چوہدری ظہور الہی شہید ۔ایک تاریخ ساز شخصیت

غلام مصطفیٰ ملک

گجرات کے چوہدری خاندان کا سیاسی رکھ رکھاؤ اور رواداری انہیں ورثے میں ملی ہے اور یہ عظیم ورثہ اپنے دور کے مقبول ، معروف اور نامور سیاستدان چوہدری ظہور الہی شہید نے اپنے خاندان کے لیے چھوڑا ہے ۔

چودھری ظہور الٰہی شہید اپنے دور کے نامور سیاسی رہنما تھے جنہوں نے ایک پولیس کانسٹیبل سے قومی سطح کے رہنما تک کا سفر بڑی کامیابی سے طے کیا۔ایک صدی قبل گجرات کے علاقے نت میں جنم لینے والے چودھری ظہور الہٰی جوڑ توڑ اور دھڑے بندی کی سیاست کے بادشاہ مانے جاتے تھے۔چوہدری ظہور الٰہی شہید نے اپنی سیاست کا آغاز لوکل باڈیز سے کیا ، انہوں نے عوام کو شعور دیا ، انکے دکھوں ، غموں کو بانٹا ، وہ بہت جلد گجرات کے عام آدمی کی آواز بن گئے ان کی غریب پروری اور عوام دوستی نے انہیں ضلع کے سب سے طاقتور خاندان کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنوا دیا۔
یہ عہدہ بعد ازاں ایوب خان کے مارشل لا میں ان کے لیے قید اور آزمائش کا باعث بھی بنا جب ایبڈو کے قانون کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کا عمل شروع کیا گیاوہ گنتی کے ان سیاسی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے رضاکارانہ طور پر سیاست چھوڑنے کے بجائے قانون کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ظہور الہٰی شہید نے اپنا کیس خود لڑ کر بریت حاصل کی۔
ایوب خان نے جب مسلم لیگ کنوینشن بنائی تو جہاں ذوالفقار علی بھٹو اس کے سیکرٹری جنرل تھے وہاں چوہدری ظہور الہٰی پارلیمانی سیکرٹری تھے۔ ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو سارے پنجاب کے دولتانے، ٹوانے، گیلانی، قریشی 1970ء کے الیکشن میں شکست کے بعد بھٹو صاحب کی جائے پناہ میں آگئے۔ مگر ایک چوہدری ظہور الہٰی تھے جنہوں نے مسلم لیگ کنوینشن نہیں چھوڑی۔ بھٹو صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سیاست میں دوستی اور دشمنی کی انتہاؤں پر جاتے ہیں لیکن چوہدری ظہور الہی نے ہمیشہ جبر اور طاقت کا مقابلہ کیا ، ذوالفقار علی بھٹو نے انکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر اصول پسند ظہور الہی شہیید نے اقتدار کے لالچ میں ذوالفقار بھٹو کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا جس کی انہوں نے بعد میں سزا بھی بھگتیبھٹو دور میں وہ مسلسل زیر عتاب رہے ۔اس دور میں ان پر بھینس چوری کا مشہور زمانہ مقدمہ قائم ہوا حالانکہ ابتدا میں بھٹو ان کے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے خواہاں تھے۔
سابق وزیراعظم اور چوہدری ظہور الہی شہید کے صاحبزادے چودھری شجاعت حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ممتاز دولتانہ کی بیٹی کی شادی میں ان کی بھٹو صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہیں وزارت کی پیش کش کی گئی۔ انہوں نے شائستگی سے منع کردیا۔‘

ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں ظہور الٰہی اپوزیشن کے اہم رہنما تھے ۔انہوں نے حکومت مخالف سیاسی قوتوں کو یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ لاہور میں ان کی وسیع و عریض کوٹھی اپوزیشن خاص طور پر صوبہ سرحد اور بلوچستان کے قائدین کی مستقل رہائش گاہ ہوتی۔ خان عبدالغفار خان جب بھی لاہور آتے تو ان کا قیام چوہدری ظہور الہٰی کی اسی کوٹھی میں ہوتا۔چوہدری ظہور الہی بھٹو حکومت کے خلاف سب سے توانا آواز تھے اسمبلی کے اندر اور باہر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ۔اس شعلہ نوائی کا نتیجہ ان کے گھر سے عراقی اسلحہ کی برآمدگی کے کیس کی صورت میں سامنے آیا۔
اس کیس میں انہیں گرفتار کرکے بلوچستان کے علاقےکوہلو لے جایا گیا ۔ ملک غلام جیلانی نے انکشاف کیا تھا کہ انکی گرفتاری کے بعد یہ سازش تیار کی گئی تھی کہ انہیں عدالتی پیشی کے بہانے کوہلو سے کوئٹہ لے جاتے ہوئے راستے میں قتل کروا دیا جائے گا۔اس واردات کو بلوچ تخریب کاروں اور پولیس کا مقابلہ ظاہر کر کے کیس کی فائل کو دفنا دیا جائے گا ۔ذوالفقار علی بھٹو کے اس منصوبے پر بلوچستان کے گورنر نواب اکبر بگٹی نے عمل درآمد سے انکار کر دیا۔

بھٹو حکومت کے بعد وہ ضیاءالحق کابینہ میں وزیر بن گئے ، انہوں نے بطور وزیر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں ، OPF کی بنیاد رکھی اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا شورع کر دیا ،ایک طرف وہ عوامی خدمت کے لیے سرگرداں تھے تو دوسری جانب الذولفقار کے دہشت گرد انکی زندگی کے درپے تھے ، اس حوالے سے چوہدری ظہور الہی شہید آگاہ تھے مگر وہ موت سے گھبرانے والے نہیں تھے جب انہیں اس بابت آگاہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ” جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ”
سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’سچ تو یہ ہے‘ میں لکھتے ہیں کہ
میں 25 ستمبر 1981 کی وہ دوپہر کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔ میں گلبرگ میں اپنے دوست کے گھر بیٹھا گپ شپ میں مصروف تھا۔ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ بتایا گیا کہ میرے والد کی گاڑی پر ماڈل ٹاؤن موڑ کے قریب حملہ ہوا ہے اور وہ شدید زخمی ہیں۔‘
میں شدید پریشانی کے عالم میں گھر پہنچا۔ دیکھا کہ والد صاحب کے سارے دوست احباب جمع ہیں۔ ایک کمرے میں میرے تایا چودھری منظور الٰہی خاموش بیٹھے تھے۔میں نے والد صاحب کی خیریت دریافت کی تو ان کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ میں سمجھ گیا کہ میرے والد اب دنیا میں نہیں رہے۔‘
مرحوم اس روز اپنے دوست کے گھر سے ماڈل ٹاؤن کی طرف روانہ ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین اور ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے پراسیکیوٹر ایم اے رحمان ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وہ مولوی مشتاق کو ڈراپ کرنے ان کے گھر جا رہے تھے۔ظہور الہی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔
ماڈل ٹاؤن موڑ کے قریب ایک کار نے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا اور سامنے آکر گاڑی روک دی۔ کار سواروں نے سٹین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔کار کے اندر دو دستی بم پھینکے جن میں سے ایک ظہور الٰہی کے ڈرائیور نسیم نے اٹھا کر باہر پھینک دیا جبکہ دوسرے کے پھٹنے سے وہ مرگیا۔چودھری ظہور الٰہی کے سینے میں گولی لگی۔
مولوی مشتاق حسین کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ ایم اے رحمان بالکل محفوظ رہے۔
شدید زخمی چودھری ظہور الٰہی کو کرسچیئن ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ان کے بھائی چوہدری منظور الٰہی لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے حق میں نہ تھے لیکن بارک اللہ ایڈووکیٹ اور جسٹس کرم اللہ چوہان کے اصرار پر راضی ہوگئے۔
چوہدری ظہور الٰہی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما اور ضیاء الحق کی کابینہ میں وزیر محنت و افرادی قوت رہ چکے تھے ۔ان کے قتل سے ملک میں سوگواری اور چہ مگوئیوں کی لہر پیدا ہو گئی۔
چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حادثے سے تین روز قبل میرے والد نے راجہ ظفر الحق کو بتایا تھا کہ مجھے اپنے ذرائع سے خبر ملی ہے کہ الذوالفقار نے مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کی ہے۔
اس واقعے کی شام سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو نے دہلی میں بی بی سی کے نمائندے مارک ٹیلی کو ٹیلی فون کر کے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ ان کے بیان کے مطابق ڈاکٹر مصدق اور اقبال نامی شخص نے یہ جان لیوا حملہ کیا تھا۔
پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ واردات میں استعمال ہونے والی دونوں گاڑیاں چوری شدہ تھیں۔بالآخر پولیس نے عبدالرزاق جھرنا نامی نوجوان کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اس نے الذوالفقار سے اپنی وابستگی اور کابل میں ٹریننگ لینے کا اعتراف بھی کیا۔

چوہدری شجاعت حسین اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’ان کی والدہ نے انہیں پتا لگانے کا کہا کہ پولیس نے واقعی اصل قاتل گرفتار کیا ہے یا خانہ پری کے لیے کسی بے گناہ کو پکڑ لیا ہے۔

والدہ کے حکم پر وہ اپنے ساتھیوں سمیت اسے ملنے تھانے چلے گئے۔ گفتگو میں اس سے پوچھا کہ اگر اس نے قتل نہیں کیا تو بتا دے تاکہ اسے رہا کروایا جائے۔

چودھری شجاعت حسین کے بقول نوجوان نے اعتماد سے جواب دیا کہ ’میں نے اپنا کام کر دیا ہے۔مجھے پھانسی نہیں ہوگی ۔میرے لوگ مجھے رہا کروا لیں گے۔‘
کچھ عرصے بعد اس کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی ہو گیا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی لالہ اسد پٹھان کراچی میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔

چوہدری ظہور الٰہی شہید جہاں سیاست کے میدان میں شاندار روایات کے امین تھے وہیں وہ ایک۔کشادہ دل اور اعلٰی ظرف انسان تھے ۔اپنے مخالفین کے معاملے میں رکھ رکھا و مروت کے قائل تھے۔

سنہ 1981 میں لندن سے شائع ہونے والے اردو اخبار ملت کے ساتھ ان کا تنازع پیدا ہو گیا ۔اس کی تفصیل اخبار کے ایڈیٹر انعام عزیز نے اپنی کتاب ’سٹاپ پریس اے لائف آف جرنلزم‘ میں بیان کی ہے۔

ان کے مطابق ’چودھری صاحب کی لندن آمد پر ان کے اخبار میں شائع شدہ خبر کی سرخی میں ان کے نام کے بجائے پولیس دور کے سروس نمبر کا حوالہ دیا گیا تھا۔اس پر انہیں ظہور الہی کی طرف سے ہرجانے کا نوٹس ملا۔‘
انعام عزیز ان دنوں دل کے آپریشن کے مرحلے سے گزرنے والے تھے ۔ان کے ایک دوست اکرام بیگ نے فون پر انہیں مطلع کیا کہ چوہدری ظہور الٰہی تھوڑی دیر میں ان سے بات کریں گے ۔

وہ لکھتے ہیں کہ چوہدری صاحب نے ان کی صحت کے بارے میں احوال پوچھنے کے بعد بتایا کہ وہ لندن کیس کی پیروی کے لیے آئے ہیں۔ ان کی بیماری کا سن کر انہوں نے اپنے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ انعام عزیز کا نام کیس سے نکال دیں ۔

صرف اخبار اور اس کی ملکیت رکھنے والی کمپنی کو فریق بنائیں۔ لندن کورٹ نے سماعت کے بعد ملت کے خلاف فیصلہ دیا۔ کمپنی کو حکم دیا گیا کہ وہ ہرجانہ کے طور پر 60 ہزار پاؤنڈز ادا کرے۔ انعام عزیز کے الفاظ میں چوہدری ظہور الٰہی کا غیر معمولی رویہ اور انداز کبھی بھولنے والا نہیں۔

چوہدری ظہور الہی شہید نے سیاست اور عوامی خدمت میں جو اصول وضع کیے وہ انکے بیٹے چوہدری شجاعت حسین بڑی دیانت اور امانت کے ساتھ لے کر آگے بڑھے اور اپنے خاندان کو پاکستانی سیاست کا لازم جزو بنا دیا ،چوہدری شجاعت حسین کی وضع داری ، شرافت اور متانت کی سیاست کو آگے لے کر چلنا اور سیاسی مفاہمت کو بڑھانا اب انکے صاحبزادوں اور انکے بہی خواہوں پر قرض ہے ۔
اللہ کریم چوہدری ظہور الٰہی شہید کے درجات بلند کرے اور انکی آخرت کی منازل آسان فرمائے ۔آمین

رائے کا اظہار کریں