Thursday, April 18, 2024
ہومکالم وبلاگزانتباہ:تمباکو نوشی صحت کیلئے مضر ہے

انتباہ:تمباکو نوشی صحت کیلئے مضر ہے

ایسے تمباکو سے پرہیز کریں جو آپ کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی نقصان پہنچائے
تحریری:فارحہ نعمان
محب وطن ہونے کے ناطے اپنے ملک کیلئے فکرمند ہونا ایک فطری عمل ہے۔ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہم سب بھی اپنے ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل اور اس کی ترقی کی راہوں میں آنے والی رکاوٹوں کو لیکر کافی پریشان ہوتے ہیں اور مختلف انداز میں مختلف مسائل پر تبصرے کرتے ہیں۔ چائے کا کپ ہاتھ میں لئے کبھی ٹی وی اور ریڈیو پر نشر ہونے والی خبریں سن کر، کبھی ایک ہاتھ میں اخبار اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے اس کے کش لگاتے ہوئے، تو کبھی باہر دوستوں میں بیٹھ کر شیشہ پیتے یا پان چباتے ہوئے۔ اپنے اپنے حالات و واقعات کے مدنظر، ہم ملک کے صرف ان مسائل پر روشنی ڈالنا پسند کرتے ہیں جن سے ہم ذاتی طور پر وابستہ ہوتے ہیں اور حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل سے نپٹنے کیلئے ہم ہر پانچ سال بعد ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ووٹ ڈالتے ہیں اور پانچ سالوں کیلئے ہرفرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ جو گورنمنٹ آتی ہے اب ان کے فیصلوں کے صحیح یا غلط ہونے کو زیر بحث لانا ہماری دوسری بڑی زمہ داری ہوتی ہے۔ ہم صرف مسائل پربات کرتے ہیں اور حکومت کی نا اہلی پر اپنا تجزیہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ان مسائل کا کیا حل ہو سکتا ہے اور ہم ملک میں بہتری لانے کیلئے کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ مہنگائی؟ نہیں! ٹیکس چوری جس کے سبب مہنگائی ہے۔ جس کو ناکام بنانے میں آپ میں اور حکومت سب شامل ہیں۔2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریبا 22 کروڑ ہے۔ مالی سال 21-2020 کے مطابق پاکستان کا سالانہ جی ڈی پی گروتھ ریٹ صرف 1.6 فیصدہے۔ اور یہ پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ کیونکہ ملکی اخراجات پورے کرنے کیلئے پاکستان مسلسل نئے قرضے اٹھا رہا ہے۔ جس کا بوجھ ساری عوام اٹھا رہی ہے۔ حالات اور واقعات کے پیشِ نظر ایسا لگتا ہے کہ اگر ٹیکس چوری کے سلسلے میں کوئی فوری ایکشن نہیں لیا گیا تو خدانخواستہ آگے آنے والی نسلیں بھی مقروض پیدا ہونگی۔ لیکن اگر ٹیکس چوری کے بڑھتے ہوئی رجحان کو بروقت روک لیا جاتا ہے تو اس کے بہت سے مثبت اثرات ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی معیشت کو بہتر بنانے اور ریوینیو بڑھانے میں ٹیکس ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سننے میں ٹیکس کا لفظ کسی دھماکے سے کم نہیں لگتا۔ لیکن ملکی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کوبہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے جو رقم مختص کی جاتی ہے وہ ٹیکس سے اکھٹی کی گئی رقم بھی ہوتی ہے۔ ٹیکس کی بر وقت اورمکمل ادائیگی ملک کو خسارے سے بچا سکتی ہے اور جوعوام ایک عام سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ان کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کمپنیاں اور ادارے اپنی مصنوعات کی کل پیداوارچھپائے بغیرٹیکس ادا کریں اور حکومت اس ٹیکس سے ملنے والے پیسوں کا استعمال موثر انداز میں کرے تو عوام اور حکومت کے درمیان جو بھروسے کا فقدان ہے اس میں کمی آئے اور ہر فرد واحد ملک کے لئے کام کرے۔ اور آنے والے وقتوں میں ہم قرضوں سے نجات حاصل کر سکیں۔ایک عام شہری ہونے کی حیثیت سے ہمارے نزدیک مہنگائی فی الحال پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے لگ بھگ ہر پاکستانی خواہ وہ کسی بھی اسٹیٹس سے تعلق رکھتا ہو پریشان ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹیکسز نے ایک عام انسان کی کمر توڑ دی ہے۔ لگژری تو اب خواب ہوئی، ضروریاتِ زندگی بھی ایک عام انسان کے لئے خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اور ہر شخص بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور مہنگائی کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے جس کی کوئی سنوائی نہیں۔ کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس چوری اور ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں جس کے سبب مہنگائی بڑھتی ہے۔ پاکستان کے چند بڑے سیکٹرز میں ٹیکس کی چوری کی جاتی ہے جس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے اور ملکی معیشت اثر انداز ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے ٹیکس چوری میں ملوث جن مصنوعات کے پیداواری شعبوں کا زکر کیا ان میں سے ایک شعبہ سگریٹ کا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں موجود تقریبا ایک تہائی مرد یعنی 36 فیصدآدمی اور6فیصدعورتیں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کل 30 سے زائد کمپنیاں ہیں جن میں 200 سو سے زائد برانڈز ہیں جو تمباکو کی خرید و فروخت میں شامل ہیں۔ ان تمام کمپنیوں سے جمع ہونے والا ٹیکس 117ارب روپے ہے۔ جس کا97فیصدجو تقریبا 113.9 ارب روپے ہے، پاکستان میں موجود دو بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان ٹوبیکو کمپنی لمیٹڈ(پی ٹی سی )اور فلپ مورس پاک لیمیٹیڈ (پی ایم پی ایل)ادا کرتی ہیں جبکہ باقی کی 30 کمپنیاں جو مارکیٹ کا تقریبا40فیصدحصہ ہیں اور دو سو سے زائد برانڈز پر مبنی ہیں۔ وہ کل ملا کر 3.14 ارب روپے ٹیکس جمع کرواتی ہیں۔ پاکستان میں کل81.2 سگریٹ کی اسٹیکس تیار کی جاتی ہیں جن میں61.4فیصدسگریٹ پاکستان میں موجود دو بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان ٹوبیکو کمپنی لمیٹڈڈ اور فلپ مورس پاک لمیٹڈقانون کے مطابق بناتی ہیں۔ اور باقی کے 37.6فیصدسگریٹ باقی کی 30 کمپنیاں بناتی ہیں اور تمباکو کی خرید و فروخت میں ردو بدل کر کے تیار کی جانے والی سگریٹ کے اعداد و شمار کو بنائی گئی تعداد سے کم دکھا تی ہیں۔ جس کے سبب وہ بآسانی ٹیکس چوری کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور ملک کو خسارہ اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر ایف بی آر ٹیکس کی چوری کو غیر یقینی بنا کر مکمل ٹیکس وصول کرے تو پاکستان کو تمباکو کی صنعت سے 200 ارب روپے کا ٹیکس حاصل ہو جس کو پاکستان میں موجود مسائل پر استعمال کر کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ تمباکو کی صنعت میں ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو 77 ارب روپے سے زائد کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے جس کا خمیازہ ساری عوام بھر رہی ہے۔
پاکستان میں اس وقت تین طرح کے غیر قانونی سگریٹ استعمال کئے جارہے ہیں۔ ایک وہ سگریٹ ہیں جو تیار تو ملک میں ہوتے ہیں پر ان پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ یہ بدقسمتی سے غیر قانونی سگریٹ کی مارکیٹ کا90 فیصدحصہ ہے۔ ان کی قیمت مارکیٹ میں موجود سگریٹ کی قیمتوں سے کم ہوتی ہے اور آپ کو چھوٹی چھوٹی دکانوں پر ان کے اشتہارات بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان نے 90 فیصدکی دھائی میں تمباکو کے استعمال کو ترک کرنے کیلئے سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انکی ایڈورٹائزمنٹ بھی کی جاتی ہے اور چھوٹی دکانوں پر بآسانی میسر بھی ہے۔ دوسری قسم اسمنگ کے ذریعے حاصل کی جانے والی سگریٹ کی ہے ۔ جو قیمت میں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور زیادہ تر اچھے تنخواہ پیشہ لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں اور اس لئے یہ بڑے بڑے شہروں میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔ تیسری قسم کے غیر قانونی سگریٹ جعلی ہوتے ہیں۔ یہ بظاہر کسی سگریٹ کی نقل ہوتے ہیں۔ ان پر ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے کا ساتھ ساتھ ایف بی آر اور محکمہ صحت کی جانب سے عائد پابندیوں کا بھی پاس نہیں کیا جاتا۔ محکمہ صحت کی جانب سے مختص کی جانے والی ٹار کی خاص مقدار کی پابندی کا خیال نہ کرتے ہوئے یہ سگریٹ صاف انداز میں نہیں بنائے جاتے۔ مزید یہ کہ ان پر کسی قسم کی وارننگ یا انتباہ کا اندراج نہیں ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے حکم کے مطابق ملک میں کوئی سگریٹ بغیر انتباہ کے بیچنا غیر قانونی ہے۔ چونکہ اس قسم کے سگریٹ کی پیداوار پر خرچہ کم ہوتا ہے اور ٹیکس بھی چوری کر لیا جاتا ہے تویہ انتہائی سستی قیمت پر چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بآسانی فروخت کی جاتی ہے۔
سگریٹ کی حوصلہ شکنی کیلئے حکومت کافی وقت سے سگریٹ پربھاری ٹیکس لگا رہی ہے پر افسوس کے حکومت کے اس عمل سے سگریٹ کی فروخت میں کوئی کمی نہیں آرہی بلکہ اس سے غیر قانونی سگریٹ کی فروخت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف قانونی طریقے سے سگریٹ بنانے والی کمپنیاں سگریٹ کی قیمت میں اضافہ کرتی ہیں۔ لیکن غیر قانونی طریقے سے تیار کئے جانے والے سگریٹ کی قیمتوں میں بہت معمولی تبدیلی آتی ہے۔ جس سے بھاری ٹیکس لگا کر تمباکو نوشی کو ترک کرنے کی حکمت عملی موثر نظر نہیں آتی۔ گو کہ کوئی بھی اس حقیقت سے لا علم نہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ لیکن پھر بھی اس کے استعمال کرنے والے اگر اپنی صحت کو نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو ہمیں بھی اس انتباہ کو نظر انداز کر کے اس کی پیداوار سے حاصل ہونے والے مثبت پہلوئوں کو زیر غور لانا چاہئے۔ جب سگریٹ کی پیداوار شروع ہوتی ہے تو تقریبا 75000 کسان اس کی کاشت کرتے ہیں۔ یہ وہ کسان ہیں جن سے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے مکمل دستاویزات کے ساتھ کنٹریکٹ کررکھے ہوتے ہیں۔ پھر تمباکو کے خام مال کو سگریٹ میں استعمال کرنے کیلئے تیار کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کیلئے پاکستان میں محض 11 گرین لیف تھریشنگ یونٹ کام کر رہے ہیں۔ جس کا استعمال پاکستان میں سگریٹ بنانے والی تمام کمپنیاں کرتی ہیں۔ جب یہ سگریٹ تیار ہوجاتے ہیں تو ملک بھر میں اس کے تقریبا 500,000 ریٹیلرز موجود ہیں تو تمباکو کی کاشت سے لیکر اس کی صفائی اور پھر سگریٹ کی تیاری تک تقریبا 72000 لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ ایک صنعت کے چلنے سے ملک میں روزگار کے مواقع وافر ہوتے ہیں۔ بے روزگاری میں کمی آتی ہے اور اگر تیار کردہ مصنوعات پر مکمل ٹیکس ادا کیا جائے تو ہمارا ملک محض ایک صنعت کے ٹیکس کی چوری پر قابو پا کر اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاکر ریوینیو کے خسارے کوکم کر سکتا ہے۔حکومت کو تمباکو کے سیکٹر سے چوری ہونے والے ٹیکس کو روکنے کیلئے ضروری اور فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تمام تر صورتحال کو زیر غور رکھتے ہوئے اس وقت گرین لیف تھریشنگ یونٹ پر ایڈوانس ٹیکس لگانا سب سے مناسب حل ہے۔ اس ٹیکس کے ذریعے ایف بی آر کو تیار کئے جانے والے تمباکو کی مکمل مقدار کی معلومات ہوگی اور اس سے ٹیکس چوری پر انتہائی آسان انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکس سے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو بھی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ وہ ٹیکس کی رقم کی وصولی اسکی قیمت میں اضافہ کر کے بآسانی کرسکتے ہیں۔ تھریشنگ یونٹ پر ایڈوانس ٹیکس لگانے میں کوئی خاص انویسٹمنٹ بھی درکار نہیں۔ دستاویزات کے عمل پر بھی گہری نگاہ رکھی جائے اور جوکمپنیاں اس میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کریں ان سے سختی سے نپٹا جائے۔ سگریٹ چونکہ صحت کیلئے نقصان دہ ہے اور لگژری کی حیثیت رکھتی ہے تو اس سے چوری ہونے والے ٹیکس پر فوری طور پر قابو پاکر ملک کو مزید قرضوں میں ڈوبنے سے بچانے کیلئے حکومت کو ہرممکن کوشش کرنی چاہئے۔ اور آخر میں میں سگریٹ کا استعمال کرنے والوں سے گزارش کرونگی کہ اگر حکومت کیلئے ٹیکس کی چوری کو روکنا مشکل ہے تو بحیثیت ذمہ دار شہری آپ حکومت کا ساتھ دیں۔ صحت کونقصان پہنچانا آپکا زاتی فعل ہے۔ لیکن براہ مہربانی ملکی معیشت کونقصان نہ پہنچائیں۔ جس سگریٹ سے آپکی صحت اور ملک دونوں ہی متاثر ہوں اس سے پرہیز کریں اور اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے کوشش کریں کہ ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں کے ہی پراڈکٹ خریدیں۔ اور اس پیغام کو عام کریں تاکہ جو لوگ اس بارے میں معلومات نہیں رکھتے وہ بھی آگاہ ہوں اور آپ ملک میں بہتری لانے کا کوئی موقع نہ گنوائیں۔ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے اور آپ نہیں جانتے آپ کا اٹھایا کونسا قدم ایک تحریک بن جائے اور وہ تبدیلی لے آئے۔ ملک پر تو ہم سب فخر کرتے ہیں، کیا اچھا ہو اگر ایک موقع ملک کو بھی ہم پر فخر کرنے کا دیا جائے؟ پاکستان زندہ باد!