حادثہ تک رسائی ،خبر کی تراش خراش ،خبر کی اشاعت حتی کہ غلط خبر کی پاداش میں سرزنش تک جاری رہتا ہے وہ ان تدریجی مراحل کو حوصلے اور جرات سے طے کرتا ہے لیکن ارض وطن میں اس شعبے سے متعلق حالات دگرگوں ہیں ،لاتعداد افسوسناک خبروں کی گردش اپنی جگہ لیکن صحافیوں کی گردش حالات کمر توڑ ہے،چلچلاتی دھوپ ہو شدید بارشیں،سیلاب،لینڈ سلائیڈنگ ،حادثے،جرائم ،قتل یا غیر اعلانیہ اوقات کار یہ جانباز ہمہ وقت مستعد دکھائی دیتے ہیں چاہے کسی نشانے کی زد میں ہی کیوں نہ ہوں سیاسی جماعتوں کے منظور نظر میڈیا مالکان تو سیاسی جماعتوں کی تشہیر میں خوب سرمایہ سمیٹتے ہیں لیکن دیگر صحافی پابندیوں کی نذر ہو کر بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں ،مایوسی میں بعض اوقات خودکشی کی جانب راغب ہو جاتے ہیں،ایسے سربکف صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے میڈیا ہاوسز کی بندش اور اخباری شعبے کے ناگفتہ بہ حالات میں کام رواں دواں رکھنے والے بلاشبہ قلمی جہاد میں مصروف عمل ہیں اب ذرا موجودہ حالات پہ اچٹتی نگاہ ڈالیں تو مظلوم عوام کے مضمحل چہرے ایسی قلبی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں کہاس قدر ہو گیا اداس نگردل مرا خود کشی پہ راضی ہے ،معاشی ابتری کا سیلاب ہمارے تشخص کو زیر آب لا چکا ہے اور سدباب میں کھوکھلے دعووں سے افاقہ دیا جا رہا ہے جلسوں جلوسوں کا علم اس قدر جوش و خروش سے فروزاں ہے کہ تحریک آزادئی پاکستان تک شرما جائے یہ وہ واحد سرزمین ہے جہاں محض عوامی پاور شو کے لیے اجتماعات کا انعقاد کیا جاتا ہے یہ وہ واحد جمہوریت ہے جہاں عوام اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بعد بھی اپنے حقوق کے لیے خود سرکرداں ہیں حکومتی مشینری اشرافیہ کے تحفظ پر مامور اور پولیس ان کی حفاظت میں جاں فشاں ،قومی خزانہ مخصوص طبقے کے گرد محو رقصاں،بیوروکریسی سیاسی تبادلوں کے باعث ہچکولے کھاتے ہوئے، ہے یقینی کی صورتحال نے ہمارا مستقبل تاریک کر رکھا ہے پولیس کی جلسوں میں تعیناتی کے باعث تھانے چوکیاں ویران اور عادی مجرموں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے قانون ساز ادارے اور بار ایسوسی ایشنز سیاسی مفادات کو مقدم رکھے ہوئے ہیں قانون سیاست کی نذر،کھیل سیاست کی آماج گاہیں ،تفریح سیاسی اقربا پروری میں مشغول غرض یہ کہ جس سیاسی جماعت کی حکومت اسی کا کارڈ”پلے گیم”بن جانا یقینی ہے -ہم سیاست کھا رہے ہیں پی رہے ہیں بچے کھیل کے میدانوں کی جگہ جلسہ گاہوں میں جوش و خروش دکھا رہے ہیں نوجوان سیاست میں استعمال ہوکر بیکاراور تباہ ہو رہے ہیں ہماری خواتین کو عملی سیاست کی بجائے مخصوص نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے تو پھرجلسوں میں ان کی شرکت ناقابلِ فہم ہے،وہ گھر بار کی ذمہ داری سے نابلدبچوں کی تربیت کو نظر انداز کر کے جلسوں کی زینت بن جائیں تو نسل کی تربیت کیا خاک ہوگی؟ اداروں،بازاروں،درس گاہوں،مدرسوں حتی کہ تفریح گاہوں میں سیاسی مباحث شدت اختیار کر جاتے ہیں ،کیا ہی اچھا ہو ہر کسی کے پاس پاکستان کے قومی شناختی کارڈ کی جگہ اپنا سیاسی کارڈ ہو جس میں نسل،مذہب ،فرقہ اور سیاسی جماعت کاواضح تعین ہو تا کہ تعصب کی رٹ قائم ہو سکیجشنِ آزادی کی تقریبات میں بیلگام سرمائے کے استعمال نے سیلاب زدگان کی زبوں حالی کا تمسخر اڑایا ہے ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رسہ کشی میں جکڑی عوام کو اپنی خوشحالی اور بحالی کے لیے ہوش کے ناخن لینا ہوں گے،سچ بولنے پر زبانیں کٹ رہی ہیں المناک سزائیں دی جا رہی ہیں توچلیں بزدل ہی بن جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتیں اپنے حصے کے کردار ادا کر کے اجاگر کرتے ہیں،18گھنٹے اجتماعات میں ریوڑ بننے سے مقدم ہے کہ 8گھنٹے مسلسل محنت سے ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کریں سرکاری نوکریوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے سے قدرے بہتر ہے کہ چھوٹے پیمانے کے کاروبار شروع کریں اور حکومت وقت سے اپیل ہے کہ سہل کاروباری قوانین متعارف کرا کے پسماندہ طبقات اور پریشان حال سفید پوشوں کی حوصلہ افزائی کرے بالخصوص صحافی برادری پر دست شفقت رکھیں تاکہ صحافی اپنی ذمہ داری پوری تندہی سے ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں