facebook 21

سماجی ویب سائٹس کی محض 6گھنٹے کی بندش نے دنیا کو کیسے منجمد کر دیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز دوبارہ بحال ہوگئیں۔فیس بک اور واٹس ایپ نے واضح طور پر ایپلیکیشنز کی بندش کی کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم ماہرین کی جانب سے مختلف وجوہات بتائی جارہی ہیں۔جیسے روٹی، کپڑا، مکان بنیادی انسانی ضروریات ہیں اور مذہبی آزادی، آزادی اظہارِ رائے اور تشدد سے تحفظ بنیادی انسانی حقوق ہیں، ویسے ہی انٹرنیٹ تک رسائی دنیا کے تقریبا ہر فرد کی بنیادی ضرورت بن گئی ہے۔لیکن انٹرنیٹ کی فراہمی بجلی، پانی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹیز کے برعکس کسی ریفائنری یا پلانٹ کی جانب سے نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے سرورز کی ایک دوسرے سے رابطہ قائم رکھنے کی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ منظم فوج کی طرح کام کرتے ہیں تاہم اگر ہدایات اور معلومات کی ترسیل میں کوئی خلل آ جائے تو پورا نظام رک جاتا ہے۔گذشتہ شب فیس بک اور اس سے جڑی ایپس واٹس ایپ اور انسٹا گرام کی بندش نے جہاں دنیا بھر میں صارفین کو پریشان کر ڈالا وہیں ہمیں اس بات کی یاد دہانی بھی کروائی کہ جدید انسان انٹرنیٹ اور خصوصا فیس بک پر کتنا انحصار کرنے لگے ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک، فیس بک اور اس کے بانی مارک زکربرگ سے لے کر دنیا بھر میں موجود حکومتیں، کاروبار اور صارفین، سب ہی اس بندش سے کسی نہ کسی طرح ضرور متاثر ہوئے۔لیکن جہاں کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک بھیانک خواب کی سی صورتحال تھی تو وہیں فیس بک کے مقابلے میں کھڑے پیغام رسانی اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم مثلا ٹوئٹر، سگنل اور ٹیلی گرام وغیرہ کے دن پھر گئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صورتحال انتی سنگین ہوگئی کہ مارک زکربرگ کو دنیا بھر میں اربوں لوگوں سے معذرت کرنی پڑی۔ تو ہم اس بندش کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور اس کے دنیا پر اثرات کیا ہوئے؟فیس بک انتظامیہ کے مطابق اس کے ڈیٹا سنٹرز میں معلومات کی ترسیل کرنے والے راٹرز میں تکنیکی نقص اس بندش کی وجہ بنا۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس خلل کی وجہ فیس بک سائٹس کے ڈی این ایس میں خرابی ہو سکتی ہے۔ اسے انٹرین کی فون ڈائریکٹری بھی کہا جاتا ہے اور یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے کوئی بھی صارف کسی بھی ویب سائٹ کو اس کے ویب ایڈریس کے ذریعے تلاش کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ہونے والی ایک بندش جس نے کئی بڑی سائٹس کو متاثر کیا، کے پیچھے بھی ڈی این ایس کے مسائل تھے۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بندش کے دوران فیس بک کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے دفاتر اور کانفرنس رومز میں داخل ہونے سے قاصر تھے کیونکہ اسی دوران ان کے ڈیجیٹل بیجز نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔سکیورٹی انجنیئرز کا کہنا تھا کہ نقص دور کرنے میں اس لیے بھی دیر لگی کیونکہ انھیں ابتدائی طور پر سرور رومز تک رسائی حاصل نہیں ہو پا رہی تھی۔کچھ خلل یا بندشیں جلد اور شفاف انداز میں دور کر دی جاتی ہیں۔ ان میں سے اکثر جو ایسے خلل پیدا ہوتے ہیں وہ مقامی نوعیت کے ہوتے کیونکہ بہت سے لوگ ویب سائٹ کو نہیں دیکھ پاتے مگر اسی دوران کسی دوسرے ملک میں وہ سائٹ نظر آ رہی ہوتی ہے۔فیس بک اور اس کی ایپس کی یہ بندش عالمی نوعیت کی تھی اور اس نے فیس بک سے جڑے تمام ہی کاروبار یا ایپس کو متاثر کیا ہے۔اس بندش کا وقت بھی غیر معمولی نوعیت کا تھا اور فیس بک کے ہیڈ کوارٹرز میں بھی خرابی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔اس بندش نے فیس بک کے ٹیکنیشنز کو بھی امتحان میں ڈال دیا اور طویل تعطل نے فیس بک کی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا اور اس کے اپنے تمام وسائل بھی مسئلے کے حل میں ناکامی سے دوچار رہے۔یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ فیس بک کا بیان بہت احتیاط سے لکھا گیا تھا جس میں کسی نامناسب حرکت کے امکان کو رد نہیں کیا گیا ہے۔جب فیس بک سے متعلق کیے جانے والے انکشافات سامنے لانے والی وسل بلور اپنے آپ کو منظر عام پر لائیں تو اس وقت سے ہی اس ہفتے کا آغاز فیس بک کے لیے برا ہوا تھا۔اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر، جس کی سروسز مکمل طور پر بحال رہیں، فیس بک اور دیگر سائٹس پر ہونے والی تنقید اور طنز کا گڑھ بن گیا اور صارفین نے مذاحیہ میمز کی مدد سے بندش کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔جب فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام گہری نیند سو رہے تھے تو ایسے میں ٹوئٹر انتظامیہ نے مناسب سمجھا کہ وہ نئے صارفین سمیت تمام لوگوں سے علیک سلیک کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں