15

ایف بی آرنے نئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم 2021 کے قوانین نوٹیفائی کردیئے

اسلام آباد، فیڈرل بورڈ آف ریوینو(ایف بی آر)نے نئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم 2021 کے قوانین نوٹیفائی کردیے ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم 2021 کے قوانین کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے جوکہ 14 اگست 2021 سے نافذالعمل ہوں گے۔
نئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم کووفاقی حکومت نے منظورکیا ہے اور فنانس ایکٹ 2021 کے تحت پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی ہے۔ یہ اسکیم مو جودہ جاری اسکیموں جیسے مینوفیکچرنگ بانڈ، ڈی ٹی آر ای اور ایکسپورٹ اورینٹڈ ااسکیموں کے ساتھ جاری رہے گی۔موجودہ اسکیموں کو مرحلہ وار دو سالوں کے اندرختم کردیا جائے گا جس کے بعدنئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم 2021 مکمل طور پر لاگو ہو جائے گی۔نئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم 2021 کے قوانین کو ایف بی آر ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے ،اس اسکیم کو استعمال کرنے والوں میں مینوفیکچررز و ایکسپورٹرز ، کمرشل ایکسپورٹرز، ان ڈائیریکٹ ایکسپورٹرز ، کامن ایکسپورٹ ہاسز ، وینڈرز اور انٹرنیشنل ٹول مینو فیکچررز شامل ہیں۔ اس اسکیم کو استعمال کرنے والوں کے ان پٹس کی منظوری کسٹمز کولیکٹر اورڈائیریکٹر جنرل ان پٹ آٹ پٹ آرگنائیزیشن دے گا۔ ان پٹ میں ایسی تمام اشیا شامل ہیں جو کہ باہرسے درآمد کی گئی ہوں یا مقامی طورپربنائی گئی ہوں تاکہ اشیا کی پیدوار کو برآمد کیا جا سکے ان پٹ اشیا میں خام مال، سپیر پارٹس،کمپونینٹس، سازوسامان ، پلانٹ اورمشینری شامل ہیں ان پٹ کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس لاگو نہیں ہو گا اور مقامی طورپران پٹس کی فراہمی بھی زیرو ریٹیڈ ہوگی۔اس اسکیم کے تحت کامن ایکسپورٹ ہاس خام مال کو ڈیوٹی اور ٹیکس فری درآمد کریں گے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے اینٹرپرائزز کو فروخت کریں گے۔ اس اسکیم کے تحت انٹرنیشنل ٹول مینوفیکچرینگ کو پاکستان میں اجازت دی گئی ہے نئی ایکسپورٹ سہولتی اسکیم کے تحت کم از کم ڈاکیومینٹیشن کی ضرورت ہو گی جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اینٹر پرائزز کی حوصلہ افزائی ہو گی۔یہ اسکیم وی بوک اور پاکستان سنگل ونڈو کے تحت مکمل طور پر خودکار ہو گی اور اس اسکیم کے استعمال کنندہ اور ریگیولیٹرز وی بوک اور پاکسان سنگل ونڈو کے ذریعے انٹیگریٹیڈ ہوں گے اور خودکار نظام کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہوں گے۔اس اسکیم کی نمایاں خصوصیت میں پوسٹ کلیرنس آڈٹ اور کنٹرول شامل ہے اس اسکیم کے تحت استعمال کردہ عرصہ کو دو سال سے بڑھا کر پانچ سال تک کردیا گیا ہے ،توقع ہے کہ اس نئی اسکیم کی وجہ سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، ٹیکس تعمیل آسان ہوگی، تجارتی آسانی فراہم ہو گی، ایکسپورٹرز کے لیکویڈیٹی مسائل کم ہوں گے اور تجارت کو فروغ ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں