157

اگر مجھے نکالا گیا

تحریر: آفتاب بھٹی
23 جنوری 2022 کو ” آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ” کے زیر عنوان ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی ٹیلیفون کالز میں سوالات” شکایتیں “اور مسائل سنے اور ان کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی جو عرصہ تین سال سے کرائی جارہی ہے اور حکومت کی نا اہلی کو بھی تسلیم کرتے ہوئے دھمکی بھی لگا دی کہ اگر مجھے نکالا گیا تو میں پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں بڑے بڑے جلسے بھی کیے اور تاریخ کا طویل دھرنا بھی دیا اگرچہ قادری صاحب کے جانے کے بعد میرا کپتان صرف کرسیوں سے ہی خطاب کرتا رہا عوام تو تھے نہیں۔
بیزاری” بے حسی ” لاتعلقی” اکتاہٹ ” جہاں کوئی بھی ادارہ ٹھیک نہ ہو اور اداروں کو بدنام کرنے کی سازش ناکام ہو جائے تو پھر انسان کیا کرسکتا ہے سواۓ بے بسی کے ماتم کے خان صاحب کرکٹر کے طور پہ تو ایک اچھے کپتان ثابت ہوئے مگر سیاسی میدان میں اپنی کرسی بچانے کے لیے روز بروز عجیب وغریب بیان دیتے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے نہ پاؤں خان تو خان اس کی ٹیم بھی ستھیائ ہوئی ہے”عروج کو زوال ہے ” ” ہم یہ بھول جاتے ہیں ک حاکم آخر تک حاکم نہیں رہتا۔
تحریک انصاف کے 3 سالہ دور میں اداروں کی جو بے حرمتی ہوئی ہے اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی کوئی نیب کو برا بھلا کہہ رہا ہے کوئی عدالت اور فوج کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں مزید اضافہ ہوا ہے تحریک انصاف میں آج کل استعفوں کا دور دورہ بھی ہے۔
کل رات میں نے خواب دیکھا رات کا سناٹا کہیں کہیں سے چمگادڑ کے پھڑ پھڑانے اور الوکی آواز سنائی دیتی ہے موسیقی، رات کی ہیبت اور ویرانی کا منظر پیش کرتی ہے جیسے کوئی پرندہ پھڑ پھڑاتا ہے یہ سلسلہ کچھ دیر تک رہتا ہے پھر اچانک دور سے ایک عورت کی کربناک سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔ آندھی کی سیٹیاں سنائی دیتی ہیں پھر سناٹا طاری ہو جاتا ہے کچھ ہی دیر بعد عورت کی سسکیاں بین کی شکل اختیار کرجاتی ہیں جیسے کوئی شدت کرب سے رو رہا ہو مگر اس لمحے نصف شب ہوچکی ہے میں دھیرے سے آواز دیتا ہوں یہاں کون ہے جواب آتا ہے چند لاشیں اور میرے ہوش اڑ جاتے ہیں یہ میرا وہمہ ہے یہ شب کتنی ہیبت ناک ہے کہ میں اپنی آواز سے کانپنے لگ گیا ہوں نہیں یہ میرا وہم نہیں ہے یقینا کوئی رو رہا ہے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اپنے بچوں کی موت پر رو رہی ہے مگر اس لمحے لاشیں میرے سامنے پتھروں کی طرح بے حس پڑی ہیں میں نے عورت سے پوچھا کیوں مارا ان کو اس نے بے بسی کے عالم میں کہا میں نے نہیں مارا ان کو بھوک اور افلاس نے مارا ہے جس ملک کے حکمران صرف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہو ں وہاں لاشیں تو گرتی ہیں مگر غریب کی میرے کپتان کچھ ہوش کے ناخن لیں ملک کواس اندھیرے میں نہ دھکیلیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو خدارہ 22 کروڑ عوام پر رحم کریں اور مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کو نکالنے کا سوچیں عوام کے ساتھ “باندر کلا” کھیلنا بند کریں ورنہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
کدھروں آیا لتر تےکدھروں آیا پولا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں