12

حکومت اورن لیگ شہبازشریف کی بریت پرآمنے سامنے

اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ شہبازشریف کا کیس میرٹ کی بنیاد پر چلا تو وہ کم ازکم 25سال کیلئے جیل جا سکتے ہیں ۔منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے برطانوی عدالت سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی بریت سے متعلق فیصلے پر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر نے تفصیلی پریس کانفرنس کی، عدالتی فیصلے پر مس، فیک رپورٹنگ کرنا بڑا مسئلہ ہے، مس رپورٹنگ پرہمارا آر آئی یونٹ کیس فائل کرے گا، شہبازشریف کا کیس میرٹ کی بنیاد پر اگر روزانہ کیس چلا تو انہیں اگلے چھ ماہ میں کم ازکم 25سال کے لیے جیل جا سکتے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے شہباز شریف کیس کا روزانہ کی بنیاد پرکیسے چلے گا، لیگی صدر کے کیس میں کبھی ایک، کبھی دوسری خبر لگا کرخوشی کے شادیانے بجاتے ہیں، سزا سے لڈو بانٹنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا، پاکستان کے لوگ شریف فیملی سے پیسوں کی ریکوری چاہتے ہیں۔ دوسری جانب مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کا لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، تاثر دیا گیا کہ شہباز شریف کو کیس میں بریت ملی ہے، شہباز شریف کے سرخرو ہونے کی منطق پر حیران ہوں، نیشنل کرائم ایجنسی نے اس معاملے پر پاکستان سے کچھ نام شیئر کیے، کرائم ایجنسی شک کی بنیاد پر اکاونٹ 12 ماہ کیلئے منجمد کرسکتی ہے ،برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا فیصلہ سلمان شہباز کے دو اکاونٹس منجمد کرنے سے متعلق تھا۔منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ میں 10ستمبر کو 2صفحات پر مشتمل منجمند اثاثے بحال کرنے کا آرڈر جاری کیا، ویسٹ منسٹر نے 17 دسمبر2019 میں سلیمان شہباز اور ان کے وکیل ذوالفقار احمد کے2بینک اکائونٹس منجمند کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر برطانیہ میں منجمند اثاثوں کے حوالے سے کوئی کیس نہیں تھا، شہباز شریف کے سستے وکیلوں نے غلط خبریں پھیلائیں، جاری کردہ پورے آرڈر میں کہیں شہباز شریف کا نام نہیں،برطانیہ میں شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا کیس نہیںمنجمند اثاثوں کا آرڈر ختم ہونے کوایسے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کے کیس میں بریت مل گئی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت فیک اور وزرا بھی فیک بیانات دیتے ہیں، مشیراحتساب شہزاد اکبر نے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، حکومت نے این سی اے کوفیک شواہد کے پلندے دیئے، حکومت 3 سال سے اپوزیشن کودبانے کی کوشش کرتی رہی ، حکومتی وزرا بے بنیاد بیانات دے رہے ہیں، پرانے بیانات بھول کر نئے سامنے آجاتے ہیں، شہبازشریف اورسلیمان شہبازنے خود اکاونٹ کی تفتیش کی اجازت دی، شہبازشریف اورفیملی کے خلاف گھیرا تنگ ہورہاہے ، شہبازشریف اورسلیمان شہبازکے اکاونٹ ڈکلیئرڈ ہیں، نیشنل کرائم ایجنسی خود معاملے کی انکوائری کررہی تھی، کہتے تھے ہم نے برطانیہ کو شواہد دے دیئے ہیں،ایجنسی نے عدالت کولکھا کہ ہمیں مزید اکاونٹ فریز نہیں کرنے، پیسہ کہاں سے آیا ، کدھر استعمال ہوا 3 ممالک میں دیکھا گیا۔منگل کو مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ اور جنرل سیکرٹری احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر نائب صدر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیشنل ریکوری یونٹ کہتا ہے کہ ہم کسی کے پاس نہیں گئے،یہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے خود کارروائی کی،اس حکومت کا جھوٹ دنیا سے منفرد ہے، پرانے جھوٹ بول کر نئے جھوٹ بول رہے ہیں، شہزاد اکبر ڈیڑھ سال سے کہتا رہا کہ میں شہباز شریف کا پیچھا کر رہا ہوں، آج کہتا ہے کہ اس آرڈر میں میرا کوئی تعلق نہیں، وزیراعظم نے ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اس یونٹ نے آج تک کیا کام کیا اس کی حقیقت سب کے سامنے ہے، این سی اے کو ایسٹ ریکوری یونٹ نے خط لکھا جس میں بیرسٹر ضیاء نے شہباز شریف اور ان کی فیملی پر چلنے والے مقدمات کی تفصیلات این سی او کو فراہم کیں،وزیراعظم اور وزراء تین سال سے جھوٹ بول کرقوم پر مسلط ہیں، بیرسٹر ضیاء کے خط کے بعد این سی اے نے کارروائی شروع کی، تین ممالک میں تفتیش ہوئی، یہ معمولی تفتیش نہیں تھی، این سی اے نے بیس سال تک کا ریکارڈ چیک کیا کوئی منی لانڈرنگ کے شواہد نہیں ملے، منجمند اکائونٹ شہباز شریف اور سلیمان شہباز کے ڈیکلیئرڈ اکائونٹ تھے،شہباز شریف اور سلیمان شہباز نے این سی او کو خود اکائونٹ کے تحقیقات کی اجازت دی، کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی،نیب ایسٹ ریکوری یونٹ اور ایف آئی اے کے لوگ لندن جا کر این سی اے کے افسران سے ملتے رہے،آج ملک کا وزیراعظم اپنے مشیروں کے ذریعے کہنے کی کوشش کر رہا ہے کہ این سی اے کے آرڈر سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بیس ماہ کیس چلتا رہا کوئی شواہد نہیں ملے تو منجمند اکائونٹس بحال کئے گئے، حکومت کے دعوے غلط ثابت ہوئے، ملک کے حکمرانوں کو ریاست کی پرواہ نہیں، جھوٹے الزامات دوسرے ممالک کو دیئے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں