55

دوسروں کی مدد کو اپنا شعار بنائیں

تحریر: عتیق الرحمن
‎@AtiqPTI_1
اللّہ نے انسانوں کو صرف اپنی عبادت کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا کیونکہ انسانوں سے کئی ہزار گنا اسکی اور مخلوقات موجود ہیں ازل سے جو ہر وقت اس کی بندگی بجا لاتی ہیں اور سجدے میں رہتی ہیں انسان کو اللّہ نے ان تمام مخلوقات سے اشرف اس لئے بنایا اور اس میں وہ جذبہ پیدا کیا جو کسی اور مخلوق میں نہیں اور وہ ہے انسانیت رحمدلی وسیلہ بننا۔ اسی لئے اللّہ نے دو حقوق بنائے

حقوق اللّہ اور حقوق العباد

پھر ایک شرط بھی رکھ دی کہ میرے حقوق ادا کرو اور اگر نہیں کر پاؤ گے تو ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میں بڑا معاف کرنیوالا ہوں لیکن بندوں کے حقوق ادا کرنے میں اگر کوئی کوتاہی ہوئی تو تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک وہ بندے نہ معاف کردیں
اس لئے انسان کو انسان کا وسیلہ بنایا تاکہ ایک دوسرے کے مدد گار بنیں جو کہ اللّہ کو بہت پسند ہے۔ ہم اکثر کسی مشکل میں گر جاتے ہیں تو کوئی نا کوئی بندہ آکر ہمیں اس مشکل سے نکالتا ہے اور وسیلہ بنتا ہے۔
مجھے یاد ہے سال 2020 میں کچھ ایسی مصبیت آن پڑی کہ لگا اس سے نکلنا تقریبا ناممکن ہے مگر اللّہ نے اسی بندے کے ذریعے میری مشکل حل کروائی کہ جس کے بارے میں مجھے گمان تھا کہ یہ مجھے مشکل میں ڈالنے والا ہے۔ میری سوچ سے بھی پرے کا وہ کام تھا کہ جس بندے کے بارے میں سب کے خیالات انتہائی منفی تھی اللّہ نے اسی کو میرا وسیلہ بنا کر مجھے اس مشکل سے نکلوا دیا
ہم میں سے اکثر کسی معذور فرد کی مدد کرنا یا اسکی کوئی ایسی مشکل جو اسے پیش آرہی ہو اسے حل کرنا تھوڑا کراہت والا کام سمجھتے ہیں اور میں آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں کہ وہی معذور شخص اس نارمل شخص سے زیادہ کامیاب بھی ہوتا ہے تو عقل دھنگ رہ جاتی ہے کہ کیسے تو وہ ایسے کہ جس انسان کو اللّہ خود جیسا بنایا تو کیا اس کا وسیلہ یا مددگار نہیں بنایا ہوگا؟ جس کو پیدا ہی ہاتھوں یا ٹانگوں کے بغیر کیا تو لازما اس کا کوئی بندوبست بھی کیا ہوگا تاکہ وہ انسانوں کو آزمائے کہ وہ بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں نہیں
اس لئے جہاں جس کی جتنی ہو سکے مدد کیجیے کیونکہ یہ آپ اس پر احسان نہیں کررہے جس کی مدد کی بلکہ یہ آپنے آپ پر احسان سمجھیں اللّہ کہ جس نے اتنی توفیق دی جو بندوں کے حقوق پورے کرنے کے قابل ہوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں